Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

انسانیت کا قلعہ

بعثتِ نبوی ﷺ سے پہلے دنیا شرک و بت پرستی کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی، جہالت و گمراہی کی گھٹا ٹوپ وادیوں میں بھٹک رہی تھی اور انسانیت ظلم و زیادتی کے بوجھ تلے کراہ رہی تھی، سیاست انتشار و اضطراب، اخلاقی انحطاط و بے اعتدالی، بدانتظامی اور حکمرانوں کے جبر و استبداد کا منظر پیش کر رہی تھی،

حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر مبعوث فرمایا:’’وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا کَافَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْراً وَنَذِیْراً وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ ‘‘ (اور ہم نے آپ کو تمام ہی لوگوں کے لیے بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجاہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔ سورہ سبا :۲۸ )اور فرمایا:’’و َمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ‘‘(اور ہم نے آپ کو بس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے۔ سورہ فرقان: ۵۶ )نیز آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر بھیجا گیا:’’ وَمَا أَرْسَلْنَاَ إِلَّا رَحْمَۃً لِلْعَالَمِين ‘‘ (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔سورہ انبیاء: ۱۰۷ )۔

 بعثتِ نبوی ﷺ سے پہلے دنیا شرک و بت پرستی کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی، جہالت و گمراہی کی گھٹا ٹوپ وادیوں میں بھٹک رہی تھی اور انسانیت ظلم و زیادتی کے بوجھ تلے کراہ رہی تھی، سیاست انتشار و اضطراب، اخلاقی انحطاط و بے اعتدالی، بدانتظامی اور حکمرانوں کے جبر و استبداد کا منظر پیش کر رہی تھی، روئے زمین پر نہ کوئی ایسی قوم دکھائی دیتی تھی جس کا مزاج درست اور متوازن ہو، نہ ایسا معاشرہ جو اخلاق و خوبی کی بنیادوں پر قائم ہو، نہ ایسی حکومت جو عدل و رحمت کے اصولوں پر استوار ہو، نہ ایسی قیادت جو علم و حکمت کی بنیاد پر رہنمائی کر رہی ہو اور نہ کوئی ایسا صحیح دین باقی رہ گیا تھا جو انبیائے کرام علیہم السلام سے معتبر طور پر منقول ہو۔

غرض بعثت محمدی کے زمانہ میں پوری انسانیت خودکشی کے راستہ پر تیزی کے ساتھ گامزن تھی، انسان اپنے خالق اور مالک کو بھول چکا تھا اور خود اپنے آپ کو اور اپنے مستقبل اور انجام کو فراموش کر چکا تھا ، اس کے اندر بھلائی و برائی اور زشت و خوب میں تمیز کرنے کی بھی صلاحیت باقی نہیں تھی اور روح و قلب کی غذا، اخروی فلاح ، انسانیت کی خدمت اور اصلاح حال کے لیے انسان کے پاس ایک لمحہ خالی نہیں تھا۔چنانچہ اس پرآشوب دور میں جزیرۃ العرب کے افق سے انسانیت کی ہدایت ونجات کا آفتاب نبوت طلوع ہوا، جس کی روشنی ساری کائنات میں پھیلی اور دنیا کو منور کرتی چلی گئی۔

’’آپ ﷺ کی بعثت کے بعد دنیا کی رت بدل گئی ، انسانوں کے مزاج بدل گئے ، دلوں میں خدا کی محبت کا شعلہ بھڑ کا ، خدا طلبی کا ذوق عام ہوا، انسانوں کو ایک نئی دھن ( خدا کو راضی کرنے اور خدا کی مخلوق سے ملانے اور اس کو نفع پہنچانے کی ) لگ گئی، جس طرح بہار یا برسات کے موسم میں زمین میں روئیدگی، سوکھی ٹہنیوں اور پتیوں میں شادابی اور ہریالی پیدا ہو جاتی ہے، نئی نئی کونپلیں نکلنے لگتی ہیں اور درودیوار پر سبزہ اگنے لگتا ہے، اسی طرح بعثت محمدی کے بعد قلوب میں نئی حرارت، دماغوں میں نیا جذبہ اور سروں میں نیا سودا سما گیا، کروڑوں انسان اپنی حقیقی منزل مقصود کی تلاش اور اس پر پہنچنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے، ہر ملک اور قوم میں طبیعتوں میں یہی نشہ اور ہر طبقہ میں اس میدان میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کا یہی جذبہ موجزن نظر آتا ہے، عرب و عجم ، مصر و شام، ترکستان اور ایران، عراق وخراسان شمالی افریقہ اور اسپین اور بالآخر ہمارا ملک ہندوستان اور جزائر شرق الہند سب اسی صہبائے محبت کے متوالے اور اسی مقصد کے دیوانے نظر آتے ہیں ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے انسانیت صدیوں کی نیند سوتے سوتے بیدار ہوئی ، آپ تاریخ و تذکرے کی کتابیں پڑھئے تو آپ کو نظر آئے گا کہ خدا طلبی اور خدا شناسی کے سوا کوئی کام ہی نہ تھا، شہر شہر، قصبہ قصبہ ، گاؤں گاؤں بڑی تعداد میں ایسے خدا مست ، عالی ہمت، عارف کامل، داعی حق ، اور خادم خلق، انسان دوست ایثار پیشہ انسان نظر آتے ہیں، جن پر فرشتے بھی رشک کریں، انھوں نے دلوں کی سرد انگیٹھیاں گرمادیں، عشق الہی کا شعلہ بھڑکا دیا، علوم وفنون کے دریا بہا دیے ، معرفت و محبت کی جوت جگادی اور جہالت و وحشت ، ظلم و عداوت سے نفرت پیدا کر دی، مساوات کا سبق پڑھایا ، دکھوں کے مارے اور سماج کے ستائے ہوئے انسانوں کو گلے لگایا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بارش کے قطروں کی طرح ہر چپہ زمین پر ان کا نزول ہوا ہے اور ان کا شمار ناممکن ہے‘‘۔(نبی رحمت، از مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندوی) ۔

ارشاد نبوی ہے: ’’إنما أنا رحمۃ مھداۃ‘‘ (میں تو سراپا عطا کی ہوئی رحمت ہوں‘‘۔لہٰذا جس نے اس نعمت کی قدر کی، وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے سید المرسلین ﷺ کو مبعوث فرما کر مخلوق پر رحمت فرمائی؛ اس لیے کہ آپ ﷺ ان کے لیے دائمی سعادت کے حصول اور ابدی بدبختی ومحرومی سے نجات کا پیغام لے کر آئے، آپ ﷺ کے ذریعے انسانیت نے دنیا و آخرت کی بے شمار بھلائیاں حاصل کیں؛ جہالت کے بعد علم پایا، گمراہی کے بعد ہدایت نصیب ہوئی، آپ ﷺ حقیقتاً رحمت عالم بن کر تشریف لائے۔

 کار لائل اپنی کتاب (Heroes and Hero-Worship )میں کہتا ہے کہ ’’ اس زمانہ کے ہر مہذب انسان کے لیے یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ وہ ان ظنون و اوہام کی جانب توجہ کرے کہ ( نعوذ باللہ ) اسلام جھوٹا مذہب ہے، یا محمد مکار اور فریبی تھے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس قسم کی ذلیل اور شرمناک باتوں کے خلاف جنگ کریں ، اس رسول نے دنیا کو جو پیغام پہنچایا ہے، وہ بارہ صدیوں سے ہمارے ہی جیسے دو سوملین انسانوں کے لیے جن کو ہماری ہی طرح خدا نے پیدا کیا ہے، سراج منیر کا کام دے رہا ہے، کوئی شخص بھی یہ خیال کر سکتا ہے کہ جس پیغام کے مطابق بے شمار انسان زندگی بسر کرتے رہے اور اس پر مر گئے ، وہ صرف جھوٹ اور فریب ہو سکتا ہے، میں کبھی اس کو باور نہیں کر سکتا، اگر جھوٹ اور فریب کو خد کی مخلوق میں ایسی ہی مقبولیت حاصل ہوسکتی ہے اور اسی طرح اس پر یقین کر سکتی ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ سارے انسان احمق اور مجنوں ہیں اور زندگی محض بے عقلی ، تما شا اور گمراہی ہے اور ان کا پیدا نہ ہونا ہی بہتر تھا‘‘۔

مشہور روسی فلسفی ٹالسٹائی کا بیان ہے کہ ’’اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ خدا کےرسول محمد دنیا کے ان بڑے مصلحین میں تھے، جنہوں نے انسانی سوسائٹی کی بڑی جلیل القدر خدمت انجام دی ، ان کے لیے یہ فخر کافی ہے کہ انہوں نے اخلاقی حیثیت سے ایک گری ہوئی قوم کو نو رحق کا راستہ دکھایا ، اس کو خونریزی اور انسانی قربانی سے روکا اور اس کے لیے تہذیب و ترقی کی راہیں کھول دیں ، ایسا عظیم الشان کام وہی انجام دے سکتا ہے جس کو غیبی تائید حاصل ہو اور ایسا شخص بڑی عزت و احترام کا مستحق ہے‘‘۔

