وقف محض کسی جائیداد یا زمین کو مخصوص کر دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ اسلامی تہذیب و معاشرت کا ایک ایسا مستقل ادارہ ہے جس نے صدیوں تک تعلیم، عبادت، رفاہِ عامہ اور سماجی خدمت کے بے شمار مراکز کو سہارا فراہم کیا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی قیمتی املاک کا ایک بڑا حصہ مساجد، مدارس، مقابر، خانقاہوں اور مختلف رفاہی و دینی مقاصد کے لیے وقف کیا۔ ان املاک کی قانونی حیثیت، انتظام اور تحفظ سے متعلق قوانین میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ موجودہ دور میں وقف قوانین میں مجوزہ ترامیم نے اس پورے نظام کے مستقبل کے بارے میں متعدد سوالات اٹھا دیے ہیں، جن پر سنجیدہ غوروفکر اور قانونی و آئینی تناظر میں گفتگو ضروری ہے۔
وقف اسلامی معاشرت کا ایک اہم اور منفرد نظام ہے، جس کے ذریعے افراد اپنی جائیداد اور دیگر قیمتی املاک کو اللہ کی رضا اور رفاہِ عامہ کے لیے مخصوص کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی جانب سے صدیوں کے دوران بڑی تعداد میں املاک وقف کی گئی ہیں، جن میں مساجد، مدارس، مقابر، خانقاہیں اور دیگر رفاہی مراکز شامل ہیں۔ وقف املاک کے انتظام، تحفظ اور قانونی حیثیت سے متعلق قوانین میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں وقف قوانین میں مجوزہ ترامیم نے ان املاک کے مستقبل، انتظامی اختیارات اور مسلم مذہبی و رفاہی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں وقف ترمیمی بل 2024ء کے ممکنہ اثرات اور اس سے متعلق مصنف کے پیشِ نظر خطرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
خالقِ اعظم نے مسلمانوں کو تمام اقوامِ عالم پر ایسے امتیازات عطا کیے ہیں جن کی نظیر دوسری قومیں پیش کرنے سے بالکلیہ قاصر ہیں۔ وقف کا تصور بھی انہی امتیازات اور خصوصیات میں سے ایک ہے۔ چنانچہ قرآن و حدیث میں جگہ جگہ انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی اور اس کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ خصوصاً جب فرمانِ باری تعالیٰ:
{لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} (آل عمران: 92)
(تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو)
نازل ہوا تو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی محبوب ترین چیزیں بھی راہِ خدا میں صدقہ کرنے میں ایک لحظہ بھی تامل نہیں کیا۔ آج تک مسلمانانِ عالم قرآن و حدیث کے احکام کی تعمیل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدائیت و محبت کے اظہار اور صحابۂ کرام کے اسی جذبۂ ایثار کی اتباع میں اپنا سب کچھ لٹانے کو باعثِ سعادت سمجھتے اور اپنے لیے سامانِ مغفرت گردانتے ہیں۔ عام چیزوں کو صدقہ کرنے کے علاوہ اپنی قیمتی املاک کو بھی مفادِ عامہ میں استعمال کے لیے راہِ خدا میں وقف کرکے اپنے لیے وسیلۂ نجات اور ذخیرۂ آخرت بنا لیتے ہیں۔
ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی وقف کردہ ہزاروں املاک موجود ہیں۔ ان میں بہت سی اراضی مختلف جہتوں سے اب بھی ہمارے دائرۂ تصرف میں ہیں، لیکن وہیں کتنی ہی زمینوں پر دوسروں کا ناجائز قبضہ بھی ہے۔ مصنف کے مطابق، اسی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے برسرِاقتدار حکومت نے وقف ترمیمی بل 2024ء پیش کیا ہے، جو ان کے نزدیک اسلام کے ایک امتیازی تصور میں بے جا مداخلت اور اس کے مذہبی و رفاہی نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
ہندوستان میں وقف املاک کے تحفظ و بقا اور واقف کے حسبِ منشا ان املاک کو صحیح مصرف میں لانے کے لیے سب سے پہلا قانون انگریزوں کے زمانے میں مسلم ایکٹ 1923ء کے نام سے بنایا گیا تھا۔ پھر آزادیِ ہند کے بعد 1954ء میں وقف ایکٹ پاس کرکے ایک بورڈ قائم کیا گیا، جس کے تحت تمام وقف املاک کی نگرانی بورڈ کے سپرد ہوگئی۔ تاہم، چونکہ وقف بورڈ اور اس کے عہدے داران حکومت کے زیرِ اثر تھے اور بورڈ کو محدود دائرۂ اختیار حاصل تھا، اس لیے اسے وقف املاک کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔
اسی پس منظر میں 1964ء میں سینٹرل وقف کونسل کا قیام عمل میں آیا تاکہ وقف املاک پر ہونے والے ناجائز قبضوں کے خاتمے اور ان کے بہتر انتظام میں مدد فراہم کی جاسکے۔ اس کے بعد 1995ء میں وقف املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وقف ایکٹ 1995ء نافذ کیا گیا اور سابقہ ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں 2013ء میں بھی بعض ترامیم کی گئیں، جن کا مقصد وقف املاک پر ناجائز قبضے کے خاتمے اور ان کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانا تھا۔
بہرحال، وقف بورڈ کے قیام اور عہد بہ عہد کی جانے والی ان قانونی ترامیم سے وقف املاک کو کس حد تک تحفظ فراہم ہوسکا، مسلمان ان سے کتنا فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، اور اس پورے عمل میں خود بورڈ کے عہدے داران کی کتنی انتظامی کمزوریاں یا نااہلیاں کارفرما رہیں، یہ ایک مستقل موضوعِ بحث ہے۔ تاہم، اتنا ضرور ہے کہ موقوفہ اراضی پر قائم مساجد، مدارس اور دیگر مراکز میں سے جو اب تک ہمارے تصرف میں ہیں، ان کے مستقبل کے حوالے سے بھی موجودہ قانونی تبدیلیوں نے تشویش پیدا کی ہے۔
برسرِاقتدار حکومت کی جانب سے مجوزہ وقف ترمیمی بل 2024ء میں متعدد ایسی ترامیم شامل ہونے کی بات کی گئی ہے جن کے بارے میں اس کے ناقدین کا موقف ہے کہ وہ وقف کے تصور، اس کی حیثیت اور اس کے انتظامی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق، ان ترامیم کے نتیجے میں پہلے سے زیرِ قبضہ املاک کو قانونی تحفظ ملنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ مزید وقف اراضی بھی قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوسکتی ہے۔ اسی طرح اسلامی مراکز، مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی و رفاہی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ان کے نزدیک یہ معاملہ محض انتظامی یا قانونی نوعیت کا نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور وقف املاک کے تحفظ جیسے اہم سوالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے وقف ترمیمی بل کے حوالے سے مختلف مسلم تنظیموں اور حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات اور احتجاج سامنے آئے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موضوع پر جذباتی ردِعمل کے بجائے قانونی، آئینی اور تاریخی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے سنجیدہ اور مؤثر بحث کی جائے، عوام میں شعور پیدا کیا جائے اور وقف املاک کے تحفظ کے لیے قانونی و جمہوری ذرائع کو بروئے کار لایا جائے۔ مسلمانوں کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے مذہبی، تعلیمی اور رفاہی اداروں کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد، قانونی آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
