کتاب کا نام : شہاب نامہ
مصنف: قدرت اللہ شہاب
(خود نوشت سوانح)
زبان: اردو
پہلی اشاعت: 1987ء
ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی
صفحات: 840
تبصرہ نگار:ناصرالدین مظاہری
مظاہرعلوم وقف سہارنپور
ایک طرف قلی کی زندگی، دوسری طرف اقتدار کے ایوان؛ ایک طرف معمولی محنت مزدوری، دوسری طرف ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری مناصب؛ ایک طرف طالب علم کی جدوجہد، دوسری طرف حکمرانوں کا قرب ۔ قدرت اللہ شہاب کی زندگی محض ترقی کی داستان نہیں، ایک پورے عہد کے حیرت انگیز سفر کی داستان ہے۔ یہی سفر جب قلم کی گرفت میں آیا تو زیر تذکرہ ارمغان ” شہاب نامہ "وجود میں آیا؛ ایک ایسی خودنوشت جو ایک شخص کی زندگی بیان کرتے کرتے اپنے عہد کی تاریخ، سیاست، معاشرت اور اقتدار کے کئی پردے اٹھا دیتی ہے۔
قدرت اللہ شہاب نے انڈین سول سروس میں جگہ بنائی، تقسیم ہند کے ہنگامہ خیز دور کو دیکھا، پاکستان کے انتظامی نظام کا حصہ بنے اور ملک کے اعلیٰ سرکاری مناصب تک پہنچے۔ انہوں نے جو کچھ قریب سے دیکھا، اسے محض سرکاری رپورٹ کی زبان میں نہیں بلکہ ایک صاحبِ اسلوب ادیب کی زبان میں لکھا؛ اسی لیے شہاب نامہ میں تاریخ بھی ہے، مشاہدہ بھی، واقعہ بھی اور قصہ بھی۔
قدرت اللہ شہاب 24 جولائی 1986ء کو وفات پاگئے اور شہاب نامہ ان کی وفات کے بعد 1987ء میں شائع ہوئی۔ کتاب بازار میں آئی تو اس نے غیر معمولی توجہ حاصل کی اور پہلے ہی سال اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ بعد کے برسوں میں بھی اس کی مقبولیت برقرار رہی اور یہ اردو کی معروف اور کثیرالاشاعت خودنوشتوں میں شمار ہونے لگی۔
میری معلومات کے مطابق یہ اردو ادب کی شاید پہلی کتاب ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگوں کو مکتبوں کے سامنے لائن میں لگنا پڑا۔یہ کسی بھی کتاب کی مقبولیت کی عجیب مثال ہے ۔ اس کا پہلا ایڈیشن اتنی تیزی کے ساتھ ختم ہوا کہ ناشر اور طابع بھی حیرت زدہ رہ گئے۔
شہاب نامہ کی کشش صرف اس لیے نہیں کہ اس کا مصنف بڑے عہدوں پر فائز رہا تھا۔ اصل کشش یہ ہے کہ مصنف نے اقتدار کو باہر سے نہیں، اندر سے دیکھا تھا۔ سرکاری دفاتر، حکمران، افسران، سیاسی حالات، تقسیم ہند، معاشرتی تبدیلیاں اور اپنی ذاتی زندگی سب ایک ہی بیانیے میں آتے چلے جاتے ہیں۔
اس کتاب کا ایک بڑا وصف اس کا اسلوب ہے۔ زبان رواں ہے، واقعات میں قصہ پن ہے، جزئیات میں مشاہدے کی تازگی ہے اور بیان میں ایسی گرفت ہے کہ قاری ایک واقعے سے دوسرے واقعے تک خود بخود کھنچتا چلا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شہاب نامہ صرف تاریخ کے طالب علموں کی کتاب نہیں بنی؛ عام قاری نے بھی اسے اسی شوق سے پڑھا۔
شہاب نامہ کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ اس میں قدرت اللہ شہاب کی روحانی دلچسپیاں، باطنی تجربات اور بعض غیر معمولی واقعات بھی تفصیل سے آتے ہیں۔ یہی حصہ کتاب کو عام خودنوشتوں سے ممتاز بھی کرتا ہے اور قاری سے یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ وہ یادداشت، ادبی بیان، تاریخی واقعے اور ذاتی تجربے کے درمیان فرق ملحوظ رکھے۔
شہاب نامہ کی اصل خوبی شاید یہ ہے کہ یہ ایک آدمی کی داستان ہوتے ہوئے بھی صرف ایک آدمی کی داستان نہیں رہتی۔ اس میں ایک شخص کے بچپن سے لے کر اس کے سرکاری عروج تک کا سفر ہے، مگر ساتھ ہی برصغیر کے ایک بڑے تاریخی تغیر کی جھلک بھی ہے۔
یہاں ایک قلی بھی ہے، ایک طالب علم بھی؛ ایک افسر بھی ہے اور ایک صاحبِ اقتدار کے قریب رہنے والا شخص بھی۔ زندگی کے یہ مختلف رنگ ایک ہی کتاب میں جمع ہوجاتے ہیں۔
قدرت اللہ شہاب دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی خودنوشت نے ان کے بعد بھی سفر جاری رکھا۔ یہی کسی کتاب کی بڑی کامیابی ہے کہ مصنف چلا جائے مگر کتاب کا قاری باقی رہے، زمانہ بدل جائے مگر کتاب کی قرأت نہ رکے۔
شہاب نامہ اسی طرح کی کتاب ہے۔
مہکتی کتابیں وہی ہوتی ہیں جن کے اوراق بند کرنے کے بعد بھی ان کی خوشبو ذہن میں باقی رہ جائے۔ شہاب نامہ انہی کتابوں میں سے ایک ہے۔
اگر آپ اردو ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں، واقعی ادب کے ساتھ تہذیب و معاشرت، خردوکلاں کے ساتھ مصاحبت، مختلف سوسائٹیوں میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کا فن اور ہنر جاننا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کو بہت کچھ دے کر جائے گی۔ کتاب مہنگی ضرور ہے مگر پڑھنے کے بعد دل گواہی دیتا ہے کہ مہنگی کہاں ہے۔
