ایران کی حمایت یافتہ حوثی جماعت نے سعودی عرب میں نئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ یمن کے مغربی ساحل پر بھی اس کی پیش قدمی جاری ہے۔ اس صورتِ حال نے خطے میں کشیدگی میں اضافے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور سمندری راستوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رویٹرز کے مطابق حوثی گروپ نے اعلان کیا کہ اس نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے خمیس مشیط میں ایک فوجی اڈے کی جانب درجنوں میزائل اور ڈرون داغے۔ گروپ کے مطابق حملوں میں فوجی تنصیبات، ریڈار نظام، رن وے اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں نے ان حملوں کو یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے۔
دوسری جانب سعودی حکام نے ملک کے جنوبی علاقوں میں ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے مطابق حوثیوں کے حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں فوجی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں اور حوثی بحیرۂ احمر کے سامنے واقع یمن کے مغربی ساحل پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بحری آمدورفت کی سلامتی کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں تازہ کشیدگی نے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق تشویش بھی بڑھا دی ہے۔ مشرقی سعودی عرب سے بحیرۂ احمر کے ساحل تک جانے والی پائپ لائن ملک کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی کچھ مقدار برآمد کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔
اسی دوران خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان خطے کی صورتِ حال اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث خدشہ ہے کہ بحران مزید پھیل سکتا ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق حوثیوں کے مسلسل حملوں اور یمن میں ان کی فوجی پیش قدمی کے ساتھ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو مشکل فیصلوں کا سامنا ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں کہ تنازع مزید محاذوں اور اہم بحری راستوں تک نہ پھیلے۔
ماخذ: رائٹرز
