Nahda Network
Breaking News

ندوۃ العلماء نے عربی صحافت میں نمایاں کردار ادا کیا: ڈاکٹر غریب جمعة

قاہرہ: حسین احمد ہریدواری

قاہرہ میں عالمی رابطۂ ادبِ اسلامی، مصر کے دفتر میں ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے تشریف لانے والے علمی وفد کے اعزاز میں خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں مصر کے ممتاز علماء، ادباء، جامعات کے اساتذہ اور اہلِ علم نے شرکت کی۔ نشست میں ندوۃ العلماء کی علمی، فکری، ادبی اور صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ہندوستان و مصر کے درمیان علمی و ادبی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

پروگرام کی نظامت رابطۂ ادبِ اسلامی، مصر کے دفتر کی صدر اور معروف شاعرہ ڈاکٹر نوال مہنی نے کی۔ انہوں نے ہندوستان سے آنے والے ندوۃ العلماء کے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ندوۃ العلماء کے فرزندان کی رابطے کے دفتر میں آمد اسلامی ادب کی تحریک کی ابتدائی بنیادوں اور اس کے ان علمبرداروں کی یاد تازہ کرنے کا موقع ہے، جنہوں نے اس علمی و ادبی تحریک کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ رابطۂ ادبِ اسلامی کے دفتر میں ندوۃ العلماء کے وابستگان کی موجودگی خاص معنویت رکھتی ہے، کیونکہ ’’ندوی‘‘ نام ذہن میں مفکرِ اسلام امام سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی شخصیت کو تازہ کرتا ہے، جو عالمِ اسلام کے ممتاز مفکر، ادیب اور رابطۂ ادبِ اسلامی عالمی کے بانی تھے۔ ان کا فکری و ادبی منصوبہ جغرافیائی حدود سے بالاتر تھا اور متعدد اسلامی ممالک میں اس کے اثرات نمایاں ہوئے۔

ندوۃ العلماء نے عربی صحافت میں نمایاں کردار ادا کیا

اس موقع پر معروف مصری ادیب اور محقق ڈاکٹر غریب جمعة نے ندوۃ العلماء کے ساتھ اپنے دیرینہ علمی و ادبی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا رشتہ ندوۃ العلماء اور اس کے علماء سے محض کسی ایک ملاقات یا مختصر عرصے تک محدود نہیں، بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک گہرا تعلق ہے، جس کی بنیاد محبت، علم اور عربی زبان و ادب کی خدمت پر قائم ہے۔

ڈاکٹر غریب جمعة نے ندوۃ العلماء کی عربی صحافت اور علمی و فکری مجلات کی خدمات کو خصوصی طور پر اجاگر کرتے ہوئے ’’البعث الإسلامي‘‘ اور ’’الرائد‘‘ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں رسائل ندوۃ العلماء کی عربی زبان، اسلامی فکر اور صحافت سے غیر معمولی وابستگی کے نمایاں مظاہر ہیں۔ ان کے مطابق ’’البعث الإسلامي‘‘ نے علمی، تحقیقی اور فکری میدان میں اہم خدمات انجام دیں، جبکہ ’’الرائد‘‘ نے صحافتی میدان میں اسلامی فکر اور امت کے مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کا فریضہ انجام دیا۔

انہوں نے ندوۃ العلماء سے وابستہ متعدد ممتاز علماء کا بھی تذکرہ کیا، جن سے انہیں علمی و ادبی تعلق اور استفادے کا موقع ملا۔ ان میں بالخصوص شیخ ڈاکٹر سعید اعظمی ندویؒ اور شیخ واضح رشید ندویؒ کا ذکر کیا۔ انہوں نے مفکرِ اسلام امام ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی علمی و فکری خدمات کو یاد کرتے ہوئے اسلامی ادب کے تصور کو فروغ دینے اور رابطۂ ادبِ اسلامی کے قیام میں ان کے بنیادی کردار پر بھی روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر غریب جمعة نے کہا کہ ندوۃ العلماء کے ساتھ ان کا تعلق محض ماضی کی یادوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ علمی و ادبی رشتہ ہے، جس نے عربی زبان، اسلامی فکر اور ادبِ اسلامی کی خدمت کے ذریعے ہندوستان اور عرب دنیا کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے ہیں۔

ندوۃ العلماء: فکر، منہج اور پیغام

نشست کے مرکزی حصے میں مولانا ظفر الدین ندوی نے ندوۃ العلماء کی فکر اور علمی منہج پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد علمی و دینی اصالت کو برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے واقفیت پیدا کرنا، اسلامی علوم اور عربی زبان کی خدمت کو فروغ دینا اور ایسے علماء تیار کرنا ہے جو بدلتے ہوئے حالات میں اسلام کے پیغام کو مؤثر انداز میں پیش کرسکیں۔

