جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے، بہار
زبان کی اہمیت و نزاکت: اللہ رب العزت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ان تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں میں سے ایک عظیم، اور قیمتی نعمت انسان کی ’زبان‘ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آنکھوں، زبان اور ہونٹوں کا ذکر کرتے ہوئے انسان کو اپنی قدرت کا احساس دلایا ہے۔ زبان بظاہر گوشت کا ایک چھوٹا سا لوتھڑا ہے جس میں کوئی ہڈی نہیں رکھی گئی تاکہ انسان اس کے ذریعے نرمی اور محبت سے گفتگو کر سکے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس تیز دھار آلے کو ہونٹوں اور دانتوں کے غلاف میں چھپا کر رکھا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان اسے بے موقع اور بے جا استعمال نہ کرے۔
انسانی جسم میں دل بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے اور زبان اس دل کی ترجمان اور خلیفہ ہے۔ جو کچھ دل سوچتا ہے، زبان اسے الفاظ کا روپ دیتی ہے۔ احادیث مبارکہ کی روشنی میں جب انسان صبح کرتا ہے تو جسم کے تمام اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہمارا رخ بھی ٹیڑھا ہو جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے اس کے لیے جنت کی ضمانت ہے۔ انسان کبھی اللہ کی رضا والی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وہ پرواہ نہیں کرتا مگر اللہ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے اور کبھی غفلت میں ایسی بات کہہ گزرتا ہے جو اسے سیدھا جہنم کی گہرائیوں میں گرا دیتی ہے۔
اسلاف کا محتاط طرزِ زندگی
ہمارے اسلاف، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بزرگانِ دین زبان کی حفاظت کے معاملے میں اس قدر محتاط تھے کہ آج کے دور میں اس کا تصور بھی محال معلوم ہوتا ہے۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی زبان کو کھینچ کر فرماتے تھے کہ اسی نے مجھے خطرناک راستوں پر ڈالا ہے۔ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ بے فائدہ کلام میں مت پڑو اور جو شخص اپنی زبان کو فضول باتوں سے روکے رکھتا ہے اس پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ روئے زمین پر زبان سے زیادہ لمبی قید کا حقدار اور کوئی نہیں ہے۔
اسلاف کا ماننا تھا کہ حکمت اور دانائی کی بنیاد ہی خاموشی میں پوشیدہ ہے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں نے کبھی خاموشی پر ندامت نہیں اٹھائی، اگر کلام چاندی ہے تو خاموشی سونا ہے۔ بعض صالحین کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے بیس سال سے دنیا کی کوئی بات نہیں کی، اور بعض نے چالیس سال تک عشاء کی نماز کے بعد ذکرِ الٰہی کے سوا ایک لفظ نہیں بولا۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ انسان کے منہ سے نکلنے والا ہر لفظ لکھا جا رہا ہے اور قیامت کے دن اسے اپنے ایک ایک بول کا حساب دینا ہوگا۔ وہ ہر لایعنی بات کو اپنے اعمال اور وقار کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ زیادہ بولنے سے جھوٹ کثرت سے سرزد ہوتا ہے اور انسان کے وقار میں کمی آتی ہے۔
زبان سے سرزد ہونے والے کبیرہ گناہ
موجودہ دور میں زبان کا سب سے زیادہ غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انسان کے دیگر اعضاء سے شاید ایک یا دو گناہ سرزد ہوتے ہوں، لیکن انسان کی اکیلی زبان بہتیرے ایسے کبیرہ گناہوں کا سبب بنتی ہے جو انسان کی دنیا اور آخرت تباہ کر سکتے ہیں۔ ان کبیرہ گناہوں کا ایک مختصر مگر جامع جائزہ درج ذیل ہے:
۱۔ عقائد اور ایمان کو بگاڑنے والے گناہ: زبان سے ادا ہونے والا سب سے بڑا اور بھیانک گناہ ’کفر کرنا‘ ہے۔ انسان کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور بسا اوقات غفلت، ہنسی مذاق یا لاعلمی میں زبان سے ایک کفریہ کلمہ نکال کر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے سچے پیغمبر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنا سخت ترین گناہ ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیتا ہے۔ مزید برآں کسی مسلمان کو ناحق کافر قرار دینا بھی ایسا گناہ ہے کہ اگر سامنے والا کافر نہ ہو تو کفر کا فتویٰ دینے والے پر لوٹ آتا ہے۔ تقدیر کو جھٹلانا اور شرعی احکامات کا استہزاء اور مذاق اڑانا بھی ایمان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے گناہ ہیں۔
۲۔ جھوٹ اور منافقت: جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور یہ انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ جھوٹ بولنے والوں پر قرآن مجید میں اللہ کی لعنت کی گئی ہے اور سچ بولنے کی تاکید کی گئی ہے۔ احادیث کے مطابق جھوٹ، وعدہ خلافی، گالی گلوچ اور امانت میں خیانت کرنا خالص منافق کی نشانیاں ہیں۔ بعض لوگ محض دوسروں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں جو کہ سخت وعید کا سبب ہے۔ اس کے علاوہ دو رخی پالیسی اختیار کرنا بھی ایک بھیانک فعل ہے؛ ایسے لوگوں کے لیے قیامت کے دن آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔
۳۔ غیبت اور چغل خوری: غیبت یعنی کسی مسلمان کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا ایسا ہے جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا۔ غیبت کرنے والے عذابِ قبر کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح چغل خوری کرنا یعنی لوگوں کے درمیان فساد کرانے کے لیے باتیں ادھر سے ادھر کرنا نہایت مذموم فعل ہے۔ چغل خور شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا اور قبر میں بھی اسے سخت عذاب دیا جائے گا۔ کسی کے راز افشاء کرنا اور اعتماد کے لباس میں دھوکہ دینا بھی زبان ہی کی تباہ کاریاں ہیں۔
۴۔ گالی گلوچ، لعن طعن اور بد زبانی: کسی مسلمان کو گالی دینا اور برا بھلا کہنا فسق اور نافرمانی ہے۔ بعض لوگ غصے کی حالت میں دوسروں کے والدین کو گالیاں دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ حقیقت میں اپنے ہی والدین کو گالی دینے کے مرتکب اور کبیرہ گناہ کے حقدار بنتے ہیں۔ کسی پر لعنت کرنا بھی ایک انتہائی خطرناک فعل ہے؛ اگر سامنے والا شخص لعنت کا مستحق نہ ہو تو وہ لعنت لوٹ کر لعنت کرنے والے کے اپنے اوپر آ پڑتی ہے۔ فحش گوئی، بے حیائی کی باتیں کرنا اور فحش باتیں پھیلانا ایسا جرم ہے جسے اللہ تعالیٰ شدید ناپسند فرماتا ہے اور مؤمن کبھی فحش گو نہیں ہوتا۔
۵۔ استہزاء، طعنہ زنی اور عیب تلاشی: دوسروں کا مذاق اڑانا، ان پر طعنہ زنی کرنا، ان کی نقل اتارنا یا ان کی جسمانی ساخت میں عیب نکالنا اللہ کے قہر کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بسا اوقات انسان کسی کے گناہ یا مصیبت پر ہنستا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خود اسی مصیبت یا گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کسی پر تہمت لگانا، خاص طور پر پاک دامن خواتین پر جھوٹے الزام تراشنا اور افواہیں پھیلانا انتہائی سنگین گناہ ہے جس میں شامل ہر فرد برابر کا گنہگار ہوتا ہے۔