ولیم میور اپنی کتاب( Life of Muhammad ) میں لکھتا ہے کہ’’ محمد ( ﷺ ) کو اپنی باتوں کی وضاحت وصفائی اور اپنے دین کی سہولت و آسانی کے لحاظ سے خاص امتیاز حاصل تھا، انہوں نے ایسے کام انجام دیے جو عقل کو متحیر کر دیتے ہیں ، تاریخ میں کوئی ایسا مصلح پیدا نہیں ہوا جس نے محمد کی طرح اتنی مختصر مدت میں انسانوں کو بیدار، اخلاق کو زندہ اور فضیلت کو سر بلند کیا‘‘۔

لین پول کا بیان ہے کہ ’’محمد ( ﷺ ) لطف ، کرم، شجاعت اور دوسرے بہت سے محاسن اخلاق سے آراستہ تھے، کوئی انسان بھی جوان کے بارہ میں رائے قائم کرنا چاہے وہ ان کے صفات حسنہ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ان کے اثر سے خالی ہو کر رائے قائم کر سکتا، محمد برسوں اپنے خاندان اور قبیلہ والوں کی دشمنی برداشت کرتے رہے، لیکن یہ دشمنی ان کے عزم کی قوت کو کمز ور نہ کر سکی ، ان کے لطف وکرم کا یہ حال تھا کہ وہ مصافحہ کرنے والوں کے ہاتھ سے خواہ وہ بچہ ہی کیوں نہ ہو، اپنا ہاتھ پہلے علاحدہ نہیں کرتے تھے، وہ جب کسی مجمع کے سامنے سے گذرتے، خواہ وہ مردوں کا ہو یا بچوں کا، تو اس کو سلام ضرور کرتے اور اس وقت ان کے لبوں پر ایک شیریں تبسم اور ان کی زبان میں ایک دل آویز نغمہ ہوتا ، جو سننے والوں کے دلوں کو مسحور کر لیتا ۔

اور مونٹیوںاپنی کتاب ’’حاضر الاسلام ومستقبلہ ‘‘  میں لکھتا ہے کہ’’ رسول اللہ (ﷺ )نے اخلاق کی اصلاح اور معاشرے کی تطہیر کے میدان میں جو عظیم کارنامہ انجام دیا، اس کی بنا پر وہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن شمار کیے جانے کے لائق ہیں ‘‘۔ 

مذکورہ بالا اقوال ڈاکٹر محمد کرد علی کی کتاب ’’ الاسلام والحضارۃ الغربيۃ‘‘ سے ماخوذ ہیں جس کی ترجمانی مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی نے ’’اسلام اور عربی تمدن‘‘ کے عنوان سے کی ہے )۔

رسول اللہ ﷺ وہ کامل ترین نمونہ اور جامع ترین اسوہ ہیں جن کی زندگی کے ہر پہلو میں پیروی واتباع ضروری ہے؛ آپ ﷺ کے اقوال، افعال اور احوال سب انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں، اس لیے کہ آپ ﷺ اپنی خواہشِ نفس سے نہ کچھ فرماتے تھے اور نہ اپنی خواہش کے مطابق عمل کرتے تھے، بلکہ آپ ﷺ کی زبانِ مبارک پر وہی آتا تھا جو وحیِ الٰہی آپ ﷺ پر نازل ہوتی تھی: ’’وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ،  إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ‘‘ (سورہ نجم: 3-4)چنانچہ آپ ﷺ تمام طبقاتِ انسانی کے لیے اسوہ ہیں، بنی آدم کے مختلف پیشوں، کاموں، حالات اور ماحول سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کے لیے آپ ﷺ کی زندگی میں قابلِ اقتدا نمونہ موجود ہے، خواہ زمانہ کوئی بھی ہو اور مقام کوئی بھی،ارشاد باری تعالی ہے ـ: ’’لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا‘‘ ( یقیناتمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے اس کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو اور اس نے اللہ کو بہت یاد کیا ہو۔ سورہ  احزاب:۲۱ ) ۔

 علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

’’غرض تم جو کچھ بھی ہو اور کسی بھی حال میں ہو تمہاری زندگی کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کانورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جامعیت کبری کے خزانہ میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے، اس لیے طبقات انسانی کے ہر طالب علم اور نور ایمانی کے ہر متلاشی کے لیے صرف محمد رسول اللہ کی سیرت ہدایت کا نمونہ اور نجات کا ذریعہ ہے، جس کی نگاہ کے سامنے محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے، اس کے سامنے نوح وابراہیم، ایوب و یونس ، موسی اور عیسیٰ علیہم السلام سب کی سیرتیں موجود ہیں، گویا تمام دوسرے انبیاء کی سیرتیں، ایک ہی جنس کی اشیاء کی دوکانیں ہیں اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، اخلاق و اعمال کی دنیا کا سب سے بڑا بازار ہے، جہاں ہر جنس کے خریدار اور ہر شے کے طلب گار کے لیے بہترین سامان موجود ہے ‘‘۔(خطبات مدراس، ص:۹۸) ۔

سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پوری امت اور تمام قوموں پر گواہ بنا کر بھیجے گئے، اہلِ ایمان کو نعمتوں بھری جنتوں کی بشارت دینے والے اور کافروں کو جہنم کے عذاب سے ڈرانے والے، اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام انسانوں کو اس کی توحید، اطاعت اور عبادت کی طرف بلانے والے تھے، آپ ﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت اور حکم سے دعوت حق کا فریضہ انجام دیتے تھے، آپ ﷺ لوگوں کے لیے ایک ایسا روشن اور فروزاں چراغ تھے جس کی روشنی میں تاریک راہوں کے مسافر راستہ پاتے ہیں، جیسے گھپ اندھیرے میں چمکتا ہوا شہابِ ثاقب رہنمائی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا، وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا﴾(سورہ احزاب:۴۵۔۴۶ )علامہ ابن کثیر کہتے ہیں: ’’یعنی اے محمد! آپ اپنی تابانی اور روشنی میں سورج کی مانند ہیں، جس کا انکار صرف کوئی ہٹ دھرم ہی کرسکتا ہے‘‘ ، اورعلامہ زمخشریؒ کہتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو روشن چراغ سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ آپ کے ذریعہ اس نے شرک کی تاریکیوں کو دور کر دیا اور گمراہوں کو راہِ ہدایت دکھائی؛ بالکل اسی طرح جیسے روشن چراغ رات کی تاریکی کو دور کرتا اور راہِ گم کردہ کو راستہ دکھاتا ہے‘‘ ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو پانچ ایسے اوصاف سے نوازا جو کمال و جمال، مدح و ثنا اور جلال و عظمت کے مظہر ہیں، اور آخر میں یہ حقیقت واضح فرمائی کہ آپ ﷺ وہ روشن چراغ ہیں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ضلالت و گمراہی کی تاریکیوں کو تار تار کردیا۔

سیرتِ نبوی ﷺ کی پاکیزہ اور عطر بیز داستان جیسا کہ ڈاکٹر عائض القرنی نے اپنی کتاب’’ملهم العالم ‘‘میں لکھا ہے :’’وجود کو حسن و جمال عطا کرتی، دنیا کو منور اور عالم کو اپنی تابانی سے مرعوب کردیتی ہے، وہ نبوت کی عصمت، رسالت کی عظمت، فاتحانہ تعلیمات، انسانی اخلاق، قائدانہ کارناموں اور اصلاحی عظمت کا حسین امتزاج ہے، آپ ﷺ کی بعثت سراپا رحمت، آپ ﷺ کی حیات سراپا الہام، آپ ﷺ کا وجود سراپا امن، آپ ﷺ کے واقعات شریعت اور آپ ﷺ کا کلام وحی تھا، آپ ﷺ عدل کا عنوان، فصاحت و بیان کا دیوان، تنگ دستی اور خود غرضی سے بھرے جہاں میں احسان و نیکی کی درس گاہ، اور بے مروتی و بے حسی کی دنیا میں محبت کا ایک عظیم الشان قصر تھے،اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ نبی ﷺ کے ذریعہ پوری روئے زمین کو اسی طرح پاکیزہ کیا جس طرح موسلا دھار بارش زمین کو دھو کر نکھار دیتی ہے، نوعِ انسانی کا سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ محمد ﷺ اسی میں مبعوث ہوئے، اور انسانیت کا سب سے بڑا فخر یہ ہے کہ محمد ﷺ اسی کی آغوش میں جلوہ گر ہوئے،خدا نے اس سرزمین کو شرف بخشا جس میں آپ سکونت پذیر ہوئے،اور انسانوں کو بھی شرف بخشا جب اس نے آپ کو انسان بنایا‘‘۔

