Nahda Network
Breaking News

نایاب نہیں، کم یاب ہیں وہ

منحنی جسم، میانہ قد، متناسب اعضاء، کشادہ پیشانی جس سے خود اعتمادی اور بلند طالعی نمایاں، روشن آنکھیں جن سے ذہانت و فطانت عیاں، ہلکی مگر شرعی داڑھی، سر پر چھوٹے چھوٹے بال، سادگی کا پیکر، فروتنی کا رمز، چہرے پر معصومیت کا نور، نہ تسبیح کی جھنکار، نہ ہُوْ حق کی للکار، نہ سر پر لمبی دستار، لیکن روشن ضمیر و باتدبیر؛ یہ ہیں حسن و کمال سے آراستہ، سرزمینِ بہار میں نقشبندیت کے بدرِ منیر اور ظلمتوں کے شبِ دیجور میں نیم روز مہرِ عرفانِ رب کی تنویر، زبدۃ العارفین، شیخِ طریقت، حضرت حافظ مولانا الحاج "شمس الہدیٰ” صاحب نقشبندی مجددی مظہری دامت برکاتہم العالیہ۔

والدِ ماجد، مولانا حسیب الرحمن ندوی قاسمی مدظلہ العالی، کے بقول، 2010ء یا 2011ء سے ہنوز اس مشتِ خاک کو حضرت سے نیاز کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ اللهم زد فزد۔

پہلی یادیں اور ابتدائی تعلق
میری زندگی کا وہ بہت مبارک دن اور بڑی سعید گھڑی تھی، جب حضرت کی خدمتِ اقدس میں باریابی کا شرف حاصل ہوا۔ بالضبط یہ یاد نہیں کہ حضرت سے پہلی بار کب اور کہاں ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا، البتہ والدِ محترم کے بقول اس وقت میری عمر دس یا گیارہ سال ہوگی۔ اس صغرِ سنی میں حضرت کی ظاہری شکل و صورت تو یاد رہی، لیکن روحانی اور باطنی کمالات سے واقفیت و ادراک کے لیے محض کبرِ سنی ہی کیا، چشمِ بصیرت اور طویل صحبت چاہیے؛ جو راقمِ سطور میں مفقود و معدوم ہے، اس لیے اس کا تذکرہ مؤخر کیا جاتا ہے۔ اگر زندگی نے موقع و فرصت کے لمحات بخشے تو ان شاء اللہ آئندہ سپردِ قرطاس کیا جائے گا۔

البتہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آپ کے پیر و مرشد، یادگارِ نقشبند، حضرت الحاج منظور احمد مصرولویؒ، آپ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے: "ایک بنایا مگر اپنے سے اچھا بنایا، اگر قیامت کے دن اللہ پوچھے گا دنیا سے کیا لائے؟ تو مولوی شمس الہدیٰ کو میں پیش کروں گا۔”

مزاج و اوصاف
آپ بڑے نرم مزاج، کشادہ قلب، وسیع الظرف اور مرنجا مرنج طبیعت کے مالک ہیں۔ ہر ایک سے گھل مل کر رہنا پسند ہے، بیجا تکلف سے پرہیز کرتے ہیں۔ حسنِ طبیعت لے کر پیدا ہوئے ہیں، مزاج میں خشکی چھوکر نہیں گزری ہے۔ خندہ جبینی، شیریں زبانی اور شگفتہ بیانی مجلس کو باغ و بہار بنا دیتی ہے۔ بڑے فیاض، مہمان نواز، علم دوست شخصیت کے حامل اور سر تا پا محبت ہی محبت ہیں؛ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کسی کو ضرر پہنچانے کا تصور بھی نہیں رکھتے۔

باتیں معصومانہ، انداز محبوبانہ، محبوبیت تو آپ کے اندر گویا کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ شرافتِ خاندانی پیشانی سے جھلکتی بلکہ چھلکتی ہے۔ اس لیے اس خاکسار کو آپ کی صحبتِ مبارک میں بہت سکون و قرار اور کیف و لطف ملتا ہے، اور بے اختیار خواجہ "حالیؔ” مرحوم (1837ء–1915ء) کا یہ مشہور مصرع یاد آتا ہے:
بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی

آپ کی اصلاح کا انداز بھی اسی محبت و شفقت سے عبارت ہے۔ لوگوں کی کمزوریوں پر محض گرفت کرنے کے بجائے محبت سے سمجھانا اور اصلاح کرنا طبیعت کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ عام سے عام آدمی کو بھی اہمیت و عزت دینا، شریعت و طریقت کے درمیان اعتدال و توازن قائم رکھنا، اور ذکر و اصلاح کے ساتھ علم و ادب سے گہرا تعلق رکھنا شخصیت کے وہ پہلو ہیں جو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔

محبت و شفقت کی چند جھلکیاں
چند بار ایسا بھی ہوا کہ حضرت کی خدمت میں حاضری ہوئی اور سلام و کلام کے بعد میری طرف اشارہ کرتے ہوئے مجلس میں موجود دوسرے لوگوں سے فرمایا: "آپ ان کو جانتے ہیں؟ یہ مولانا حسیب الرحمن ندوی صاحب کے فرزند ہیں۔” حضرت کی اس شفقت اور والدِ محترم سے نسبت کے لحاظ کا انداز اس خاکسار کے لیے ہمیشہ باعثِ مسرت رہا ہے۔

ایک مرتبہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور خاموشی سے بیٹھ گیا، مصافحہ نہیں کیا۔ اس خیال سے کہ بسا اوقات حضرت کی طبیعت ناساز ہوتی ہے اور باہر سے آنے والے مسافروں سے مصافحہ نہ کرنا مناسب سمجھا جاتا ہے، میں نے شاید مصافحے سے گریز کیا۔ حضرت نے فرمایا: "مصافحہ نہیں کریں گے؟” یا شاید مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا؛ اب بالضبط یاد نہیں۔ بہرحال میں فوراً آگے بڑھا اور حضرت سے مصافحہ کیا۔ یہ بظاہر ایک معمولی سا واقعہ ہے، لیکن بے تکلفی، شفقت اور اپنائیت کی ایک خوب صورت جھلک اس میں نظر آتی ہے۔

حضرت کی شفقت و محبت کا ایک اور انداز یہ تھا کہ کم عمری میں جب خدمت میں حاضری ہوتی تو کبھی کبھی کھانے پینے کی کوئی چیز میری طرف بڑھاتے اور فرماتے: "لیجیے، کھائیے!” آج بھی جب خدمت میں حاضری ہوتی ہے تو دسترخوان پر میری طرف خاص توجہ فرماتے اور محبت و شفقت کا اظہار کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمر بڑھ جانے کے باوجود حضرت کی وہ بے تکلف محبت اور اپنائیت آج بھی اسی طرح قائم ہے۔

سادگی اور طرزِ زندگی
دست میں عصا، بائیں کلائی میں سیاہ چرمی بیلٹ والی سفید ڈائل کی گھڑی، موسمِ گرما میں سر پر دوپلی کپڑے کی ٹوپی، سفید سوتی کرتا، سفید سوتی لنگی، سفید رومال اور پاؤں میں چمڑے کی چپل؛ موسمِ سرما میں سر پر دھاگے کی گول سیاہ ٹوپی، مفلر کی پگڑی، باریک اون کی بنڈی جس کے بٹن کھلے ہوئے، کشمیری جبہ، خفین اور فوم کی چپل؛ یہ ہے حضرت کے معمول کے لباس کی ایک تصویر۔ اسی سادہ اور بے تکلف زندگی کے دوران حضرت سے متعدد بار اس حقیر کو تلاوتِ قرآن پر نقد انعام مل چکا ہے۔

حضرت سے تلاوتِ قرآن پر نقد انعام ملنے کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت نے پچاس روپے کا ایک نوٹ عنایت فرمایا۔ والد صاحب نے وہ نوٹ محفوظ کرکے اس جگہ رکھ دیا جہاں گھر میں رقم رکھی جاتی تھی۔ والدِ محترم کے بقول، جب تک وہ نوٹ وہاں موجود رہا، گھر میں تنگ دستی کا گزر نہ ہوا۔ اتفاق سے معلوم نہیں وہ نوٹ کیسے خرچ ہوگیا، اس کے بعد پھر برکت کا وہ سلسلہ باقی نہ رہا۔ والدِ ماجد کے نزدیک یہ حضرت کی برکت کا ایک قابلِ ذکر واقعہ تھا۔

