Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبدالغنی: تاریخ، تعارف اور تجزیہ

شیخ محمد محسن بن یحیی ترہتی نے اپنے جلیل القدر استاذ شاہ عبدالغنی مجددی رحمہ اللہ کے سلسلۂ سند پر”الیانع الجنی فی أسانید الشيخ عبد الغنی“ کے نام سے ایک عظیم علمی سوغات تیار کی تھی جس کے حصے میں اللہ نے ایسی مقبولیت رکھی کہ بر صغیر کے تمام علماء کے لیے اسنادِ حدیث کے باب میں اس کو مرجع کی حیثیت حاصل ہوگئی –

مصنف: مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی 

ناشر: سید مصباح الدین اشرف 

صفحات: ٣٣٦ 

قیمت: ٤٠٠ 

تبصرہ نگار: لقمان عثمانی 

اِس وقت میری مطالعے کی میز پر جو کتاب موجود ہے وہ درحقیقت ایک خواب کی تعبیر ہے، وہی خواب جو ربع صدی قبل فقیہ العصر قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ کی تحریک اور پھر متعدد علماء کی تحریض پر مفتی خالد نیموی نے اپنی جاگتی آنکھوں میں سجایا تھا، آج تقریباً پچیس سالوں کی مسلسل بحث و تحقیق اور طویل جستجو کے بعد اس خواب کی مجسّم تعبیر: ”عظیم محدث علامہ شیخ محمد محسن ترہتی اور ان کی شہرۂ آفاق تصنیف الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبد الغنی: تاریخ، تعارف اور تجزیہ“ کے نام سے اکابر علماء کی تائید و توثیق کے ساتھ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے –  

شیخ محمد محسن بن یحیی ترہتی نے اپنے جلیل القدر استاذ شاہ عبدالغنی مجددی رحمہ اللہ کے سلسلۂ سند پر”الیانع الجنی فی أسانید الشيخ عبد الغنی“ کے نام سے ایک عظیم علمی سوغات تیار کی تھی جس کے حصے میں اللہ نے ایسی مقبولیت رکھی کہ بر صغیر کے تمام علماء کے لیے اسنادِ حدیث کے باب میں اس کو مرجع کی حیثیت حاصل ہوگئی –  

آج تقریباً ڈیڑھ صدی کے بعد شیخ محسن ترہتی کے احوال و آثار، الیانع الجنی کا تعارف و تجزیہ اور اکابر و مشائخ کی نگاہ میں کتاب و صاحبِ کتاب کی عظمت و اہمیت کو اس جامعیت کے ساتھ مولانا مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی نے یکجا کردیا کہ اب امید کی جا سکتی ہے کہ ان شاءاللہ علومِ حدیث سے شغف رکھنے والوں اور مجالِ تحقیق کے خدمت گاروں کے لیے مفتی صاحب کی یہ کتاب بھی مرجعیت حاصل کر لے گی اور شیخ محسن ترہتی کی حیات و خدمات سے مفصل طور پر آگاہ ہونے کی چاہ رکھنے والا کوئی شخص بھی اس کتاب سے بے نیاز نہیں رہ سکے گا – 

ہم باشندگانِ بیگوسرائے کے لیے یک گونہ اضافی خوشی کا باعث ہے کہ شیخ مجددی کی اسانید کو جمع کرنے والے علامہ محسن ترہتی، اور علامہ محسن ترہتی کی حیات و خدمات کو اتنی جامعیت کے ساتھ محفوظ کرنے والے مفی خالد نیموی، ان دونوں حضرات کا تعلق اسی سرزمینِ بیگوسرائے سے ہے – 

اس سے قبل شیخ محسن کے تعلق سے جو بھی معلومات تھیں وہ مختلف کتابوں میں بکھری ہوئی تھیں، چند سال قبل مفتی خالد نیموی کے ہمراہ علامہ ترہتی کے آبائی گاؤں خضرچک جانے کا موقع ملا تھا، واپسی کے بعد سفرنامہ لکھنے کا ارادہ ہوا اور تلاش و جستجو شروع کی تو اس وقت یہ احساس فزوں تر ہوگیا کہ معلومات انتہائی محدود بھی ہیں اور منتشر بھی، مزید یہ کہ ان معلومات میں کچھ خلافِ حقیقت چیزیں بھی شامل ہوگئی ہیں جن سے لوگوں کو مختلف طرح کے اشتباہات کا بھی سامنا تھا؛ مثلا علامہ عبدالحئی حسنی نے نزہۃ الخواطر میں شیخ کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے: 

