Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

ایمان ویقین کا ایک تاریخی واقعہ

تاریخ انسانی کے بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف قصے اور داستانوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ہمت و شجاعت،عزم و یقین، بے مثال قیادت اور سر بلندی اسلام کے بہترین کارنامے ہوتے ہیں۔

تاریخ انسانی کے بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف قصے اور داستانوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ہمت و شجاعت،عزم و یقین، بے مثال قیادت اور سر بلندی اسلام کے بہترین کارنامے ہوتے ہیں۔ ان بے مثال اور بے نظیر واقعات میں حال کو سمجھنے اور مستقبل کو سنوارنے کا پیغام بھی ہوتا ہے۔طارق بن زیاد کا واقعہ بھی انہی زندہ اور تابندہ واقعات میں سے ایک ہے۔”طارق بن زیاد اسلامی تاریخ کے ایک نوجوان ہیرو کا ہی نام نہیں بلکہ ایک ذہن کا نام بھی ہے۔ طارق کا ذہن ان کی تاریخی شخصیت سے زیادہ اہم اور تاریخ ساز ہے۔
یہ تاریخی واقعہ اسلامی تاریخ کا نا قابلِ فراموش حصہ ہے کہ طارق بن زیاد نے ۹۲ھ میں مراکش سے چل کر آبنائے پار کر کے ساحلِ اسپین پر جب ڈیرا جمایا تو اس نے اس بحری بیڑے کو نذر آتش کر دیا جس نے اسے اس ساحل پر پہنچایا تھا۔ اب طارق کی فوج کے سامنے دو ہی راستے تھے یا تو وہ اس ملک کو فتح کر کے اس میں اپنا مرکز قائم کرے یا دشمن کی طاقت سے ٹکرا کر فنا ہو جائے اور یہ دونوں امکانات بہت واضح تھے۔
در حقیقت عالم اسباب میں دشمن کی طاقت سے ٹکرا کر فنا ہو جانے کا امکان بہت قوی تھا۔ شکست کی شکل میں ہر صاحب فکر سالار اپنی فوج کی پسپائی کے راستے کو ہموار رکھتا ہے۔ طارق بن زیاد نے اس بحری بیڑے کو جلا کر شکست کی شکل میں اپنی واپسی کے ہر راستے کو مسدود کر دیا تھا۔ ہمارے مورخین نے فقط بحری بیڑے کو جلانے والے حصہ کو لکھا ہے اور اسی کو پوری تاریخ سمجھا ہے حالانکہ یہ حصہ نصف تاریخ ہے۔
یہ بھی ممکن تھا کہ طارق کی فوج اسپین میں شکست کھا جاتی اور واپسی کی کوشش میں دریا برد ہو جاتی ۔ اس شکل میں یہ ہوتا کہ طارق کا نام تاریخ کے کسی حاشیے میں ایک ناکامیاب ناعاقبت اندیش جنرل کی حیثیت سے درج ہوتا لیکن اسپین کی وہ چھ سو سال کی عظیم تہذیبی تاریخ جس کا سہرا طارق کے سر بندھا، نہ بنتی۔
مسلمانوں نے طارق بن زیاد کے اس فیصلے کو اُن کے ایمان کی دلیل اور جذبہ جہاد کے تیقن کے طور پر دیکھا ہے۔ مگر طارق کا یہ فیصلہ محض جذباتی نہ تھا ، ان کے جذبات ایمانی اور خود اعتمادی کے پیچھے ان کا عسکری تدبر، وسائل کے صحیح استعمال کی صلاحیت، فوجی نظم وضبط ، دشمن کی کمزوریوں سے استفادہ، جغرافیائی حالات کا علم سب شامل تھا۔ در حقیقت طارق کی فتح بحری بیڑا جلانے سے نہیں ہوئی بلکہ اپنی طاقت اور وسائل کے صحیح استعمال اور دشمن کی کمزوریوں سے واقفیت اور ان کی طاقت کو رد کرنے کی صلاحیت سے ہوئی۔ طارق کا ذہن دراصل دو اصولوں کا نام ہے۔ ایک ان وسائل سے قطع تعلق کرنا جو مستقبل کی فتح کی راہ میں حائل ہوں اور دوسرا ان وسائل کا صحیح استعمال کرنا جو مستقبل کی فتح کے راستے کو ہموار کریں۔
مورخین نے صرف پہلے اصول کو دیکھا دوسرے کو نہیں دیکھا حالانکہ دوسرا اصول یعنی وسائل کا صحیح اور مدبرانہ استعمال ، پہلے سے زیادہ اہم ہے- ہم نے طارق کے بعد پہلے اصول کی بنیاد پر بیڑا جلا کر کئی بار شکست کھائی ہے۔ کیونکہ ہم نے دوسرے اصول کو نظر انداز کر دیا تھا. جب تک ہم طارق بن زیاد کی فتح سے پورا سبق نہیں لیں گے ہم اپنا بیڑا اپنے ہاتھ سے یونہی جلاتے رہیں گے اور یونہی خودکشی کرتے رہیں گے۔
