کتاب کا نام: کتب خانہ
(برصغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں)
مصنف کا نام: رضا علی عابدی
ناشر: سعد پبلی کیشنز
سن اشاعت: 1985ء
صفحات: 176
تبصرہ نگار:ناصر الدین مظاہری
پہلے زمانے میں لوگ کتابوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔ ایک قلمی نسخہ ہاتھ آتا تو پوری جماعت کے طلبہ اس کی نقلیں تیار کرتے اور اسی سے علم کی پیاس بجھاتے۔ جہاں کہیں کتاب اور اہل علم کا سراغ ملتا، تشنگان علم وہاں پہنچ جاتے؛ کیونکہ
ہر کجا بود چشمۂ شیریں
مردم و مرغ و مور گرد آیند
پھر زمانہ بدلا، حالات بدلے، علم و علما کے انداز بدلے۔ جیبیں بھریں، تجوریاں کھلیں، چھاپہ خانے آباد ہوئے تو کتابوں پر کتابیں چھپنے لگیں، ذاتی ذخیرے کتب خانوں میں بدلنے لگے اور بڑے بڑے علمی مراکز وجود میں آنے لگے۔
یہاں تک کہ رضا علی عابدی جیسے اہل قلم خم ٹھونک کر اٹھے اور برصغیر کے شہر شہر، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ خاک چھانتے پھرے۔
کہیں کتب خانہ ڈھونڈا، کہیں کتاب، کہیں کتاب کا عاشق اور کہیں کتاب کے ساتھ اپنی زندگی گزار دینے والا کوئی گمنام شخص۔
ان کی کتاب ’’کتب خانہ‘‘ کے چوبیس ابواب میں یہی علمی سفر سمٹ آیا ہے۔ کلکتہ، لاہور کی پنجاب پبلک لائبریری اور دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، خیرپور و بہاولپور کے کتب خانے، پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، رامپور رضا لائبریری، ٹونک کا عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کتب خانے، اقبال اکیڈمی و غالب اکیڈمی کے ذخائر، حیدرآباد سندھ کے علمی ادارے، کراچی، دہلی اور حیدرآباد دکن کے عجائب گھر اور ان سب کے علاوہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور گھروں میں چھپے ہوئے نجی خزانے بھی اس تلاش کا حصہ ہیں۔
عابدی صاحب نے ان بکھرے ہوئے علمی خزانوں کو صرف دیکھا نہیں، ان کی خبر بھی لی اور خبر بھی دی۔ ان کے ماضی کو قلم بند کیا، ان کی اہمیت اجاگر کی اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ نشانیاں محفوظ کردیں کہ ہمارے بزرگوں نے کتاب کے ساتھ کیسا تعلق رکھا تھا اور ہمارے قومی و ملی ورثے میں کیا کچھ موجود تھا۔
یہ محض کتب خانوں کا تعارف نہیں، کتاب سے ہماری تہذیبی نسبت کی ایک مختصر مگر مہکتی ہوئی داستان ہے۔
یہاں کتابیں ہیں، کتاب والے ہیں، کتب خانے ہیں اور ان سب کے بیچ ایک ایسا قلم ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خزانے جمع کرکے امیر نہیں ہوتیں، اپنی کتابیں محفوظ کرکے بھی زندہ رہتی ہیں۔
تحدیث نعمت کے طور پر مصنف کتاب رضا علی عابدی صاحب سے عرض ہے کہ آپ دہلی اور رامپور تک پہنچ گئے، کاش کہ آپ مظاہرعلوم وقف سہارنپور بھی آتے تو یہاں موجود جدید و قدیم تین لاکھ کتابوں اور ڈیڑھ ہزار قلمی مخطوطات کی زیارت بھی کرتے جاتے۔
مدت سے میرے ذہن میں ایک بات بار بار آتی تھی کہ انگریز جب بھارت سے بھاگا ہے تو وہ ہیرے، جواہرات اور نادر اشیاء کے ساتھ قلمی مخطوطات بھی کیوں لے اڑا؟ پھر خود ہی اس کے بارے میں غور کرتا رہا، یہاں تک کہ ہاتف نے کہا کہ میاں! وہ اگرچہ لٹیرے ہیں، قزاق سہی، پر وہ قدردان بھی ہیں، کتاب کی چوری اس کا قدردان ہی کرے گا، انگریزوں کے یہاں کتابوں کے رکھ رکھاؤ کا زبردست نظام ہے۔
آج اس کتاب کا تعارف لکھتے لکھتے اچانک اسی کتاب کے ایک اقتباس کو پڑھ کر میرے اعتراض اور اعتراض کا جواب، سب کچھ یہاں بھی پڑھنے کو مل گیا۔ زمانہ ہوگیا یہ کتاب پڑھے ہوئے مگر آج پھر پڑھی اور پڑھ پڑھ کر رویا، رو رو کر پڑھا، واقعی حالات اچھے نہیں ہیں۔
اب آپ یہ اقتباس ضرور پڑھئے، ممکن ہے آپ بھی رونے پر مجبور ہوجائیں:
بابائے اردو مولوی عبدالحق کے رفیق کار اور خدمت گزار سکندر علی وجد کہتے ہیں:
’’کتاب کے عشق کے بغیر کتاب محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اب اس میں شک نہیں کہ ہماری کتابیں ملک سے باہر چلی جا رہی ہیں مگر مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہاں انہیں بڑی احتیاط اور اہتمام سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ فیومی گیشن ہوتا ہے، ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس کتابوں میں نیم کے پتے رکھ دیتے ہیں، اس لیے اور کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو کتابوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عشق چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ علم کا بھی عشق چاہیے مگر اب علم بھی نہیں ہے اور عشق بھی نہیں ہے۔ ہمارے گھروں میں ریڈیو ہے، ٹی وی ہے، سب کچھ ہے لیکن کتاب نہیں ہے۔‘‘