"الشيخ العالم المحدث: محسن بن يحيى البكري التيمي الترهتي الفريني صاحب اليانع الجني في أسانيد الشيخ عبد الغني كان من كبار العلماء، ولد و نشأ ب ”بورنيه“ بلدة من أرض”ترهت “ ( نزهة الخواطر، ج : ٧، ص: ٤٤٧) 

اس میں شیخ محسن کی جائے پیدائش پورنیہ کو قرار اور ساتھ ہی پورنیہ کو ترہت راج کا حصہ بتایا ہے جب کہ پورنیہ کبھی بھی ترہت کا حصہ نہیں رہا اور نا ہی شیخ کی پیدائش پورنیہ میں ہوئی؛ البتہ”فرینی“ نسبت کا پسِ منظر یہ ہے کہ شیخ کا ننھیال پورنیہ میں تھا، اسی طرح دیگر اہلِ علم سے بھی بعض مقامات پر تسامحات سرزد ہوئے ہیں؛ لیکن چوں کہ مفتی صاحب کو شیخ محسن ترہتی کے خانوادے، خصوصاً جناب سید مصباح الدین اشرف کا بھرپور تعاون حاصل رہا اور چند دستاویزات و زمینی کاغذات سمیت دیگر شواہد بھی دستیاب ہوگئے جن کی روشنی میں تمام تسامحات کا بھرپور جائزہ لیا گیا اور انھیں معیارِ تحقیق پر اتارتے ہوئے مستند حقائق کو سپردِ قلم کردیا گیا ہے جو اب کتابی شکل میں ہم سب کے سامنے ہے – 

میں نے اب تک شروع کے چند صفحات کا بالاستیعاب اور پھر مابقیہ کا سرسری مطالعہ کیا ہے، یہ کتاب ٣٣٦ صفحات پر مشتمل ہے، طباعت شاندار اور کاغذ انتہائی نفیس ہے؛ البتہ کمپوزنگ میں کئی جگہوں پر کمی محسوس ہوئی، جن کو مزید تھوڑی سی توجہ صرف کرکے اور بھی بہتر کیا جا سکتا تھا، متعدد مقامات پر کتابت کی بھی غلطیاں نظر آئیں، کہیں کہیں پہ عربی عبارات پر اعراب لگانے میں زبر کی جگہ زیر لگا دیا جو دراصل عربی کتابت کے مزاج و مذاق اور اس کے اصول و ضوابط سے ناواقفیت پر منتج ہے؛ مثلاً اپنی تقریظ میں استاذِ گرامی قدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے علامہ محمد بن سیرین کا ایک قول نقل کیا: ”إن هذا العلم دين، فانظروا عمَّن تأخذون دينكم“ یہاں پہ کتابت میں”عمَّن“ پہ فتحہ کی جگہ کسرہ ”عمِّن“ لکھ دیا گیا،”نزهة الخواطر وبهجة المسامح والنَّواظر“ کی ”والنِّواظر“ اور ”اتحاف النَّبيه“ کی جگہ ”اتّحاف النِّبيه“ ہوگیا؛ غرضیکہ اس طرح کی غلطیوں کا متعدد مقامات پر اعادہ کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کاتب کے ذہن میں شاید یہ اصول مستحضر نہ تھا کہ عربی الفاظ پہ تشدید کے ساتھ اگر فتحہ لکھنا ہو تو وہ تشدید کے اوپر لکھا جاتا ہے اور کسرہ تشدید کے نیچے آتا ہے؛ لیکن غالباً کاتب صاحب نے محض حرف کے اوپر حرکت ہونے کی وجہ سے اسی کو فتحہ سمجھ لیا جو غلط ہے، اسی طرح صفحہ ٢٥ کی چھٹی سطر میں تصنیفات کی جگہ تصیفات، صفحہ ٣٣ کی پہلی سطر میں شستہ کی جگہ ششتہ اور صفحہ ٣٥ کی پہلی سطر میں ١٨٦٩ء کی بجائے ١٨٧٩ء درج ہوگیا… بہر حال نظرِ ثانی و نظرِ نہائی کے بعد بھی اس طرح کی غلطیاں بسا اوقات رہ جاتی ہیں جو بڑی بات نہیں؛ لیکن امید ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں ان کی اصلاح کرلی جائے گی – 

