Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم، حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ

بعد نمازِ عصر یہ خبر موصول ہوئی کہ عالمِ اسلام ک معروف شخصیت، جامع العلوم والفنون، ماہرِ ادب و قلم کار، دانش ور، مدبر و مفکر، مجلہ البعث الاسلامی کے مدیر، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم، حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ اس دارفانی سےداربقاکی طرف کوچ کرگئے

إنا لله وإنا إليه راجعون۔

حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ عرب و عجم میں آپ کی خدماتِ جلیلہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ نے پوری زندگی درس و تدریس، تحقیق و تنظیم، تعلیم و تعلم میں صرف کی۔ امانت و دیانت کے ساتھ متعلقہ فرائض کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی صلاحیت و صالحیت سے نوازاتھا۔ آپ طلبہ کے حق میں بے حد شفیق و مہربان تھے۔ اعلیٰ اخلاق و کردار آپ کی پہچان تھی۔ حسنِ گفتار و کردار آپ کا نمایاں وصف تھا۔ طلبہ کی تعلیم و تربیت کے متعلق آپ بہت فکرمند رہا کرتے تھے۔ جب کوئی طالب علم آپ کے پاس آتا تو آپ اس سے اس کی تعلیم کے سلسلے میں ضرور پوچھتے تھے۔ عربی تقریر و تحریر میں محنت کی ترغیب دیتے تھے۔ آپ خود ایک ممتاز عربی ادیب اور خطیب تھے۔ فصاحت و بلاغت، حکمت و دانائی، ادب و شائستگی، علم و ادب کی لطافت و نزاکت آپ کی خطابت میں چھلکتی تھی۔ لیکن افسوس کہ آج عالمِ اسلام ایک مایۂ ناز عالمِ دین، محقق و مصنف، ہزاروں طالبانِ علومِ نبوت کے شفیق و مربی سے محروم ہوگیا۔

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

آپ کی ولادت 14 مئی 1935ء کو اترپردیش کے ضلع مئو ناتھ بھنجن میں ہوئی۔ آپ کے والدِ ماجد مولانا ایوب رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے عالمِ دین تھے، ممتاز محدث اور فقیہ تھے۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردِ رشید اور جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل کے شیخ الحدیث تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مبارک پور میں حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ عربیہ مفتاح العلوم مئو سے سندِ فراغت حاصل کرنے کے بعد ایشیا کے مشہور و معروف دینی درس گاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے عربی زبان وادب میں تخصص کیا۔  ندوہ سے اختصاص کے بعد  آپ نےمزید ایک سال بغداد میں عربی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں دارالعلوم ندوۃ العلماء میں بحیثیت استاذآپ کا تقرر ہوا۔ وہاں آپ نے تدریسی خدمات کے ساتھ نظامت و اہتمام، امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دیے۔ تقریباً 50 سال آپ نے ندوہ کی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے۔ اس دوران آپ نے وقت کی پابندی کا بہت اہتمام کیا۔ آپ کو بے اصولی اور اوقات کی بدنظمی سے سخت نفرت تھی۔ آپ نے پوری زندگی اپنے اصول کی پابندی کی، جو ایک مشکل امر ہے، ہر کس و ناکس کے لیے اس کی پاسداری ممکن نہیں۔ آپ ضیاعِ وقت کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ اس لیے اپنے آپ کو ہمیشہ کسی نہ کسی کام میں مصروفِ عمل رکھتے۔قرآن کریم کی تلاوت سے آپ کو بہت شغف تھا،اگر کبھی وقت سے چندمنٹ پہلے مسجد آجاتے تو آپ تلاوتِ قرآن میں مصروف ہوجاتے۔  اور آپ کودیکھ کراکثرطلبہ بھی تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول ہوجاتے۔ گزشتہ سال جب میں ندوۃ العلماءمیں زیرِ تعلیم تھا تو میں نے وہاں یہ چیز دیکھی کہ طلبہ قرآن کریم کی تلاوت بہت کثرت سے کرتے تھے، بالخصوص فجر اور عصر کی نماز کے بعد اکثر طلبہ قرآن کی تلاوت میں مشغول رہتے۔گویا آپ نے اپنے عمل سے طلبہ کو قرآن مجید کی تلاوت کاپیغام دیا۔اخیر عمر جب طبیعت علیل ہوگئی توآپ امامت سےسبک دوش ہوگئے،

ظاہر ہے، یہ دنیا کا اصول ہے، یہاں جو بھی آیا ہے، سب جانے ہی کے لیے آیا ہے؛ لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے پیچھے ہزاروں انسانوں کوغمگین چھوڑ جاتی ہیں، جن کی تلافی قحط الرجال کے اس دور میں ممکن نہیں۔ علم و ادب کے امین تھے، اکابرینِ ندوہ کی وہ آخری کڑی تھے جو ٹوٹ گئی۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

حضرت آج ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کی علمی و دینی خدمات کے نقوش، ان کے قلم سے نکلی ہوئی کتب، ہمارے لیے کسی نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے، اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائے، ان کی علمی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے، اور ہم سب کو ان کی کتب و تصانیف سے استفادہ و استفاضہ کی توفیق نصیب فرمائے۔ اللهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسّع مدخله، وأسكنه روضةً من رياض الجنة

شاہ فیصل کھگڑیاوی

What do you think?