کبھی آپ ان کو اپنے سسرال "بھلنی، دربھنگہ” کی پرانی مسہری پر مسند نشیں ہو کر مردہ دلوں میں شریعت اور طریقت کی روح پھونکتے ہوئے پائیں گے، تو کبھی آبائی وطن "راجو، دربھنگہ” کی کاخِ فقیری میں جلوہ افروز ہو کر لوگوں کے سرد دلوں کو ایمان و ایقان کی حرارت سے گرماتا ہوا دیکھیں گے، اور کبھی "گوری، سیتامڑھی” میں فرشی بستر پر لیٹے ہوئے نورِ نبوت سے لوگوں کے تاریک دلوں کو روشن کرتا ہوا محسوس کریں گے؛ ان مجلسوں میں اس فقیر کو بھی حاضری کی سعادت حاصل ہوتی رہتی ہے۔

علمی و ادبی ذوق
آپ علمی اور ادبی ذوق کے حامل ہیں، اردو ادب میں اچھا مذاق رکھتے ہیں، اور اللہ نے آپ کو سخن شناسی و سخن سنجی کی صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے۔ آپ شعر و شاعری اور افسانہ نگاری بھی کیا کرتے تھے۔ آپ کے اسلوبِ تحریر میں سلاست اور سہولت کے ساتھ ساتھ سادگی ہوتی ہے۔ اب تک آپ کی چار کتابیں منظرِ عام پر آ کر قارئین سے خراجِ تحسین حاصل کر چکی ہیں:

(1) اوراد و وظائف:
122 صفحے پر مبنی یہ کتاب دراصل اوراد و ادعیہ کا ایک مجموعہ ہے، جس میں حضرت نے خصوصاً اپنے شیخ، قدوۃ السالکین، حضرت حاجی منظور احمد صاحب مصرولویؒ کے معمولات، مشائخِ نقشبندیہ کے وظائف، دیگر بزرگانِ دین کے اوراد و ادعیہ اور مسنون دعاؤں کو مرتب کیا ہے۔

(2) الاکلیل:
414 صفحات پر مبسوط یہ تصنیفِ لطیف قطب الاقطاب حضرت مولانا بشارت کریم، حضرت شاہ نور اللہ عرف پنڈت جی، حضرت مولانا احمد حسن صاحب منوروی اور حضرت الحاج منظور احمد صاحب مصرولوی رحمہم اللہ کی سوانحِ عمریوں پر مشتمل ہے۔ حضرت کے علاوہ دیگر متعدد حضرات کی تحریریں بھی اس تصنیف کی زینت ہیں۔

(3) سیر الصالحین:
اس ضخیم کتاب میں سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ مظہریہ سے وابستہ اولیاء کرام کے حالاتِ زندگی، معمولات اور ملفوظات کا بالترتیب بیان ہے۔ کتاب کی ابتدا حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی سوانح سے ہوتی ہے اور انتہا حضرت حاجی منظور احمد صاحب مصرولویؒ پر ہوتی ہے۔ 493 صفحات پر محیط اس کتاب میں خاص طور پر حضرت بہاؤ الدین نقشبند، حضرت امام ربانی مجدد الفِ ثانی، عروۃ الوثقیٰ خواجہ معصوم، حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں اور حضرت غلام علی دہلوی رحمہم اللہ کے حالات، معمولات، فرمودات، فیوضاتِ ظاہریہ و باطنیہ اور کارناموں کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

