کولکاتا: کولکاتا میں واقع ستیہ جیت رائے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (SRFTI) کے کیمپس میں اتوار کے روز ایک تقریب کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد کم از کم چھ طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ طلبہ نے ادارے کے کیمپس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب پر اعتراض کیا تھا۔
مکتوب کی رپورٹ اور طلبہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، دوپہر تقریباً 12 بجے اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت (ABGP) کی جانب سے منعقدہ ایک قیادتی پروگرام کے دوران کشیدگی پیدا ہوئی۔ملی رپورٹس کے مطابق، اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) سے وابستہ تنظیم بتایا گیا ہے۔
طلبہ کا الزام ہے کہ پروگرام کے انعقاد کے لیے SRFTI کے رجسٹرار سے ادارے کے مرکزی تھیٹر کے استعمال کی اجازت حاصل کی گئی تھی، لیکن منتخب طلبہ یونین کو اس بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا۔
اس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ طلبہ کا الزام ہے کہ اس دوران متعدد افراد زخمی ہوئے ۔ کیمپس میں موجود طلبہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ادارے کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے، جس کے باعث تقریباً 150 طلبہ کیمپس کے اندر پھنسے رہے۔
پولیس موقع پر پہنچی اور طلبہ کی جانب سے مرکزی ملزم قرار دیے جانے والے ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔ اسے مبینہ طور پر کیمپس میں موجود پولیس کی گاڑی میں رکھا گیا۔
خبر لکھے جانے تک صورتحال کشیدہ رہی۔ اطلاعات کے مطابق کیمپس کے باہر موجود افراد حراست میں لیے گئے شخص کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
کیمپس میں موجود طلبہ نے فوری طبی امداد کی دستیابی اور سکیورٹی انتظامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا الزام تھا کہ باہر جمع ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے مناسب تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات نہیں کیے گئے۔
طلبہ نے ادارے کی انتظامیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا الزام تھا کہ وائس چانسلر اور رجسٹرار نے صورتحال کو قابو کرنے اور طلبہ کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات نہیں کیے،دوسری جانب کئی فیکلٹی ارکان نے طلبہ سے اظہار یکجہتی کی اور طلبہ کے ساتھ کیمپس کے اندر موجود رہے ۔
طلبہ نے کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر کارروائی نہیں ہوتی، وہ کیمپس سے باہر نہیں جائیں گے۔ ان کے اہم مطالبات میں اس شخص کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنا شامل ہے، جسے وہ مرکزی ملزم قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ کی اشاعت تک SRFTI کے وائس چانسلر یا رجسٹرار کی جانب سے واقعے پر کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔اسی ضمن میں کولکاتا پولس نیز بنگال پولس کی طرف سے بھی واقعہ کو لیکر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیاہے۔
دی ہندو کے مطابق، طلبہ یونین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، تنازع اس وقت شروع ہوا جب طلبہ نے ادارے کی جانب سے اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت (ABGP) کو کیمپس میں پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے پر اعتراض کیا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے قبل طلبہ برادری کو اس بارے میں مطلع یا اس سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔
طلبہ یونین کے مطابق، ABGP کے ارکان پروگرام کے مقام پر پہنچے، طلبہ سے ان کا سامنا ہوا اور انہوں نے مبینہ طور پر طلبہ کو تھیٹر سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ طلبہ یونین نے مداخلت کی، جس کے بعد صورتحال مبینہ طور پر جسمانی تشدد میں تبدیل ہوگئی۔