اس کتاب کو تیرہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے: 

باب اول: امتِ مسلمہ کا حدیث سے شغف 

باب دوم: علمائے ہند اور خدمتِ حدیث 

باب سوم: مونگیر کی تاریخی حیثیت 

باب چہارم: علامہ ترہتی کی ذاتی زندگی 

باب پنجم: علامہ ترہتی کی عمومی عظمت پر ایک نظر 

باب ششم: علامہ ترہتی سے متعلق چند امور کی مزید تحقیق 

باب ہفتم: اصحاب الرائے و اصحاب الحدیث 

باب ہشتم: کتاب”الیانع الجنی“ کا تعارف 

باب نہم: کتاب کے اولین ناشر اور مطبع صدیقی کا تعارف 

باب دہم: خضرچک کا مشہورِ زمانہ کتب خانہ 

باب یازدہم: بعد کے احوال 

باب دوازدہم: بیگوسرائے اپنی تاریخ اور خصوصیات کے آئینے میں 

باب سیزدہم: مشائخِ بیگوسرائے کا تذکرہ 

ان تمام ابواب کے ذیل میں متعلقہ امور پر مفصل اور محقق گفتگو کی گئی ہے؛ لیکن چند مضامین ایسے بھی ہیں جن کا بے جا تکرار نظر آیا جو اطنابِ مُمِل کے قبیل سے ہے؛ مثلا بابِ سوم (مونگیر کی تاریخی حیثیت) کے ذیل میں بیگوسرائے کی خصوصیات اور ممتاز علماء و مشائخ کا تذکرہ معلومات افزا اور کافی و شافی انداز میں آگیا تھا، اس کے بعد ”بیگوسرائے اپنی تاریخ اور خصوصیات کے آئینے میں“ کے عنوان سے مستقل باب قائم کرکے کتاب کو بوجھل کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی؛ البتہ تیسرے باب میں ہی مزید تفصیل کا سہارا لیا جا سکتا تھا لیکن مفتی صاحب نے اِس تمہید کے ساتھ اُس بارہویں باب کا اضافہ کرکے اپنے ایک شائع شدہ مضمون کو شامل فرما دیا کہ:  

"یہ مضمون مختلف مجلات میں "ہاں میں ضلع بیگوسرائے ہوں” کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے؛ چوں کہ یہ مضمون، موضوع سے کافی حد تک تعلق رکھتا ہے اس لیے اسے ذیل میں درج کیا جاتا ہے“ 

اسی طرح بیگوسرائے کے علماء و مشائخ کا سرسری تذکرہ تیسرے باب میں آگیا تھا، پھر بارہویں باب میں اس کا اعادہ کیا گیا اور پھر تیرہواں باب مستقل ”مشائخِ بیگوسرائے کا تذکرہ” کے عنوان سے قائم کرکے تفصیلی تذکرہ کیا گیا، میں سمجھتا ہوں کہ بارہویں باب کو خارج کرکے ان تمام مکررات سے کتاب کو محفوظ کیا جا سکتا تھا –  

اسی طرح ساتویں باب میں مفتی صاحب نے بڑے علمی انداز میں اصحاب الرائے و اصحاب الحدیث کے موضوع پر گفتگو کی ہے، ان کے مابین فرق کو واضح کیا اور مختلف مکاتبِ فکر کا بھی تعارف کرایا؛ لیکن ان سب کے باوجود مجھے کتاب کے نفسِ موضوع سے اس کا کوئی خاص تعلق نظر نہیں آیا، در اصل اس کے ماقبل میں مفتی خالد نیموی نے شیخ محسن ترہتی کے اہلِ حدیث (سلفی) ہونے کے ایک اشتباہ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور مفتی صاحب نے دلائل و شواہد کے ساتھ یہ ثابت کردیا کہ شیخ محسن ترہتی حنفی المسلک تھے نیز شیخ ترہتی کو بعض علماء کی جانب سے "اہلِ حدیث” کہنے کی توجیہ اور اس کی مراد کو بھی واضح کردیا، اس کے بعد اصحاب الرائے و اصحاب الحدیث کے عنوان سے مستقل باب قائم کرنا گرچہ قارئین کے علم میں اضافے کا سبب بنے گا تاہم بات مکمل ہوجانے اور حقائق کو دلائل و شواہد کی روشنی میں اجاگر کردینے کے بعد وہ مقام اِس اضافی بحث کا متحمل نہیں رہ جاتا، یہ اور بات کہ مفتی صاحب نے مضمون کے بالکل آخر میں ایک پیراگراف کا اضافہ کر کے ترجمۃ الباب کو ثابت کرنے اور موضوع سے اس کی مناسبت جوڑنے کی بھی کوشش کی ہے – 

