Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

ادب  اطفال۔ایک تعارف ،مولانا اسماعیل میرٹھی کی تحریروں کے حوالے سے

            ا دب کو اظہار و بیان کا سب سے اعلی ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے،یعنی جتنے بھی عمدہ اور پر اثر انداز میں ہم اپنی بات،جزبات اور خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں اس اظہار کا نام ادب ہے۔

            ادب ک تعریف کرتے ہوئے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہ رقمطراز ہیں: ‘‘ادب دراصل انسان کے وجدان سے بنتا ہے،اور انسان کے وجدان کو متاثر کرتا ہے،اور وجدان کی یہ طاقت وصلاحیت اللہ تعالی نے ہر انسان کو دی ہے،خواہ وہ مفکر و محقق ہو،خواہ وہ جاہل و عامی ہو،اس وجہ سے ادب کا دائرہ کار بھی بہت وسیع ہے’’۔

            دوسری جگہ لکھتے ہیں:‘‘ادب نام ہے تجربات کے اظہار کا جو ایک حد تک ماحول سے وابسطہ ہیں،جس سے ادب بھی متاثر ہوتا ہے،ادب انسان کا وجدانی عمل ہے،اور انسانی وجدان پر اثر ڈالتا ہے،لہذا مسئلہ ہے انسان کا  اور اس کی زندگی کا اور ماحول کا اور اسلام کا زندگی کے  تمام پہلوؤں پر محیط ہوتا ہے،وہ ماحول سے وابستہ ہوتاہے،اور اس پر بھی اثر ڈالتا ہے،لہذا ادب میں اس کا سرایت کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں،اسلام زندگی کے کسی خاص یا محدود پہلوؤں تک محدود نہیں وہ تمام پہلوؤں میں پھیلا ہواہے،اور ادب کے چند پہلوؤں کو نہیں بلکہ ادب کی ان تمام حالتوں کو مسترد کرتا ہے جن میں کسی انسان کے معاملہ میں ظلم وحق تلفی ہوئی ہو یا پروردگار عالم کی مرضی پامال ہوتی ہے،ایسے حالات کے ساتھ جو ادب ہوگا وہ اسلامی ادب کے دائرہ سے خارج ہوگا،اور باقی حالات ہیں وہ ہمہ گیر بھی ہیں اور روادار بھی(۱)

                        ڈاکٹر اطہر پرویز ادب کی خوبی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:‘‘ادب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ زمانہ کے بہترین خیالات کو بہترین الفاظ میں بہترین ترتیب کے ساتھ محفوظ کرلیتا ہے،اس میں سچ پوچھئے تو اسے زمانہ کے نہ صرف بہتریں خیالات ،الفاظ اور اترتیب کے بلکہ اس میں اپنے زمانہ کی سچی روح ہوتی ہے۔(۲)

حضرات! ادب ادب ہے خواہ وہ بڑے کے لئے لکھا جائے یا خبر کے لئے ترتیب دیا جائے،لیکن اس میں ایک نمایاں فرق یہ ہوتا ہے کہ بچوں کے لئے لکھا جانے والا ادب ذہنی،لسانی اور عمر کے اعتبار سے بڑوں کے ادب سے مختلف ہوتا ہے،طرز بیان کا انتخاب موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے،جس طرح بڑوں کا ادب زندگی سے عبارت ہے اسی طرح بچوں کا ادب بھی روزمرہ کی زندگی سے قریب تر ہوتا ہے۔

حضرات! یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بر صغیر میں جب استعمار نے اپنے قدم جمائے،اور اس سے علمی ادبی میدان متاثر ہوا،اور اس کے تسلط کو ختم کرنے کے لئے اگر جوبی سیاسی جدوجہد کا سہارا لیا گیا تو اس بات سے انکار نہیں کیا  جاسکتا کہ دینی فکری میدان میں سامراج کے خاتمہ کے لئے اصل کام ادب نے کیا۔          

                        اور ان اصلاحی ادبی کوششوں کی ابتداء حضرت شاہ ولی اللہ ،حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل کی جدوجہد نظر آتی ہے۔

اور انہیں کے قافلے میں وہ علماء اور ادباء شامل ہوئے جن میں سے بعض نے برطانوی استعمار کو  اپنا ھدف بنالیا اور بعض نے ملت اسلامی کے تھکے ہارے دک و شکستہ ذہن و افراد کو سنبھالنے کو کوشش کی ،اس سلسلہ زریں کی ممتاز ہستیوں کو تزکرے ان کے اثر پزیر ادب کے ذریعہ لوگوں کو ذہنوں میں تازہ بنیں،فکر اسلامی کے حامل عظیم شاعر علامہ اقبال غیرت اسلامی کے حامل شعراء ظفر علی خان،الطاف حسین حالی،اکبر الہ آبادی اور علامہ شبلی نعمانی کی مؤثر نظموں اور اشعار نے جزبہ اسلام کو مہمیز کیا۔

                        برطانوی استعمار سے نبرد آزما ء شعراء میں مولانا محمد علی جونپوری ،حسرت موہانی،مولانا ابو الکلام آزاد،اور اسلامی قصوں کے علمبردار علماء و ادباء میں علامہ شبلی نعمانی،علامہ سید سلیمان ندوی،مولانا مناظر حسن گیلانی،مولانا عبد الماجد دریاآبادی اور اسی سلسلہ حکایت نگاری سے کام لینے والے ادباء میں مولانا عبد العلیم ،راشد المخیری،ڈپٹی نذیر احمد کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں،اور بچوں کے ادب کے سلسلہ میں حضرت مولانا اسماعیل میرٹھی کا نام سرفہرست آتا ہے۔

انیسوی صدی میں سائنس اور علم نفسیات نے تیزی کے ساتھ ترقی کی ،اور جدید سائنسی ایجادات سامنے آئیں،چنانچہ بچے احساسات،جزبات اور نفسیاتی رجحانات کی طرف بھی توجہ دی جانے لگی،نیز بچے کو بڑے کی اکائی تسلیم کر لیا گیا،سماج میں بچے کی ایک حیثیت مستحکم ہو گئی،اس کی حیثیت بیسوی صدی میں پوری طرح ابھر کر سامنے آئی،بچے کا موجودہ تصور بیسوی صدی ہی کا دین ہے،یہی وجہ ہے کہ بچے کے ادب کا تصور بھی بیسوی صدی میں ابھر کر سامنےآیا اور ادب اطفال اس ادب کو قرار دیا گیا،جو محض بچوں کی درس وتدریس کے لئے نہیں بلکہ ان کی تفریح رجحانات کی نشونما کے لئے ہو۔

                        ڈاکٹر خوشحال زیدی بچوں کے ادب کے بارے میں لکھتے ہیں:‘‘اگرچہ بچوں کے ادب میں ترقی کا سلسلہ انیسوی صدی سے ہی شروع ہو جاتا ہے،لیکن بیسوی صدی میں بچوں کے ادب میں زبردست انقلاب آتا ہے،اس صدی میں بچوں کا ادب عربی ممالک میں عروج پر پہونچا۔(۳)

مغربی ممالک اور مشرقی ممالک میں پیش کئے جانے والے بچوں کے ادب کے درمیان  فرق بتاتے ہوئے ڈاکٹر خوشحال زیدی کہتے ہیں:‘‘بحیثیت مجموعی مغربی ممالک کے ادب اطفال کو اجمالی جائزہ اس نتیجہ پر پہونچتا ہے کہ وہاں ہر دور میں سیاسی حالات نے بچوں کے ادب کو پوری طرح متاثر کیا،اور اس میں زمانے کے ساتھ تبدیلی آتی رہی،مغرب میں بچوں کے لئے جوادب پیش کیا گیا  اس کے پس پشت مادی مقاصد کارفرما رہے ہیں،مغرب ممالک کے بچوں کے ادب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں بچوں کو آزادی نفسیات،ذہنی رجحانات،نظریات ودل چسپیوں اور اس کی اپنی ضروریات کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی،جیسے وہ بڑوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلیاں ہوں۔

                        اس کے برعکس مشرقی ممالک مثلا ایرانی وہندوستانی وغیرہ کے ادب اطفال میں زندگی کے مادی پہلوؤں،سیاسی تقاضوں کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کی روش اختیار کی گئی،اور بچے کے اخلاق وکردار کو بلند کرنے کے لئے پند و نصیحت کا براہ راست وسیلہ ادب اطفال کو بنایا گیا۔(۴)

            بچوں کے ادب کے سلسہ میں گفتگو کرتے ہوئے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رقمطراز ہیں:‘‘آج سے پچاس سال قبل کا زمانہ سامنے رکھا جائے جب کی ذرائع ابلاغ کے نئے وسائل عام نہیں ہوئے تھے،تو بچوں کا ادب بچوں کو معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ان کی ذہن سازی بھی کرتا تھا اور کر سکتا تھا،بچوں کا یہ ادب تحریر اور گفتگو دونوں ذریعہ سے وجود میں آتا اور کام کرتا رہا،گفتگو والا حصہ عموما محفوظ نہیں کیا جا سکا،لیکن تحریر ادب مختلف نمونوں کی صورت میں خاصہ محفوظ ہے۔

            مزید لکھتے ہیں:‘‘بچوں کے ادب کو ہم بنیادی طور پر تین حصوں میں بانٹ سکتے ہیں،ایک تو تعلیمی ادب جس سے جس بیان اور سہل اسلوب کو تعلیمی مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے،دوسرا تفریحی ادب جس میں کہانیوں،قصوں اور نظموں کے ذریعہ بچوں کے لئے ثقافتی تفریح کا سامان مہیا کیا جا تا ہے،تیسرا تربیتی اصلاحی ادب جس میں ادبی پیمانے کا لحاظ کرتے ہوئے اخلاق و تربیت کے تقاضے سےمضمون بیان کیا گیا ہو۔(۵)

عہد سابق میں تعلیمی میدان میں ادبی طریقے کا لحاظ عام طور پر ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا،اور نصاب کی کتابیں مشکل اور حل طلب عبارتوں میں ہوتی تھیں،لیکن تعلیم کے موضوع پر جو تحقیق و تحسین کو کوششیں ہو ئی ان کے نتیجہ میں یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ درسی نصاب کی عبارتوں میں تسہل بلکہ ذہن کے لحاظ سے کشش کا سامان ہو،اس میں عربی اور اردو دونوں زبانوں میں خاص کام ہوا،عربی کی القراءۃ الراشدہ حضرت مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی کی کئی کتابیں قصص النبیین،قصص من التاریخ الاسلامی،ایسی کتابیں ہیں جو بہت مقبول ہوئیں۔

                        اردو میں بھی متعدد ادیبوں نے طبع آزمائی کی اور بچوں کے ادب پر بہت کچھ نثر ونظم دونوں میں لکھا،لیکن مولانا اسماعیل میرٹھی اس میدان کے مشہور اور سرخیل ہیں،ان کی کو شش لائق تحسین و متعدد خوبیوں کی مالک ہیں۔

ڈاکٹر سیفی میرٹھی اپنے تحقیقی مقالے‘‘اسماعیل میرٹھی حیات اور کارنامے’’میں رقمطراز ہیں:‘‘مولانا اسماعیل میرٹھی نے سب سے پہلے ایک قاعدہ اور اردو کی پہلی کتاب مرتب کی تھی،یہ دونوں چیزیں پہلی بار ۱۸۹۲ء چھپی تھی،دوسرے برس گرمیوں کی تعطیل میں اس سلسلہ کی بقیہ چار کتابیں مرتب کیں،۱۸۹۴ء text bookکمپنی نے یہ سلسلہ منظور کیا اور ڈائرکٹر سرشتہ تعلیم کے حکم سے یوپی کے تمام ابتدائی مدرسوں میں یہی سلسہ داخل نصاب ہوا۔(۶)

            ڈاکٹر خشحال زیدی لکھتے ہیں:

            ‘‘اسماعیل میرٹھی کی تیار کردہ دوسری کتب کے زیادہ تر مضامین حکایات،نظمیں،کہانیاں خود ان کی طبع زاد ہیں،اور کچھ فارسی اور انگریزی سے ماخوذ ترجمے ہیں،ان کی یہ درسی کتب ایک صدی گزرنے کے بعد بھی بچوں کے ادب میں اسی مقبولیت اور اہمیت کی حامل ہیں۔(۷)

مولانا میرٹھی کے تیارکردہ نصاب کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کسری منہاس لکھتے ہیں:‘‘بر صغیر میں اردو کی بہتریں کتابیں وہ ہیں جو اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لئے مرتب کیں،مولانا میرٹھی نے اتنا ہی نہیں کیا کہ موزوں انتخابات بچوں کی عمر کے لحاظ سے مرتب کر دئے بلکہ انہوں نے محسوس کیا کہ اردو زبان میں بڑی کمی یہ ہے کہ مختلف عمر کے بچوں کے لئے موزوں نظمیں موجود نہیں،اس کمی کو خود انہوں نے پورا کیا۔(۸)

مولانا میرٹھی نے اخلاقیات و تہذیب  کی تعلیم کے لئے کہانیاں لکھیں،جن میں پند ونصائح کے اعلی نمونے ہیں،ان میں بہادروں کے کارنامے بھی شامل ہیں۔

                        مولانا کے ذریعہ مرتب کی گئ کتابوں میں ایسے معلوماتی مضامین بھی ہیں جو بچوں کو مختلف موضوعات پر سیر حاصل معلومات فراہم کرتے ہیں،اس کے علاوہ تاریخی مضامین بھی ہیں جو بچوں کو تاریخی شخصیتوں سے واقف کراتے ہیں،تاکہ بچوں میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی کا جزبہ ابھرے اور وہ اعلی کردار کے حامل بنیں۔

                        ان مضامین وحکایات کے ساتھ ساتھ مولانا نے بچوں کے لئے مختلف موضوعات پر بہت سی نظمیں بھی لکھیں ہیں جن میں اخلاقیات پر زور دیا گیا ہے،ان کا طرز نگارش بہت آسان سادہ اور دلچسپ ہے۔

                        مولانا کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی ہر کتاب کو حمد وثناء سے شروع کرتے ہیں،اور ایسی نظمیں لے آتے ہیں جس میں خدا کی وحدانیت و عبودیت کا عنصر غالب ہونا کہ بچوں کے ذہن ودماغ،قلب ونظر پر یہ بات مرتسم ہوجائے کہ اصل ذات باری تعالی کی ہے۔

حمد کےچند اشعار ملاحظہ ہوں:

            جو چیز خدا نے بنائی ہے         اس میں ظاہر ہے خوشنمائی

            کیا خوب ہے رنگ ڈھنگ اس اکا         چھوٹی بڑی جس قدر ہیں اشیاء

            روشن چیز بنائی اس نے          اچھی شکلیں دکھائی اس نے

            ہر چیز کی ہے ادا نرالی           حکمت سے نہیں ہے کوئی خالی

            ہر چیز ہے ٹھیک ٹھیک لا ریب             ہیں اس کا تمام کام بے عیب(۹)

ہے ہمیشہ میری خدا یہ نظر      رات ہو دن ہو کہ شام ہو کہ سحر

نہ اجالے میں ہے کسی کا ڈر     نہ اندھیرے میں کوئے خوف وخطر

            کیوں کہ میرا خدا ہے میرے ساتھ(۱۰)

حمد  کے چند اشعار:

            اے خدا تو خالق ورزاق ہے    اے خدا تو خالق وخلاق ہے

            تیری خلاقی خیز ہے              تیری رزاقی عجب انگیز ہے

                        کم عمری میں گھر ہو باہر بچے کو ہر موقع پر اخلاقی دوست اور پندونصیحت کی ضرورت پڑتی ہے،اردو ادب اطفال میں ایسی نظمیں بکثرت ہیں،مولانا میرٹھی نے بھی ایک نظم اسی مضمون کے تحت کہی جس کے منتخب اشعار یہ ہیں:

            دکان بند کر کے رہا بیٹھ جو       تو دی اس نے بلکل ہی لٹیا ڈبو

            نہ بھاگوں کبھی چھوڑ کر کام کو  توقع تو ہے خیر جو ہو سہو

                        کئے جاؤ کوشش میرے دوستو

            نہ تم ہچکچاؤ نہ ہر گز ڈرو          جہاں تک بنے کام پورا کرو

            مشقت اٹھاؤ مصیبت بھرو     طلب میں جیو جستجو میں مرو

                        کئے جاؤ کوشش میرے دوستو

                        ہندوستان ایک وسیع و عریض ملک ہے،جس میں بے شمار مناظر فطرت ہیں،مولانا نے ان مناظر پر بھی خامہ فرسائی کی،آپکی ایک نظم کوہ ہمالی ہے،جومناظر فطرت سے تعلق رکھنے والی نظموں میں سرفہرست ہے۔

مولانا کہتے ہیں:

            ہے ہمالیہ پہاڑ سر جیون         جس کے اوپر تلے کھڑا ہے من

            بیل بوٹوں سے بن رہا ہے چمن            سبز چوٹی میرے بھرے دامن

            اے ہمالیہ پہاڑ تیری شان      دنگ رہ جائے دیکھ کر انسان

            ساری دنیا میں ہے تو پاک      پہونچے جب پاس دیکھنے  والا

                        روز مرہ کی زندگی میں کام آنے والی مشینیں اور سواریاں ،ان کی تیز رفتاری اور مختلف آوازیں بچوں کی حیرت واستعجاب میں اضافہ کرتی ہیں،بلکہ انہیں ان چیزوں کی ماہیت پر غوروفکر کرنے پر آمادہ بھی کرتی ہیں،ان چیزوں کو موضوع بنا کر متعدد شعراء نے نظمیں لکھیں،مولانا میرٹھی نے بھی ایک نظم لکھی جس کا ایک اقتباس یہ ہے:

نہر پر چل رہی بن چکی          دھن کی پوری ہے کام کی چکی

بیٹھتی نہیں کبھی تھک کر       تیرے پہئے کو ہے سدا چکر

پیسنے میں نہیں لگی عمود پر       تونے جھٹ پٹ لگادیا اک ڈھیر

اردو ادب اطفال کی نثری اصناف میں سب سے اہم صنف کہانی ہے،ادب اطفال کا زیادہ تر حصہ کہانیوں پر مشتمل ہے،انیسوی صدی عیسوی میں کہانیاں خاص مقصد کے لئے لکھی جانے لگیں،جس میں محمد حسین آزاد ،ڈپٹی نزیر احمد اور مولانا اسماعیل میرٹھی کا نام خاص طور پر کہانی لکھنے والوں میں لئے جا سکتے ہیں۔

                        مولانا میرٹھی کی ایک کہانی جس کا عنوان ہے ‘‘سچائی’’اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے‘‘سچائی سے صرف یہ مراد نہیں کہ آدمی کوئی بات خلاف واقعہ بلکہ سچائی کئی طرح کی ہوتی ہے،جو اس کی جملہ اقسام میں کمال رکھتا ہو وہی کامل سچاہے،کہتے ہیں کہ اس بات کی سچائی یہ ہے کہ کسی قسم کی کوئی دریغ گوئی نہ کرے،نہ تو خبر کے بیان کرنے میں جو ماضی وحال سے متعلق ہو،اور نہ وعدہ میں جو مستقبل سے منسوب ہو،بلکہ یہاں تک تاکید کی گئی ہے کہ جھوٹ موٹ کے بہلانے یا کسی کام پر رضامند کرنے یا مکتب بھیجنے کی غرض سے جو وعدے ان کے والدین یا مربی کریں ان کو ضرور وفا کرنا چاہئے۔

حضرات!یہ چند جھلکیاں اور اقتباسات تھے،مولانا میرٹھی کی تحریروں میں ان کا بڑا کارنامہ ہے جو چند صفحات میں تحریر نہیں کیا جاسکتا،وہ ادب اطفال کے معمارتھے،اور اس میں کوئی شک نہیں کی مولانا اسماعیل کے ادبی کارناموں کا سب سے اہم جزء ادب اطفال ہے،بلاشبہ مولانا اردو میں بچوں کے سب سے بڑے شاعر وادیب ہیں۔

Editor's Note

Why this story matters

ادبِ اطفال: ایک تعارف، مولانا اسماعیل میرٹھی کی تحریروں کے حوالے سے ایک تحقیقی و تعارفی مضمون ہے جس میں ادبِ اطفال کی اہمیت، اس کے بنیادی مقاصد اور بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور فکری تربیت میں اس کے کردار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں خصوصاً مولانا اسماعیل میرٹھی کی بچوں کے لیے لکھی گئی تحریروں کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے اسلوب، زبان، تعلیمی و تربیتی پہلو اور ادبی خدمات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

About the Author

Mohd Zaid

Contributor

محمد زید نہضہ نیٹ ورک برائے میڈیا و ثقافت کے محرر ہیں، جہاں وہ اپنی دلچسپی کے شعبوں میں مضامین، رپورٹس، تراجم اور دیگر اداریاتی مواد کی تیاری میں تعاون کرتے ہیں۔

View all stories →

What do you think?