الازہر الشریف نے نیویارک شہر کے ایک چرچ میں ایک امریکی انتہا پسند کی جانب سے قرآن مجید کے ایک نسخے کو پھاڑنے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ الازہر نے اس واقعے کو انتہا پسندی اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو جان بوجھ کر مجروح کرنے کی کوشش قرار دیا۔
الازہر نے واضح کیا کہ اس واقعے کو کسی بھی صورت میں آزادیٔ اظہار کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ الازہر کے مطابق آزادیٔ اظہار کو دوسروں کے مذہبی عقائد، مقدسات اور مذہبی علامات کی توہین کے لیے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
الازہر نے سخت لہجے میں کہا کہ نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف نرمی ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔ اس نے زور دیا کہ مذہبی مقدسات کا احترام اور نفرت و اشتعال انگیزی سے لوگوں کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے
