نئی دہلی: بھارت نے امریکی محکمۂ محنت کی جانب سے بعض کمپنیوں کے لیے مستقل لیبر سرٹیفکیشن (PERM) پروگرام سے متعلق فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام سے دونوں ممالک کے مشترکہ عزائم کو فروغ نہیں ملتا۔
ایک سرکاری بیان میں بھارتی حکومت نے واضح کیا کہ PERM پروگرام، H-1B ویزا پروگرام سے الگ ہے۔ بیان کے مطابق، PERM درخواستوں کی معطلی سے موجودہ H-1B ویزوں کی قانونی حیثیت یا ویزا رکھنے والوں اور ان کے زیر کفالت افراد کے امیگریشن اسٹیٹس پر براہ راست کوئی اثر نہیں پڑتا، تاہم متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے لیے مستقل رہائش یا گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بھارت نے کہا کہ ہنرمند افراد کی بین الاقوامی نقل و حرکت دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس سے جہاں بھارتی پیشہ ور افراد کو مواقع ملتے ہیں، وہیں امریکی کمپنیوں کو جدید مہارتوں، تحقیق، جدت، پیداواری صلاحیت، مسابقت اور روزگار کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔ اس کے ساتھ امریکہ میں سرمایہ کاروں کے لیے بھی دولت پیدا ہوتی ہے۔
بیان میں امریکی نائب صدر کی جانب سے اس معاملے پر کیے گئے بعض تبصروں پر بھی اعتراض کیا گیا۔ بھارتی حکومت نے کہا کہ اس طرح کی تشریحات غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت اور جدت کے شعبے میں بھارتی پیشہ ور افراد کی اہم خدمات کو نظر انداز کرتی ہیں۔
بھارت نے مزید کہا کہ امریکہ کی تاریخ تارکین وطن کی کئی نسلوں کی محنت، کاروباری صلاحیت اور جدت سے تشکیل پائی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تکلیف دہ تاریخی اور نوآبادیاتی پس منظر رکھنے والی اصطلاحات کا استعمال انتہائی توہین آمیز ہے۔
بھارتی حکومت نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ماخذ: بھارتی حکومت کا سرکاری بیان۔
