مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے پیر کے روز نیویارک میں منعقدہ عرب و مسلم ممالک کے ایک اجلاس میں غزہ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے پر زور دیا۔
مصر کی وزارت خارجہ کے ترجمان سفیر نادر زکی کے مطابق، وزیر خارجہ نے اجلاس کے دوران اس امر پر زور دیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ میں امن و سلامتی کے مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کوششیں تیز کی جائیں، تاکہ اسے مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے جنگ کا خاتمہ، جنگ بندی کا نفاذ اور خطے میں امن و سلامتی کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران وزیر خارجہ نے شرکا کو گزشتہ عرصے کے دوران مصر کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق، بشمول اسرائیل، اپنی متعلقہ ذمہ داریاں پوری کریں گے اور ایسی کسی خلاف ورزی سے گریز کریں گے جس سے جنگ بندی کی کوششیں متاثر ہوں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امن و سلامتی کے اقدامات کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے اور غزہ پٹی میں پہنچنے والی امداد کی راہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔
وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مصر ایسی کسی بھی کوشش یا بیانیے کو مسترد کرتا ہے جس میں فلسطینی عوام کی جبری ہجرت یا انہیں ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی بات کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصر مغربی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت کو مسترد کرتا ہے اور شہرِ قدس اور وہاں موجود مقدسات کی حرمت کو پامال کرنے کی اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ مغربی پٹی میں اسرائیلی بستیوں کے دائرۂ کار میں توسیع سے صورتِ حال مزید خراب ہوگی، جس سے دو ریاستی حل کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا اور خطے میں امن و سلامتی کے امکانات متاثر ہوں گے۔
اجلاس میں شریک وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ مرحلے میں باہمی مشاورت اور تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے، تاکہ خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اجلاس میں مصر، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، اردن اور قطر کے نمائندے شریک تھے۔
نہضہ نیٹ ورک+مصری وزارت خارجہ کا جاری بیان