(4) وقائع اخیار:
480 صفحات پر مشتمل حضرت کی یہ تالیفِ انیق متنوع قسم کے مضامین پر منقسم ہے، کیوں کہ اس میں آپ نے اپنی بقیہ تحریروں کو جمع کیا ہے، جو مذکورہ تین کتب میں شائع ہونے سے رہ گئی تھیں۔ مزید اس کتاب میں مولانا بشیر احمد موہانیؒ کی تخلیق کردہ نعت کا مجموعہ شامل ہے۔ کتاب کا ایک بڑا حصہ بزرگوں کے مکتوبات پر مشتمل ہے، جیسے حضرت شاہ نور اللہ عرف پنڈت جی، حضرت شاہ زید ابو الحسن فاروقی مجددی، حضرت شاہ محمد اللہ رحمہم اللہ وغیرہ کے لکھے گئے خطوط۔ ان خطوط میں بزرگوں کے حالات ملتے ہیں۔ کتاب کا ایک باب حافظ وصی احمد زید مجدہ کا تحریر کردہ ہے، جس میں حضرت صاحبزادہ ابو النصر انس فاروقی مجددی مظہری دام ظلہ کے سفرِ بہار کا مفصل ذکر، مؤلفِ موصوف مدظلہ اور آپ کے شیوخ رحمہم اللہ سے متعلق بہت سی معلومات مذکور ہیں۔

حضرت کے علمی و روحانی ذوق کی ایک جھلک خود ان کی تحریر سے ملاحظہ فرمائیے۔ سیر الصالحین کے صفحہ نمبر 49 پر رقم طراز ہیں:
"بے حد و بے حساب حمد و ثنا اس ذاتِ پاک کے لیے ہے، جس نے تنزلاتِ ستہ سے ہم کمترین کو اپنی نوازشات سے نوازا اور عدم سے وجود میں لایا اور بے شمار نعمتوں سے نوازا، بوسیلۂ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی معرفت کے دریا سے ایک قطرہ پلایا، تعینات کے پردے اٹھا کر انوار کے ظہور میں ہمارے وہم و خیال کو دور فرمایا اور "هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ” کے انوار و تقدس پرنور کی جھلک دکھلائی اور ہر قسم کی تسبیحات اور تہلیل کا علم دے کر اپنی محبت و معرفت کی کرنوں میں ہم کو اپنا دیوانہ بنایا۔”

ان تصانیف سے حضرت کے علمی و ادبی ذوق کے ساتھ اپنے مشائخ، اکابر اور سلسلۂ نقشبندیہ کی علمی و روحانی روایت کو محفوظ رکھنے اور اسے آگے پہنچانے کی فکر بھی نمایاں ہوتی ہے۔

سوانحی خاکہ

ولادت و ابتدائی زندگی:
آپ کی ولادتِ باسعادت، سرٹیفکیٹ کے اعتبار سے 1938ء ہے؛ تاہم اصل ولادت اس سے قبل کی ہے۔ وطن راجو، دربھنگہ ہے۔ والدِ مرحوم کا اسمِ گرامی عبدالسلام تھا، جو طبعاً مذہبی و دیندار شخص تھے اور شاہ محی الدین پھلواری شریف سے بیعت تھے۔ اوراد و وظائف کا بڑا اہتمام کرتے تھے۔ والدۂ مرحومہ نہایت نیک، صابرہ، شاکرہ، لڑائی جھگڑے سے کوسوں دور اور کم سخن خاتون تھیں۔ ایک ہمشیرہ اور آپ سمیت تین بھائی ہیں۔ سب کی تعلیم و تربیت میں والدۂ مرحومہ کا قابلِ تحسین کردار رہا ہے۔

تعلیم و تعلیمی اسناد:
آپ کی تعلیم کا آغاز اپنے گاؤں ہی سے ہوا، جہاں آپ نے مولوی احمد سعید صاحبؒ ساکن پاکٹولہ، دربھنگہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ پھر مرحوم عبد الجبار صاحب ساکن راجو کے پاس پارہ عم ختم کیا۔ بعد ازاں مدرسہ حمیدیہ قلعہ گھاٹ، دربھنگہ میں حافظ یسین صاحبؒ کے پاس حفظ کا آغاز کیا، جس کی تکمیل مدرسہ نصرت الاسلام، مدھوبنی میں ہوئی۔ اسی مدرسہ میں آپ نے ابتدائی عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ میں عربی ادب اور مدرسہ چشمۂ رحمت، غازی پور میں درجۂ عالمیت کی تعلیم حاصل کی۔ 1955ء میں کننگ یونیورسٹی، لکھنؤ سے عربی ادب میں فاضل ادب کی ڈگری ملی۔ 1956ء میں الہ آباد مدرسہ بورڈ سے اردو میں فاضل کی سند لی۔ 1959ء میں ملت کالج، دربھنگہ سے انٹر اور 1961ء میں بی اے پاس کیا، جب کہ 1963ء میں ایل ایس کالج، مظفر پور، بہار سے ایم اے کیا۔