۶۔ جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسمیں: جھوٹی گواہی دینا شرک کے برابر کبیرہ گناہ ہے۔ جھوٹی قسمیں کھا کر دوسروں کا مال ہڑپ کرنا یا ناحق فیصلہ کروانا انسان کو اللہ کی نظرِ رحمت سے محروم کر دیتا ہے اور ایسا شخص جہنم کا حقدار بن جاتا ہے۔
۷۔ معاشرتی ہم آہنگی کو تباہ کرنے والے افعال: بات بات پر جھگڑا کرنا، قطع کلامی یعنی کسی کی بات کاٹنا، مردے کو برا بھلا کہنا، بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنا، عصبیت اور برادری پرستی کی دعوت دینا، بداخلاقی سے پیش آنا اور حد سے زیادہ ہنسی مذاق کرنا بھی معاشرے کا سکون غارت کرنے والے گناہ ہیں۔ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے اور انسان کا رعب اور ہیبت ختم ہو جاتی ہے۔ گانا گانا اور بے مقصد قوالیوں اور باطل کاموں میں مشغول رہنا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔
اہم پیغام
ان تمام گناہوں کی فہرست اور ان کے دنیاوی اور اخروی نقصانات کو جاننے کے بعد یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہماری زندگیوں کی اکثر پریشانیوں، خاندانی جھگڑوں، اور ناچاقیوں کی بنیادی وجہ زبان کا یہی غیر محتاط اور غلط استعمال ہے۔ جہاں بھی نااتفاقی اور الجھنیں ہیں وہاں زبان کی تندی اور تیزی اپنا کردار ادا کر رہی ہوتی ہے۔
دینِ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی اس بیش قیمت نعمت کا بھرپور محاسبہ کریں۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ بولنے سے پہلے اپنے الفاظ کو تولے کہ آیا یہ الفاظ اللہ کی رضا کا سبب بنیں گے یا اس کی ناراضگی کا۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہمارے دائیں بائیں موجود کراماً کاتبین ہمارا ایک ایک لفظ نوٹ کر رہے ہیں اور کل قیامت کے دن ہر بے جا، فضول، اور لایعنی بات کا حساب دینا ہوگا۔
اپنی زبان کو گناہوں کی آلائش سے پاک کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اللہ کی یاد میں تر رکھا جائے۔ زبان کا کثرت سے چلنا دل کو سخت کرتا ہے، جب کہ ذکرِ الٰہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم زبان کو فضول گوئی، غیبت، جھوٹ، گالی گلوچ اور چغل خوری کے بجائے تلاوتِ قرآن، درود شریف، اور دین کی دعوت میں استعمال کریں۔ مساجد اور گھروں کے ماحول میں زبان کی اہمیت اور اس کی ہلاکت خیزیاں زیرِ بحث لائی جانی چاہئیں تاکہ عوام الناس، بالخصوص خواتین ان گناہوں کے دلدل سے باہر آ سکیں۔ اگر ہم خاموشی کی عادت اپنا لیں اور صرف ضرورت کے وقت بامقصد اور مثبت گفتگو کریں، تو آہستہ آہستہ ہمارے معاشرے میں ایک حسین بلکہ روحانی تبدیلی آنا شروع ہو جائے گی۔
نجات کا مدار
انسان کی نجات کا سارا دار و مدار اس کی زبان کو قابو میں رکھنے پر ہے۔ زبان کی پاکیزگی دیگر اعضاء کی سلامتی کی دلیل ہے اور اس کی آلودگی پورے وجود کے فاسد ہونے کی علامت ہے۔ اس تحریر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس غفلت سے بیدار کیا جائے جس کے تحت وہ روزانہ درجنوں کبیرہ گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر لاد رہے ہیں اور انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔
یاد رکھئے! ہماری مسلسل محنت، جدوجہد اور اللہ کے حضور آہ و زاری ہی ہمارے دلوں کا زنگ دور کر سکتی ہے۔ دلوں کو بدلنے اور درست اعمال کی توفیق صرف رب العالمین ہی دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو دینِ حق پر جما دے، ہماری زبانوں کو اپنی یاد اور شکر میں مشغول رکھے اور ہمیں ہر قسم کی فضول اور لایعنی گفتگو اور زبان کی ہلاکتوں سے محفوظ فرماتے ہوئے ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین
