نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے نے اعلان کیا ہے کہ حامیوں کی حراست اور پولیس کی پابندیوں کے باوجود احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا۔
دپکے کے مطابق، 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے پابندیوں کے باوجود تحریک کو ختم نہیں کیا جائے گا۔
یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے اور ووٹر لسٹوں میں نظرثانی کے عمل سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ ڈپکے اور دیگر ناقدین نے انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دہلی پولیس نے مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق، منتظمین نے مقررہ مدت کے اندر درخواست جمع نہیں کرائی تھی۔ حکام نے نئی دہلی ضلع میں نافذ پابندیوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔
دپکے نے تاہم احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مجوزہ مظاہرے سے قبل ووٹر لسٹوں میں نظرثانی اور انتخابی عمل میں شفافیت کے معاملے پر سیاسی بحث تیز ہونے کا امکان ہے۔
ادھر سرکار نے نئ دہلی اور نظام الدین ریلوے اسٹیشن جانے والی تمام ٹرینوں کو منسوخ کئے جانے کا اعلان کر دیا ہے،وہیں ۵۷ میٹرو اسٹیشن بھی بند کئے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
بتا دیں کہ نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے کل ۱۰ تاریخ کو دہلی جنتر منتر پر مظاہرہ کا اعلان کیا ہے،جس میں ملک کے مختلف حصوں سے لوگوں کی شرکت متوقع ہے،اسی کے مد نظر سرکار نے یہ فیصلہ لیا ہے۔
