اترپردیش/سہارنپور:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بورڈ کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی کی قیادت میں 9 ستمبر 2026 کو سہارنپور کا دورہ کیا۔ وفد نے کلکٹریٹ احاطے میں واقع قدیم مسجد کی مسماری کے واقعے کا جائزہ لیا اور متعلقہ افراد سے ملاقاتیں کیں۔
وفد نے مسجد کی مسماری سے متعلق قانونی و انتظامی صورتِ حال، زمین کی ملکیت، وقف کی حیثیت اور آئندہ کی قانونی حکمت عملی کے سلسلے میں متعلقہ افراد اور وکلا سے تفصیلی مشاورت کی۔
وفد میں بورڈ کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی کے علاوہ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ڈاکٹر عبد المالک مغیثی اور دیگر افراد شامل تھے۔
وکلا اور مسجد کے ذمہ داران سے ملاقاتیں
وفد نے ضلعی سطح پر مقدمے کی پیروی کرنے والے وکلا، ہائی کورٹ کے سینئر وکلا، مسجد کے متولی کے وکیل تنویر احمد اور شہر قاضی ندیم اختر سے بھی ملاقات کی۔
ملاقاتوں میں مسجد کی مسماری، زمین کی ملکیت، وقف کی رجسٹریشن، انتظامی کارروائیوں اور آئندہ ممکنہ قانونی اقدامات پر گفتگو ہوئی۔
مشاورت کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی زمین کی ملکیت اور قانونی حیثیت کا باقاعدہ اور مکمل تعین ضروری ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق 16 جولائی کو ممانعت کا حکم جاری کیا گیا تھا، جسے 24 جولائی کو جاری کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 2 ستمبر کو مذکورہ ممانعتی حکم واپس لیے جانے یا منسوخ کیے جانے کے بعد مسجد کو منہدم کیا گیا۔
وفد نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب معلومات کی حد تک کسی مجاز عدالت کی جانب سے مسجد کو منہدم کرنے کا براہِ راست حکم سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم وفد نے واضح کیا کہ معاملے کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالتی ریکارڈ، سرکاری دستاویزات اور دیگر شواہد کے مکمل جائزے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
وفد کے مطابق انتظامیہ کی کارروائی کا جائزہ قانونی طریقۂ کار، ملکیتی حقوق، وقف قانون اور آئینی دفعات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ آیا متعلقہ حکام نے اپنے قانونی اختیارات کی حدود سے تجاوز کیا یا اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔
ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ
مشاورت کے بعد انتظامیہ کی کارروائی کو چیلنج کرنے کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ میں نئی قانونی کارروائی شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
قانونی ٹیم مسجد کی حیثیت، زمین کی ملکیت، وقف ریکارڈ، متعلقہ عدالتی احکامات اور انتظامی کارروائیوں سے متعلق تمام دستیاب دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔
وفد کے مطابق ممکنہ قانونی مطالبات اور نکات میں مسجد کی دوبارہ تعمیر، ذمہ دار افسران یا دیگر متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی، شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آر کا اندراج، زمین کی ملکیت کا تعین اور وقف دستاویزات کا جائزہ شامل ہو سکتا ہے۔ ان مطالبات پر حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت یا مجاز قانونی اتھارٹی کرے گی۔
فوری قانونی مدد کے لیے مستقل سیل کی تجویز
شہر قاضی ندیم اختر نے وفد کو بتایا کہ مسجد کی مسماری کی رات ہی انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا، صدرِ جمہوریہ، گورنر اور دیگر متعلقہ حکام کو فوری طور پر ای میل بھیجی تھی۔ ان پیغامات میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ عدالتی کارروائی جاری رہنے کے دوران انتظامیہ مسجد کو منہدم کر سکتی ہے۔
انہوں نے مستقبل میں مساجد، وقف املاک اور مذہبی اداروں سے متعلق ایسے معاملات میں فوری قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے بورڈ کے تحت ایک مستقل سیل، پلیٹ فارم اور ہیلپ لائن قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
بورڈ کے سکریٹری مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی اور ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کی قیادت میں وفد نے پریس کانفرنس بھی کی۔
وفد نے متاثرہ افراد، مسجد کے متولی اور دیگر متعلقہ افراد کو ہر ممکن قانونی، اخلاقی اور تنظیمی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاملے کو منصفانہ، آئینی اور قانونی طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا اور مسجد اور اس کی وقف املاک کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔
