میں تیرا بندۂ بے نوا ہوں اور تو میرا ربِّ ذوالعطا؛ میں مخلوق ہوں، تو خالق؛ میں فانی ہوں، تو باقی؛ میں سراپا عجز و احتیاج ہوں، تو غنیِّ مطلق و بے نیاز۔ میری ہستی تیری بخشش، میری حیات تیری امانت، اور میری ہر سانس تیرے حکم و قضا کی رہینِ منّت ہے۔
میرے وجود کا ہر ذرّہ تیرے علمِ محیط اور تقدیرِ نافذ کے احاطے میں ہے۔ میری ہر دھڑکن تیرے اذن سے، ہر نفس تیرے حکم سے، اور حیات کا ہر لمحہ تیرے فضلِ بے پایاں سے قائم ہے۔ میں اپنے وجود کا بھی مالک نہیں؛ پس تیرے سوا کس کو اپنا مولیٰ و کارساز جانو ں؟
تو نے میرے لیے ہوا کو مسخّر کیا کہ میں سانس لے سکوں؛ پیاس لگی تو آبِ رواں عطا کیا؛ بھوک آئی تو خوانِ نعمت آراستہ کیا؛ بیماری نے آ لیا تو اسبابِ شفا مہیا فرمائے؛ دل غم سے بوجھل ہوا تو رحمتِ خویش سے تسکینِ خاطر بخشی۔ میں نے مانگا بھی نہ تھا، تو دیتا رہا؛ میں غافل رہا، تو میرے حال سے غافل نہ ہوا۔
میں خطاکار ہوں، تو غفّار ہے؛ میں شکستہ ہوں، تو جبّار ہے؛ میں بے کس ہوں، تو کارساز ہے۔ میرے اعمال ناقص، میری عبادت بے مایہ، میری لغزشیں بے شمار اور میری تقصیرات بے حد ہیں۔ اگر معاملہ میرے استحقاق کا ہو تو میں سراپا محرومی ہوں، اور اگر معاملہ تیرے فضل و کرم کا ہو تو میری امید بے کنار ہے۔
پس میں اپنے اعمال کی پونجی لے کر نہیں، تیری رحمت کا دامن تھامے تیرے آستانۂ کرم پر حاضر ہوں۔
میری جبینِ نیاز تیرے سوا کسی آستانے پر خم نہ ہو؛ میرا دل تیرے سوا کسی کا اسیر نہ ہو؛ میری چشمِ امید تیرے سوا کسی جانب نہ اٹھے۔ میرے دل کو ذکر سے زندہ، باطن کو نورِ معرفت سے منور، اور روح کو محبتِ خویش سے معمور فرما۔ میری زندگی کو اپنی رضا کے تابع اور میرے ہر قدم کو راہِ بندگی پر ثابت رکھ۔
جب اجل کا پیام آئے اور رختِ حیات بندھنے لگے، تو لبوں پر کلمۂ توحید، دل میں نورِ یقین اور روح میں یادِ خویش قائم رکھ۔ میرا خاتمہ ایمان پر فرما۔ قبر کی وحشت کو اپنی رحمت سے انس، ظلمتِ لحد کو نور، اور تنہائیِ خاک کو اپنی معیت سے معمور فرما۔
روزِ حشر، جب پردۂ غیب اٹھے اور تمام خلائق تیرے حضور صف بستہ ہوں، میری لغزشوں کو پردۂ عفو میں چھپا لینا، نامۂ اعمال کو فضلِ خویش سے آراستہ فرمانا، صراط پر میرے قدم ثابت رکھنا، اور دوزخ کے ہول سے اپنی پناہ میں رکھنا۔
میں جنت کا سزاوار نہیں؛ میری عبادت اس کی قیمت نہیں، میرے اعمال اس کا بدل نہیں۔ مجھے بغیر کسی استحقاق کے، محض اپنے فضلِ عمیم اور کرمِ عظیم سے جنت عطا فرما۔ اپنی رضا کی دولت نصیب فرما، اپنے مقبول بندوں کی رفاقت عطا فرما، اور قربِ خویش کی وہ نعمت بخش جس کے بعد کسی اور نعمت کی طلب باقی نہ رہے۔
مجھے شاکرِ نعمت، صابرِ ابتلا، تائبِ خطا، ذاکرِ حق اور ثابت قدم در راہِ بندگی بنا۔ میری ابتدا تیرے حکم سے ہے، میری بقا تیرے فضل سے، اور میری انتہا تیری بارگاہ میں رجوع ہے۔
میں تیرا بندہ ہوں اور تو میرا رب ہے؛ میری عزت بندگی میں، میری پناہ تیری رحمت میں، اور میری امید تیرے فضل میں ہے۔
تو نے مجھے عزت بخشی، میں تیرا شکر گزار ہوں۔
ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ
