Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

سیرتِ نبویﷺ اور سائبر اخلاقیات

موجودہ دور میں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور فوری پیغام رسانی کے وسائل نے دنیا کو ایک ایسی عالمی بستی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں چند سیکنڈ کے اندر ایک خبر، تصویر، ویڈیو یا تحریر لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے۔

مضمون نگار:فضیل  اختر قاسمی بھیروی

انسانی تاریخ کے ہر دور میں ذرائعِ ابلاغ نے معاشروں کی تعمیر و تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور فوری پیغام رسانی کے وسائل نے دنیا کو ایک ایسی عالمی بستی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں چند سیکنڈ کے اندر ایک خبر، تصویر، ویڈیو یا تحریر لاکھوں افراد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس غیر معمولی سہولت نے جہاں علم، دعوت، تعلیم اور باہمی روابط کے بے شمار راستے کھولے ہیں، وہیں اخلاقی انحطاط، جھوٹی خبروں کی اشاعت، کردار کشی، تہمت، غیبت، بدزبانی، پرائیویسی کی پامالی اور نفرت انگیز مہمات جیسے شدید خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ یہی وہ میدان ہے جسے سائبر اخلاقیات کہا جاتا ہے۔

اسلام کا تصورِ اخلاق کسی خاص زمانے یا وسیلے تک محدود نہیں۔ اسلام انسان کو ہر حال میں سچائی، دیانت، عدل، امانت اور زبان و قلم کی پاکیزگی کا پابند بناتا ہے۔ ذرائع بدل سکتے ہیں، انسان کی اخلاقی ذمہ داریاں نہیں بدلتیں۔ اگر زبان سے ادا کیا گیا ایک لفظ قابلِ مواخذہ ہے، تو کی بورڈ سے لکھا گیا جملہ اور سوشل میڈیا پر کی گئی اشاعت بھی بارگاہِ الٰہی میں جواب دہی سے خارج نہیں۔رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ آپؐ نے بشریت کو ایسا اخلاقی ضابطہ عطا فرمایا جو ہر عہد کے نئے حالات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ اگرچہ سائبر دنیا کا وجود عہدِ نبوی میں نہیں تھا، مگر اس دنیا میں پیش آنے والے ہر اخلاقی مسئلے کی بنیاد انسانی کردار سے متعلق ہے، اور انسانی کردار کی کامل تربیت سیرتِ نبوی ﷺ کا نمایاں وصف ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾

"یقیناً آپ بلند ترین اخلاق پر فائز ہیں۔” (سورۃ القلم: 4(

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ

"آپ ﷺ کا اخلاق سراپا قرآن تھا۔” (صحیح مسلم: 746(

علامہ اقبال نے اسی حقیقت کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے:

کہ  محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

سائبر اخلاقیات سے مراد وہ اخلاقی اصول اور ضابطے ہیں جو انٹرنیٹ اور الیکٹرانک ذرائع کے استعمال میں انسان کے رویے کو درست سمت عطا کریں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کی بنیاد قرآن و سنت میں موجود ہے۔ پہلے زبان اور مجلس کے ذریعے معاملات انجام پاتے تھے، آج یہی امور کمپیوٹر اور موبائل کے ذریعے انجام پا رہے ہیں۔ قرآنِ کریم نے انسان کو اپنے ہر قول و فعل پر باخبر رہنے کی ہدایت فرمائی ہے:

﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾

"انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے، اس پر ایک نگران فرشتہ موجود ہوتا ہے۔” (سورۃ ق: 18)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ

"جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ فرمان ڈیجیٹل دنیا میں ہر پوسٹ، تبصرے اور پیغامات کی اشاعت کے لیے ایک زریں اصول پیش کرتا ہے۔خبر کی صحت اور ابلاغ کی ذمہ داری پر سیرتِ نبوی ﷺ نے سخت تاکید فرمائی ہے۔ غیر مصدقہ معلومات کو آگے بڑھانے سے منع کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:

كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ

"آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات آگے بیان کرتا پھرے۔” (صحیح مسلم)

قرآنِ کریم کا بھی یہی حکم ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾

"اے ایمان والو! اگر کوئی نافرمان تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔” (سورۃ الحجرات: 6)

سائبر فضا میں کسی کی ذات کو نشانہ بنانا، نجی زندگی کا افشا کرنا، تمسخر اڑانا اور تحقیر آمیز تبصرے کرنا انسانی وقار کے منافی ہے۔ اسلام نے انسانی احترام کو اعلیٰ مقام دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ﴾

"اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔” (سورۃ الحجرات: 11)

نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجة الوداع کے موقع پر فرمایا:

إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ

"تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر حرام ہے۔” (صحیح بخاری: 1739، صحیح مسلم: 1679)

دوسروں کے عیوب کی تلاش اور رازداری کی پامالی کے حوالے سے قرآنی ارشاد ہے:

﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾

"اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو۔” (سورۃ الحجرات: 12)

نبی کریم ﷺ نے اس رویے سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:

يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ… لَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ

"…مسلمانوں کے عیوب تلاش نہ کرو، اس لیے کہ جو اپنے بھائی کے عیوب تلاش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عیوب ظاہر فرما دیتے ہیں۔” (سنن ابی داود: 4880)

آن لائن بحث و مباحثے کے دوران اخلاقی شائستگی قائم رکھنا اشد ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مخالفین سے بھی ہمیشہ وقار اور نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ﴾

"اللہ کی رحمت ہی کے سبب آپ ان کے لیے نرم مزاج بن گئے۔” (سورۃ آل عمران: 159)

 داغ دہلوی کا مشہور و معروف شعر اسی فکر کی ترجمانی کرتا ہے:

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے

ڈیجیٹل وسائل جہاں خطرات رکھتے ہیں، وہیں یہ دعوت و اصلاح کا وسیع میدان بھی فراہم کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے بازاروں، حج کے اجتماعات اور سلاطین کو مکتوبات کے ذریعے دین پہنچایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر عہد کے جائز ذرائع کو خیر کے فروغ کے لیے استعمال کرنا سنت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾

"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت، عمدہ نصیحت اور بہترین انداز سے دعوت دیجیے۔” (سورۃ النحل: 125)

دعوتی کاوشوں میں آسانی اور خیرخواہی کا پہلو غالب رہنا چاہیے، جیسے کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:

يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا

"آسانی پیدا کرو، دشواری پیدا نہ کرو، خوش خبری دو اور نفرت پیدا نہ کرو۔” (صحیح بخاری: 69، صحیح مسلم: 1734)

علمی امانت کو ملحوظ رکھنا اور نقل و اشاعت میں دیانت داری برتنا لازمی دینی امر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾

"حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ۔” (سورۃ البقرۃ: 42)

اسی طرح انٹرنیٹ پر وقت کی قدر و قیمت کا احساس بھی ضروری ہے۔ ارشادِ نبوی ﷺ ہے:

نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ

"دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔” (صحیح بخاری: 6412)

سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی حاصل کر کے جب سچائی، دیانت، عزتِ انسان، رازداری اور حسنِ گفتگو کو ڈیجیٹل زندگی کا حصہ بنایا جائے گا تو جدید ٹیکنالوجی معاشرتی اصلاح اور خیر کی اشاعت کا مضبوط ذریعہ ثابت ہوگی۔

علامہ اقبال نے انسانیت کی رہبری اور فکری بیداری کا پیغام دیتے ہوئے کہا تھا:

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا  جائے گا  تجھ  سے  کام  دنیا  کی  امامت کا

What do you think?