مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کا سانحۂ ارتحال اور ایک حسرتِ ناتمام
کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ أُجُوۡرَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ۖ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدۡخِلَ الۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ۗ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ إِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡر(سورۃ آل عمران: 185) موت و حیات کے تماشے اس سرائے فانی میں مشیتِ ایزدی سے ہمہ وقت وجود پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ عدم کی تیرگی سے وجود کے اجالے … مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کا سانحۂ ارتحال اور ایک حسرتِ ناتمام پڑھنا جاری رکھیں
کاپی اور ایمبیڈ کرنے کے لیے اپنی WordPress سائٹ میں یہ یوآرایل پیسٹ کریں
اپنی ویب سائٹ میں ایمبیڈ کرنے کے لیے اس کوڈ کو کاپی اور پیسٹ کریں