بعثت نبوی کے وقت عرب دنیا انتشار کا شکار، اخلاقی انحطاط میں مبتلا، ظلم و جبر سے پامال اور طرح طرح کی محرومیوں میں گرفتار تھی، ایسے عالم میں اسلام کی باد بہاری کا ایک جھونکا چلا، محمد ﷺ تشریف لائے،اس وقت یہ عرب دنیا ہلاکت کے قریب پہنچ گئی تھی، آپ نے اس کی دستگیری فرمائی، اس کی نبضیں ڈوب رہی تھیں، آپ نے اس کو زندگی بخشی ، نئی روشنی عطا کی، کتاب و حکمت کی تعلیم دی، تزکیہ کا سبق پڑھایا، اس کے اخلاق سنوارے اور اس کی روح کو نئی زندگی عطا کی،آپ کی بعثت کے بعد اس دنیا کی نوعیت بدل گئی، اب وہ اسلام کا سفیر، امن و سلامتی کا پیامبر، علم و حکمت کا پیش رو، تہذیب و ثقافت کا مشعل بردار اور انسانیت اور قوموںکے لیے رحمت کا پیغام تھی،اگر محمد ﷺ اور آپ کی دعوت نہ ہوتی، ان کی رسالت نہ ہوتی، ان کا لایا ہوا دین نہ ہوتا، تو نہ عالمِ عربی وہ ہوتا جو آج ہے، نہ دنیا اس مقام تک پہنچتی جہاں وہ آج عقل و تہذیب، دین و اخلاق اور علم و تمدن کے اعتبار سے کھڑی ہے۔عالمِ عربی اسلام کا گہوارہ، اس کے نور کا مطلع، انسانیت کا قلعہ اور عالمی قیادت کا مرکز ہے اور سیدنا محمد عربی ﷺ عالمِ عرب کی روح، اس کی بنیاد، اس کی عزت وافتخار کا عنوان ہیں، اس کے اندر موجود ثروت و قوت کے خزانے، اس کی مادی نعمتیں اور ظاہری محاسن اپنی جگہ، لیکن اگراس کا رشتہ رسول اللہ ﷺ سے منقطع ہوجائے، آپ ﷺ کی تعلیمات سے اس کا تعلق ٹوٹ جائے اور اس کو آپ ﷺ کے دین سے دورکردیا جائے تو یہ ایک بے جان لاشہ اور نقش بے رنگ سے زیادہ کچھ نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا،  فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا﴾(اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلی دلیل آچکی اور ہم نے تمہاری طرف واضح روشنی اتاردی ، تو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور انھوں نے اس کو مضبوط تھام لیا تو وہ جلد ہی ان کو اپنی خاص رحمت اور فضل میں داخل فرمادے گا اور ان کو اپنی طرف سیدھے راستہ پر پہنچا دے گا۔ سورہ ہ نساء: ۱۷۴ تا ۱۷۵  )۔

آج انسانیت اِس مومن کو پکار رہی ہے، اس سے فریاد کررہی ہے اور اسلام کے نام پر اسے اپنی طرف متوجہ کررہی ہے؛ اسی اسلام کے نام پر جو تاریک رات میں طلوع ہونے والی صبحِ صادق کی طرح نمودار ہوا تھا، اور اسی محمد ﷺ کے نام پر جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو اس وقت سہارا دیا جب وہ موت کے دہانے پر کھڑی تھی، خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کر رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذریعے انسانیت کی روح اور اس کے جوہر کو محفوظ فرمایا اور جاہلیت وضلالت پر ایمان و ہدایت کو غالب کردیا۔مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ لکھتے ہیں:

’’کیا جزیرۂ عرب کا وہ مومن، جہاں سے اسلام کا آفتاب طلوع ہوا اور ایشیا و افریقہ کے عربی شہروں اور پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں بسنے والے اہلِ ایمان، انسانیت کی چیخ و پکار اور اس کی فریاد سنیں گے؟ کیا وہ اس گہری اور طویل نیند سے بیدار ہوں گے جس سے دنیا اکتا چکی ہے؟ کیا وہ شیر کی طرح جست لگائیں گے اور انسانیت کے دشمنوں پر باز کی طرح جھپٹ پڑیں گے؟ وہ اس کے اہل بھی ہیں اور اللہ کے فضل سے اس کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔ وہ انسانیت کا مضبوط قلعہ، امید کی آخری منزل اور زمین پر اللہ کے امین اور انبیاء کے وارث ہیں‘‘۔

About the Author

محمد وثيق ندوی

Columnist

ڈاکٹر محمد وثیق ندوی پندرہ روزہ عربی اخبار ’’الرائد‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ عربی زبان و ادب، فکر اور اسلامی ثقافت کے میدانوں میں ان کی نمایاں علمی و ادبی خدمات ہیں۔ وہ علمی تحقیق، تحریر اور تصنیف میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ علمی، ادبی اور ثقافتی مسائل و موضوعات میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

View all stories →

What do you think?