ڈاکٹر فیصل احمد ندوی نے رابطۂ ادبِ اسلامی کے قیام سے قبل کی علمی، فکری اور ادبی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رابطے کا قیام ایک طویل علمی و ادبی جدوجہد کا ثمر تھا، جس میں متعدد علماء اور ادباء نے حصہ لیا، اور اس سلسلے میں امام ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کا کردار نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

اسی طرح مولانا اصطفاء الحسن ندوی نے ندوۃ العلماء اور تحریکِ پیغامِ انسانیت کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے انسانی پہلو کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ علم و دین کی خدمت کے ساتھ اخلاق، خیرخواہی، رحمت، باہمی تعاون اور انسانیت کی بھلائی بھی ندوۃ العلماء کی دعوت اور تربیت کا اہم حصہ ہیں۔

مصر میں ندوۃ العلماء کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین

اجلاس میں متعدد مصری علماء اور اساتذہ نے بھی ندوۃ العلماء کے وفد کا خیرمقدم کیا اور اس کی علمی و فکری خدمات کو سراہا۔

ڈاکٹر غانم سعید، سابق عمید کلیۂ عربی، جامعہ الازہر، نے وفد کے ارکان کی علمی و ادبی صلاحیتوں، بالخصوص عربی زبان پر ان کی مضبوط دسترس کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر عرب ملک میں عربی زبان اور اسلامی علوم کی اس قدر مضبوط خدمت ایک قابلِ قدر علمی نمونہ ہے، جس کے مطالعے اور تعارف کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر زہران نے مصر اور ہندوستان کے علمی و ادبی اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ایسی نشستیں باہمی تعارف اور علمی تعاون کے دروازے کھولتی ہیں، ندوۃ العلماء کی خدمات سے اہلِ علم کو متعارف کراتی ہیں اور عالمِ اسلام کے علماء و ادباء کے روابط کو مضبوط بناتی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالغفار خلف اللہ نے ندوۃ العلماء کو اسلامی شناخت کے تحفظ اور عربی زبان کی خدمت کا نمایاں نمونہ قرار دیتے ہوئے اس کی علمی و اخلاقی تربیت کے اثرات کو سراہا۔ انہوں نے ڈاکٹر غریب جمعة کی انسانی و رفاہی خدمات کا بھی ذکر کیا، خصوصاً ضرورت مندوں اور مصر میں مقیم سوڈانی خاندانوں کی مدد کو قابلِ قدر قرار دیا۔

جبکہ ڈاکٹر ناصر وحدان نے اپنی گفتگو کو تین الفاظ میں سمیٹتے ہوئے اسے ’’شکریہ، تحسین اور آرزو‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے رابطۂ ادبِ اسلامی کے ذمہ داران اور ندوۃ العلماء کے وفد کا شکریہ ادا کیا، وفد کے ارکان کی عربی زبان پر مضبوط دسترس کو سراہا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ندوۃ العلماء اور رابطۂ ادبِ اسلامی کی علمی، فکری اور ادبی خدمات پر جامعات میں مزید تحقیقی مطالعات اور اعلیٰ علمی رسائل تیار کیے جائیں۔

ادبِ اسلامی: عصرِ حاضر کے چیلنجوں کا مقابلہ

اجلاس میں گفتگو صرف ماضی کی علمی و ادبی تاریخ تک محدود نہیں رہی، بلکہ عصرِ حاضر کے مسائل اور خصوصاً ابلاغِ عامہ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے اثرات بھی زیرِ بحث آئے۔

شرکائے اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں ادبِ اسلامی کے سامنے ایک بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ جدید ذرائع ابلاغ نوجوان نسل کے افکار اور اقدار پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اس لیے علماء، ادباء اور مفکرین کو ایسا معیاری ادب پیش کرنا چاہیے جس میں فن کی خوب صورتی اور فکر و اقدار کی بلندی جمع ہو اور جو نوجوان نسل کو عصرِ حاضر کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے فکری اور اخلاقی بنیاد فراہم کرے۔

گفتگو میں فلسطین کے مسئلے سمیت امتِ مسلمہ کے متعدد معاصر مسائل بھی زیرِ بحث آئے اور اس امر پر زور دیا گیا کہ ایسے مسائل امت کے درمیان مزید اتحاد، ہمدردی اور تعاون کا تقاضا کرتے ہیں۔

ہندوستان اور مصر کے درمیان علمی تعاون

نشست میں ندوۃ العلماء اور مصر کے تعلیمی اداروں، خصوصاً جامعہ الازہر کے درمیان علمی و تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

