نئی دہلی: بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعہ کو نئی دہلی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے تقریباً 45 منٹ تک دوطرفہ ملاقات کی۔ یہ ملاقات برکس سربراہی اجلاس کے آغاز سے ایک روز قبل ہوئی۔
ملاقات میں تجارت، توانائی اور دفاعی تعاون سمیت بھارت اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔
روس بھارت کے لیے خام تیل کے بڑے سپلائرز میں شامل ہے۔ اگست میں روسی تیل کی بھارتی درآمدات میں کمی آئی، تاہم بھارت نے اس کے باوجود روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل درآمد کیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 2030 تک 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ مالی سال 2024-25 میں بھارت اور روس کے درمیان تجارت تقریباً 70 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
دفاعی تعاون بھی مذاکرات کا ایک اہم موضوع بن سکتا ہے، جس میں روسی Su-57 پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے سمیت جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور فوجی تعاون سے متعلق تجاویز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان شہری جوہری تعاون، اہم معدنیات اور توانائی کے تحفظ جیسے معاملات بھی زیرِبحث آنے کا امکان ہے۔
مودی اور پوتن کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب برکس سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما عالمی اور علاقائی امور کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون پر بھی غور کریں گے۔
