مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور کشیدگی نے اس وقت سنگین صورتِ حال اختیار کر لی جب سعودی عرب کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یمن کے مسلح گروپ حوثیوں نے حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی سعودی سرکاری ترجمان کے حوالے سے کہا کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو مار گرایا، اس سے قبل کہ وہ مقدس شہر کے ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہوتا۔
واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد مسلم دنیا میں ردِعمل کا دور شروع ہو گیا۔ دنیا کے کئی ملکوں نے اس واقعے کی مذمت کی اور اسے ایک سنگین اور مجرمانہ قدم قرار دیتے ہوئے خطے کے لیے نازک صورتِ حال سے تعبیر کیا۔ اسی ضمن میں عالمِ اسلام کی مشہور دانش گاہ الازہر نے بھی اپنا مذمتی بیان جاری کیا۔
الازہر نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مذمت کی، مقدس شہر کی حرمت پامال کرنے کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیا۔
الازہر شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ مکہ مکرمہ کو خطرے سے دوچار کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ الازہر نے یہ بھی کہا کہ مقدس اسلامی مقامات تک تنازع کو پھیلانے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
الازہر نے زور دیا کہ مکہ مکرمہ کو کسی بھی صورت تنازع یا دھمکی کا میدان بننے کا تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مکہ مکرمہ کی حرمت اسلام اور مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، جس کی پامالی یا اس کے ساتھ کسی بھی طرح کی بدسلوکی ناقابلِ قبول ہے۔
الازہر نے مزید کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی محض سیاسی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے عقیدے سے متعلق مسئلہ ہے۔ مقدس شہر کو نشانہ بنانا یا اسے خطرے سے دوچار کرنا دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
الازہر نے کہا کہ مکہ مکرمہ وہ مقدس مقام ہے جس کی طرف مسلمان اپنی نمازوں میں رخ کرتے ہیں اور جہاں دنیا بھر سے مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے پہنچتے ہیں۔ مختلف ممالک، مذاہب، زبانوں اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمان یہاں یکجا ہوتے ہیں۔
الازہر نے اس بات پر زور دیا کہ البلد الحرام کی حرمت کی حفاظت، اس کے امن اور وہاں آنے والے زائرین کی سلامتی کو یقینی بنانا ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کا مسلمانوں اور غیر مسلموں، دونوں کو احترام کرنا چاہیے اور اسے سیاسی و علاقائی تنازعات کے حسابات سے بالاتر رکھنا چاہیے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثی مسلح گروپ نے اس واقعے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی طرف سے نہیں کیا گیا ہے۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ حوثیوں کے ترجمان نے مکہ مکرمہ یا کسی مذہبی مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔
مآخذ:نہضہ نیٹ ورک + ایجینسیز