ڈاکٹر نوال مہنی نے زور دیا کہ یہ ملاقات محض ایک رسمی تقریب بن کر نہ رہ جائے، بلکہ اسے عملی علمی تعاون کے نئے مرحلے کا آغاز بننا چاہیے۔ اس سلسلے میں طلبہ اور محققین کے تبادلے، ندوۃ العلماء اور رابطۂ ادبِ اسلامی کی خدمات پر تحقیقی مقالات اور جامعاتی رسائل کی حوصلہ افزائی، نیز جدید ذرائعِ تعلیم اور آن لائن تعلیم سے استفادہ کی تجاویز پیش کی گئیں۔

شرکائے اجلاس نے ہندوستان اور مصر کی جامعات و علمی اداروں کے درمیان روابط کو مزید وسعت دینے، تجربات کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور عربی زبان، اسلامیات اور ادبِ اسلامی کی خدمت کے لیے مشترکہ پروگرام شروع کرنے پر بھی زور دیا۔

سرحدوں سے بالاتر علمی و اسلامی اخوت

ملاقات کا ایک نمایاں پہلو اس کی اخوت اور محبت سے بھرپور فضا تھی۔ شرکائے اجلاس نے ادبی کلمات اور شعری منظومات کے ذریعے ہندوستان سے آنے والے وفد کا خیرمقدم کیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ اسلامی اخوت جغرافیائی حدود کی پابند نہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر فیصل احمد ندوی، مولانا ظفر الدین ندوی اور مولانا اصطفاء الحسن ندوی سمیت وفد کے دیگر ارکان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں ایسی علمی روایت کا امین قرار دیا گیا جس نے اسلام، عربی زبان اور ادبِ اسلامی کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

استقبالیہ کلمات اور شعری نذرانوں میں ہندوستان اور مصر کے گہرے علمی و تہذیبی تعلق اور اہلِ علم و ادب کی نگاہ میں ندوۃ العلماء کی قدر و منزلت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

ماضی کی یاد، مستقبل کی امید

اجلاس کے اختتام پر شرکائے نشست کے درمیان یہ احساس نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آیا کہ ندوۃ العلماء کے وفد کا یہ دورہ محض ایک تعارفی یا رسمی ملاقات نہیں، بلکہ ہندوستان اور مصر کے درمیان صدیوں پر محیط علمی، فکری اور ادبی رشتوں کی تجدید کا ایک اہم موقع تھا۔ اس ملاقات نے ماضی کے ان روشن نقوش کو بھی تازہ کیا جن کے ذریعے دونوں ملکوں کے علماء، ادباء اور علمی اداروں نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا اور علم و ادب کے رشتوں کو مضبوط بنایا۔

ہندوستان کی سرزمین پر قائم ہونے والی ندوۃ العلماء  کی  تحریک نے اپنی علمی و فکری خدمات کو جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس کا اثر عالمِ اسلام کے مختلف خطوں تک پہنچا۔ عربی زبان، اسلامی فکر اور ادبِ اسلامی اس عالمی علمی پیغام کے نمایاں میدان رہے، جن کے ذریعے ندوۃ العلماء نے ہندوستان اور عرب دنیا کے درمیان فکری و تہذیبی روابط کو استحکام بخشا۔

دوسری طرف قاہرہ نے اپنی دیرینہ علمی و ثقافتی روایت کے ساتھ اس ملاقات کی میزبانی کی، جبکہ رابطۂ ادبِ اسلامی اپنے بانی امام سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کے اس عظیم ادبی و فکری مشن کی علامت بن کر سامنے آیا، جس نے اسلامی ادب کو ایک عالمی فکری تحریک کی صورت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

یوں اس ادبی و علمی نشست میں ہندوستان و مصر، ندوۃ العلماء و رابطۂ ادبِ اسلامی اور علم و ادب ایک خوب صورت فکری رشتے میں ایک دوسرے کے قریب آئے۔ یہ ملاقات اس حقیقت کی ایک روشن مثال تھی کہ بڑے علمی اور فکری مشن جغرافیائی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے؛ وہ نسلوں تک اسی وقت زندہ رہتے ہیں جب مخلص اہلِ علم ان کی روایت کو سنبھالتے، ان کے پیغام کو آگے بڑھاتے اور نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے رہتے ہیں۔

شرکائے نشست نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ملاقات علمی و ادبی تعاون کے ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگی اور اس کے بعد مشترکہ علمی نشستوں، تحقیقی منصوبوں، طلبہ و محققین کے باہمی تبادلوں اور تعلیمی پروگراموں کا سلسلہ آگے بڑھے گا۔ اس طرح عربی زبان، اسلامی علوم اور ادبِ اسلامی کی خدمت کے ساتھ ہندوستان اور مصر کے علمی اداروں اور عالمِ اسلام کے اہلِ علم و فکر کے درمیان وہ تعلق مزید مستحکم ہوگا، جس کی بنیاد علم، ادب، اخوت اور مشترکہ علمی مقصد پر قائم ہے۔