عالمی طور پر گزشتہ دو سو سال کی مسلمانوں کی جد و جہد اور مسلسل شکست ان کے اپنے ذہن کی پیدا کردہ ہے اور ان کا اصل مسئلہ اسلحے کی کمی نہیں ہے، وسائل کی فراہمی اور ان کا صحیح استعمال ہے ۔ مسلمان مغربی ممالک سے اپنے وسائل کا بیشتر حصہ خرچ کر کے اسلحہ خریدتے ہیں پھر اُس سے اپنے کو ہی زخمی کرتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے مالی وسائل مغرب و مشرق سے علمی وسائل کے حصول میں خرچ ہوں اور ہم انہیں صحیح طور پر استعمال کرنے کا سلیقہ جانتے ہوں۔ اس علمی دور میں فتح کرنے کے لئے زمین کی ضرورت نہیں بلکہ تعلیم کی ہے۔ بحری بیڑے کو جلانے کی نہیں، وسائل کے صحیح استعمال کی ہے ۔ اسلحہ کی نہیں علم کی ہے۔
یاد رکھئے ! کمپیوٹر اور ایک میز کرسی سے بل گیٹس نے دنیا اور عبد العظیم پریم جی نے ہندوستان فتح کر لیا ۔ اس فتح کے دروازے آج کے دور میں ہر صاحب فکر و عمل انسان پر کھلے ہیں۔ اور آپ پر بھی”۔(صریر خامہ از ڈاکٹر عابد اللہ غازی،ص،۱۰۰-۱۰۱)
آج کا دور صرف میدان جنگ کا نہیں بلکہ یہ علمی، فکری اور تہذیبی دور ہے- اس دور کو ” الغزو الفکری” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے- یہاں تلواروں کی جگہ فکری یلغار ہے اور لشکروں کی جگہ میڈیا نے لے لی ہے- ایسے میں طارق بن زیاد کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواہ کوئی بھی معرکہ ہو عزم کا دامن تھامے رہنا ہے۔ جب قومیں اپنے مقصد سے غافل ہو جائیں، جب نوجوان مایوسی اور انتشار کا شکار ہو جائیں، تو انہیں طارق بن زیاد کے اس واقعہ کو سامنے رکھنا چاہیے اور ہر طرح کے مقابلہ کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے ۔آج ہمیں بھی اپنے اندر کے خوف، سستی اور بے یقینی کی کشتیوں کو جلانا ہوگا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم پیچھے ہٹنے کے بہانے تلاش کریں گے یا آگے بڑھنے کے راستے۔ تعلیم، تحقیق، اخلاق و کردار اور عزم و ہمت میں پختگی کے ساتھ اسلام کی نشر و اشاعت کو اپنا شعار بنائیں، آنے والی تمام مشکلات کا سامنا ہمت و شجاعت کے ساتھ کریں اور ہر میدان کو فتح کرتے چلے جائیں ۔
لہٰذا طارق بن زیاد کا واقعہ بھی ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، اگر ارادے بلند ہوں اور یقین مضبوط ہو تو حالات کا دھارا بدلا جا سکتا ہے۔ اگر ہم واقعی زوال سے عروج کی طرف سفر کرنا چاہتے ہیں اور کھویا ہوا اپنا ماضی واپس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں طارق بن زیاد کے جذبے اور یقین کامل کو اپنی رگوں میں اتارنا ہوگا۔ ایسا یقین کہ جس سے کمزور دلوں کو ہمت نصیب ہو، ایسا عزم جو تاریخ کے دھارے کو بدل دے ۔ تاریخ آج بھی اُن قدموں کی منتظر ہے جو خوف سے آزاد اور یقین سے لبریز ہو کر آگے بڑھیں کیوں کہ کامیابی انہی کا مقدر بنتی ہے جو وقت کے چیلنجز کا مقابلہ حوصلے، ہمت، حکمت اور ثابت قدمی کے ساتھ کرتے ہیں۔

About the Author

Dr Obaidur Rahman Nadwi

Columnist

ڈاکٹر عبید الرحمٰن ندوی ہندوستان کے معروف اسلامی اسکالر، ماہرِ تعلیم، مصنف اور صحافی ہیں۔ وہ عربی زبان و ادب، اسلامیات، تعلیم اور صحافت کے شعبوں میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے فیکلٹی ممبر اور شعبۂ صحافت و لغات کے سربراہ ہیں، جبکہ The Fragrance of East کے اسسٹنٹ ایڈیٹر بھی ہیں۔ ڈاکٹر ندوی نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں اور ہندوستان و بیرونِ ملک علمی، ادبی اور صحافتی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔

View all stories →

What do you think?