تدریسی خدمات:
1957ء میں مدرسہ چشمۂ رحمت، غازی پور میں ایک سال عربی کے استاد اور پھر 1962ء سے 1991ء تک بی ایل سی ہائر سیکنڈری اسکول، رائے پور میں مقبول و محبوب ٹیچر رہے۔

ازدواجی زندگی:
جناب کلیم صاحب ساکن "بھلنی، دربھنگہ” کی دختر نیک اختر بی بی کنیز فاطمہ نرگس سے 1962ء میں عقد و نکاح ہوا اور جون 1965ء میں شادی کی تقریب عمل میں آئی۔ ویسے تو آپ کی کوئی اپنی اولاد نہیں ہے، البتہ روحانی اولاد کا دائرہ بہت وسیع ہے۔

بیعت و خلافت:
5 فروری بروز چہار شنبہ (بدھ) 1969ء میں قدوۃ السالکین حضرت حاجی منظور احمد صاحب مصرولویؒ سے بیعت کا شرف حاصل ہوا، 1396ھ (1976ء تقریباً) میں آپ سے اجازت و خلافت ملی۔ ان کے انتقالِ پُرملال کے بعد، ان ہی کی وصیت کے مطابق، آپ نے حضرت مولانا زید ابو الحسن فاروقیؒ، خانقاہِ مظہریہ، سے اصلاحی تعلق قائم کیا اور پھر ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا شیخ محمد اللہ خان صاحب رامپوریؒ سے بیعت و ارشاد کا سلسلہ رہا۔

اصلاحی و روحانی خدمات:
1396ھ سے آج تک آپ کی اجازت و خلافت کو نصف صدی گزر چکی ہے۔ اس دوران بے شمار لوگوں نے آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی سعادت حاصل کی، ان گنت گم کردہ راہوں کو آپ نے راہِ حق پر لگایا اور ہنوز اپنی ضیاء پاشیوں سے تاریک دلوں کو روشنی بخش رہے ہیں۔ اللہ آپ کے سایۂ عاطفت و شفقت کو سدا بہار رکھے اور آپ کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔

اس ناچیز کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ آپ جیسی مبارک ہستی سے خدائے لم یزل ولا یزال نے شرفِ نیاز حاصل کرتے رہنے کا سنہرا موقع عنایت فرمایا ہے۔ اللہ مزید استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔

بلاشبہ ایسی جامع صفات رکھنے والی شخصیات کا اس زمانے میں ملنا آسان نہیں۔ محبت و شفقت کے ساتھ اصلاح کرنے والے، معمولی سے معمولی آدمی کو بھی اہمیت دینے والے، شریعت و طریقت میں توازن رکھنے والے اور ذکر و اصلاح کے ساتھ علم و ادب سے بھی گہرا تعلق رکھنے والے اہلِ دل آج قحط الرجال کے اس زمانے میں واقعی کم یاب ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ شاد عظیم آبادیؔ (1864ء–1927ء) کے درج ذیل معروف شعر کے مصداق ہیں (اصل شعر میں معمولی لفظی تبدیلی کے ساتھ):
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ قدر کرو، نایاب نہیں، کم یاب ہیں وہ

أحبُّ الصالحين ولستُ منهمُ
لعلَّ اللهَ يرزقني صلاحًا

نوٹ: یہ مضمون حضرت کی مذکورہ چاروں مطبوعہ کتب کی روشنی میں اور راقم کے ذاتی مشاہدات و تاثرات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے

Husain Ahamad
About the Author

Husain Ahamad

NAHDA Network contributor covering stories, developments and perspectives that matter to our readers.

View all stories →

What do you think?