نئی دہلی : ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگرس پارٹی نے سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کئے جانے کے بعد یہ الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار نے آئین ہند کی روح کو مجرو ح کیا ہے ۔کانگریس نے کہا کہ : چیف الیکشن کمیشن نے یہ سب وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے مطالبے پر کیا ہے ۔
کانگرس پارٹی کی جانب سے یہ الزام ایسے وقت میں لگایا گیا ہے ،جب سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمیش اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر کے جواب کا مطالبہ کیا ہے جس میں الیکشن کمیشن کے فیصلہ لینے کو چیلنج کیا گیا ہے اپوزیشن پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس پبلک کے اعتماد کو بحال کرنے کا ایک موقع ہے جبکہ الیکشن کمیشن گزشتہ کئی مہینوں سے سنگین الزامات کا سامنا کر چکا ہے ۔
اپوزیشن پارٹی کا موقف اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کو ایک نوٹس جاری کر کے ایک ہفتے میں جواب کا مطالبہ کیا ہے جس میں الیکشن پینل کو چیلنج کیا گیا ہے جس کی قیادت چیف الیکشن کمیشنر نے کی اور ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے دو الیکشن کمیشنر کی منظوری کے بغیر خود ہی فیصلہ لیا ہے۔
کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکا ارجن کھڑگے نے جمہوریت بچاِو ریلی کے دورا ن الیکشن کمیشن اور حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنما و پر بھی الزام لگائے انہوں نے کہا کہ :آزادی کے بعد عوام کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا تھا، جسے مودی حکومت ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ :چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار حکومت کے کٹھ پتلی ہیں۔
گیانیش کمار وہی کرتے ہیں جو مودی اور شاہ کہتے ہیں۔ اس سے جمہوریت اور آئین ختم ہو جائے گا اور آمریت قائم ہو جائے گی۔
انڈیا اتحاد اس ناانصافی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور ہم کامیاب ہوں گے۔