علامہ ترہتی کے سنِ ولادت کے تعلق سے مفتی صاحب نے صراحت کردی ہے کہ یقینی طور پر اس کا تعین نہیں کیا جا سکتا؛ البتہ مقدمہ میں تخمینہ یہ بیان کیا کہ ولادت ١٢٦٣ھ، مطابق ١٨٤٦ء میں ہوئی (ص ٣٤) 

اس تخمینہ کی بنیاد در اصل علامہ عبدالحئی کتانی اور علامہ سید محمد بن علوی مالکی کی تحریر ہے؛ چناں چہ مفتی صاحب رقم طراز ہیں: 

”جب کہ علامہ عبدالحئی کتانی کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی وفات ۱۲۹۰ھ کے بعد کی دہائی کے شروع میں ہوئی ۔ علامہ سائدبکداش نے حیاۃ الشیخ عابد میں اور اسی سے نقل کرتے ہوئے علامہ سید محمد بن علوی مالکی حسنی نے ”الیانع الجنی“ کا جو نسخہ اپنی تحقیق و تعلیق کے ساتھ شائع کیا ہے، اس کے مقدمہ میں سنہ وفات کے طور پر ۱۲۹۳ھ درج کیا ہے۔ (جو قرین قیاس نہیں ہے) علامہ کتانی نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ آپ کی وفات تیس سال کی عمر میں ہوئی ۔ اس تاریخ کے لحاظ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے قول کے مطابق آپ کی ولادت ١٢٦٣ھ مطابق ١٨٤٦ء میں ہوئی۔“ (ص ٧٩) 

پھر آگے کے سطور میں مفتی صاحب نے علامہ ترہتی کے والد صاحب کے ١٨٧٠ء میں تحریر کردہ ایک وقف نامہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ شیخ ترہتی کی وفات ١٨٧٠ء کے اوائل یا پھر ١٨٦٩ء کے اواخر میں ہوچکی تھی، اب جب کہ حتمی طور پر معلوم ہوگیا کہ شیخ کی وفات ١٨٧٠/٦٩ء میں ہوئی تھی اور ان حضرات کا ذکر کردہ سن وفات غلط ہے تو پھر اس کی بنیاد پر سن ولادت کا تخمینہ لگانا کتنا درست ہوگا؟ اور اگر تخمینہ کو درست مان لیا جائے تو شیخ کی عمر وفات کے وقت محض ٢٣ سال بنتی ہے؛ جب کہ علامہ کتانی وغیرہ کی تصریحات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیخ کی عمر وفات کے وقت ٣٠ سال تھی تو پھر ولادت کا سال ١٨٤٦ء ماننے کی صورت میں عمر کی تطبیق کیسے ممکن ہوسکے گی؟ 

یہ نکتہ خود مصنفِ کتاب مفتی خالد نیموی کے ذہن میں بھی تھا تبھی مفتی صاحب اسی کتاب کے صفحہ ١٣٣ پہ رقم طراز ہیں: 

"… اس طور پر آپ کی وفات کا سال ١٢٨٦ھ مطابق ١٨٧٠ ہی بنتا ہے اور اگر وفات کے وقت آپ کی عمر تیس سال مان لی جائے جیسا کہ متعدد مصنفین نے اس کی صراحت کی ہے تو ١٢٦٣ھ کی جگہ آپ کی ولادت کا سال تقریباً ١٢٥٦ھ مطابق ١٨٤٠ء بنتا ہے، اس کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ…. “ آگے تائید کی توجیہ پیش کی گئی ہے – 

