Nahda Network
Breaking News

یمن میں کشیدگی کم کرنے کی امریکی کوششیں، حوثی مسلح گروپ اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ برقرار

US Vice President JD Vance discusses developments in Yemen
The United States is seeking to contain the rapidly escalating military situation in Yemen as fighting between the Iran-aligned Houthi movement and Saudi Arabia intensifies, raising concerns over the security of the Red Sea, the Bab el-Mandeb Strait and global energy supplies.photo:CNN

نہضہ نیٹ ورک — خصوصی رپورٹ

یمن میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان امریکہ صورتحال کو قابو میں رکھنے اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انصار اللہ (حوثیوں) اور سعودی عرب کے درمیان فوجی جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے اور بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بحری سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن نے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی کارروائی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے، تاہم امریکہ نے سعودی افواج کو انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کی نشاندہی میں معاونت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کی حمایت کرنا ہے، جبکہ امریکہ خود یمن میں ایک نئی براہِ راست فوجی محاذ آرائی میں شامل ہونے سے گریز کر رہا ہے۔

اسی دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کی، جس میں خطے کی تازہ سکیورٹی اور فوجی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سعودی عرب پر حوثیوں کا نیا حملہ

دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرونز سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق حملے میں طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔

حوثیوں نے اس کارروائی کو یمن میں سعودی فضائی حملوں کے جواب کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم حملے سے ہونے والے نقصانات اور جانی نقصان کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

امریکہ اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست رابطہ

اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے یمن کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے حوثیوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی ہے۔

وینس نے بحیرۂ احمر کی صورتحال پر واشنگٹن کی تشویش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے جزیرہ میون پر حوثیوں کے قبضے پر بھی تشویش ظاہر کی، جو باب المندب کے قریب اپنی انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

باب المندب اور عالمی تجارت کو خطرات

یمن میں جاری کشیدگی نے باب المندب کی اہمیت کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ سمجھی جاتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں امریکہ ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ایک طرف وہ سعودی عرب کی سلامتی اور خطے میں بحری و توانائی کے راستوں کے تحفظ کی حمایت کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کر کے تنازع کو مزید وسیع ہونے سے روکنا چاہتا ہے۔

اگر فوجی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف یمن اور سعودی عرب تک محدود رہنے کے بجائے بحیرۂ احمر، باب المندب اور عالمی توانائی کی منڈیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ماخذ: رائٹرز، الجزیرہ

Ahmad
About the Author

Ahmad

نہضہ نیٹ ورک کے معاون، جو ہمارے قارئین کے لیے اہم خبروں، پیش رفت اور مؤثر نقطۂ نظر کو اجاگر کرتے ہیں۔

View all stories →

What do you think?