اس تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ مفتی صاحب کے نزدیک بھی سنِ ولادت کا تخمینہ ١٨٤٠ء ہی زیادہ قابلِ اعتبار اور قرینِ قیاس ہے، تو مناسب یہ تھا کہ مقدمہ میں جہاں ولادت کا ذکر کیا گیا وہاں اسی تاریخ کو بیان کیا جاتا جو زیادہ قرینِ قیاس ہے اور جس کی تائید بھی فرما رہے ہیں؛ لیکن وہاں اس تاریخ کو بیان کردیا گیا جو خود صاحبِ کتاب کے نزدیک بھی مرجوح ہے، اس کا نقصان یہ ہے کہ قاری کو سنِ ولادت کے سلسلے میں مصنف کے رجحان سے واقف ہونے میں دشواری ہوتی ہے اور تقریباً تین مقامات پر اس کا تذکرہ بھکرا ہوا ہے، جب تک ان تینوں مقامات کو بالاستیعاب نہ پڑھ لیا جائے اس سے واقفیت ممکن نہیں ہوسکتی؛ چناں چہ مقدمہ میں اسی تاریخ کو درج کرنا چاہیے تھا جو مصنف کے نزدیک زیادہ راجح ہے – 

اس کتاب کے نام کی طوالت نے بھی مجھے شروع سے ہی خلجان میں مبتلا رکھا؛ نام سے پہلی مرتبہ واقفیت کے بعد، قبل اس کے کہ اپنی رائے کا اظہار کرتا، معلوم ہوا کہ کتاب اشاعت کے لیے جا چکی ہے؛ لہٰذا اپنی رائے کو اپنے ذہن میں ہی دفن کرلیا؛ لیکن جب مفتی صاحب کی خدمت میں حاضری ہوئی تو بالآخر ہم نے اپنی”مدفون رائے“ کو پیش کر ہی دیا؛ چناں چہ مفتی صاحب نے جواباً فرمایا کہ ہر ایک چیز کا دوسرے کے ساتھ ایسا ربط ہے کہ اس کو الگ نہیں کیا جا سکتا تھا، پھر مزید اس کی وضاحت بھی کی؛ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ "شیخ محسن ترہتی اور الیانع الجنی: تاریخ، تعارف اور تجزیہ“ یا اس انداز کا کوئی دوسرا مختصر نام تجویز کیا جانا چاہیے تھا اور اگر پھر بھی تعارف کی ضرورت محسوس ہوتی تو نیچے دو تین سطروں میں کتاب کے بنیادی موضوع و مقصد کو واضح کردیا جاتا، ایسی صورت میں مختصر ناموں کا زبان زد ہونا بھی آسان ہوتا ہے، لکھتے اور سرچ کرتے ہوئے بھی انسان لفظوں کے انبوہ میں کھونے سے محفوظ رہتا ہے… بہر حال یہ میرے اپنے تاثرات ہیں جن سے ہر کسی کا اتفاق نا تو ضروری ہے، نہ اس کی امید ہے اور نا ہی یہ ممکن ہے –  

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ مفتی صاحب نے کمالِ دیانت داری کے ساتھ مقدمہ میں اپنے تمام معاونین کا تذکرہ کردیا ہے؛ چناں چہ جنھوں نے نظرِ ثانی یا نظرِ نہائی کا فریضہ انجام دیا، یا کسی طرح کے ادنیٰ مشورے سے بھی نوازا ان کے بھی اسمائے گرامی ذکر کردیے ورنہ المیہ یہ ہے کہ لوگ پوری کتاب تیار کروا لیتے ہیں لیکن اپنے معاون کا نام ذکر کرنے میں انھیں موت پڑتی ہے – 

کتاب کے مشمولات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کو مرتب کرنے میں کس قدر عرق ریزی کی گئی ہوگی، کتنی چھان پھٹک کرنی پڑی ہوگی اور کتنا کچھ کھپانا پڑا ہوگا، بلا شبہ یہ عظیم علمی و تحقیقی کاوش ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہے اور علومِ حدیث کے خدمت گاروں کے لیے قیمتی سوغات بھی؛ جس کے لیے مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی ہم تمام طالبانِ علومِ دینیہ کی طرف سے ہدیۂ تشکر و امتنان اور نذرانۂ تہنیت و تبریک کے مستحق ہیں، دعا ہے کہ اللہ پاک اس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے – 

About the Author

لقمان عثمانی

Contributor

لقمان عثمانی ایک اسلامک اسکالر اور اردو زبان و ادب کے ماہر تخلیق کار و انشاء پرداز ہیں اور ساتھ ہی نہضہ نیٹ ورک برائے میڈیا و ثقافت کے شعبۂ اردو ثقافت و ادب کے ڈائریکٹر بھی ہیں!

View all stories →

What do you think?