نام کتاب : سیرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
مصنف: شاہ مصباح الدین شکیل
موضوع : سیرت رسول
جلدیں: تین
تبصرہ نگار:ناصر الدین مظاہری
سیرت کے موضوع پر بے شمار کتابیں ہیں، اتنی کہ اردو کتابوں کے تعارف پر ہی باقاعدہ کتابیں موجود ہیں ، مگر ہر کتاب پڑھنے والے کے دل میں اتر جائے، یہ ضروری نہیں۔ کبھی کبھی کوئی کتاب ایسی بھی مل جاتی ہے جسے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی صاحب علم سامنے بیٹھا ہے، گفتگو کر رہا ہے اور ہم خاموشی سے سنتے چلے جا رہے ہیں۔
شاہ مصباح الدین شکیل کی ’’سیرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ مجھے اسی قبیل کی کتاب محسوس ہوتی ہے۔
سیرت کا موضوع ایسا ہے کہ اس پر قلم اٹھانے والا چاہے تو عبارت کو ثقیل بنا دے، واقعات کو حوالوں کے بوجھ تلے دبا دے، ہر سطر میں علمی اصطلاحات بھر دے اور پڑھنے والے کو یہ احساس دلا دے کہ وہ کتاب نہیں، امتحانی پرچہ پڑھ رہا ہے۔ لیکن شاہ مصباح الدین شکیل نے اس کے برعکس سادگی اور بے ساختگی کو اپنا راستہ بنایا ہے۔
ان کی نثر میں بناوٹ نہیں ہے، تصنع نہیں یے، غیر ضروری فلسفہ نہیں ہے۔ عبارت چلتی ہے تو ایسے جیسے صاف زمین پر پانی بہہ رہا ہو۔ نہ کہیں لفظوں کی نمائش ہے، نہ جملوں کی مصنوعی سج دھج ہے۔ شاہ مصباح الدین کا مقصد اپنے علم کا مظاہرہ کرنا نہیں، بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو قاری کے سامنے قابل فہم، قابل مطالعہ اور قابل احساس انداز میں پیش کرنا ہے۔ یہی سادگی اس کتاب کی ایک بڑی کشش ہے۔
سیرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف حصوں میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس کے ایک حصے میں "ظہور قدسی سے مسجد قبا” تک کا بیان ہے، دوسرے میں "مسجد قبا سے واقعہ افک تک” حیات طیبہ کے مدنی دور کو سمیٹا گیا ہے، جب کہ تیسرے حصے میں "غزوہ خندق سے سفر آخرت تک” کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب کے مختلف ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
یہ کتاب سیرت کو صرف پڑھاتی نہیں، پڑھنے میں آسان بھی بناتی ہے اور یہ کوئی معمولی خوبی نہیں۔ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہوئے واقعات کی کثرت کبھی کبھی قاری کو تھکا دیتی ہے۔ غزوات، وفود، ہجرتیں، معاہدے، قبائل، صحابہ، ازواج، سنین اور مقامات اتنی تفصیلات ہیں کہ اگر اسلوب رواں نہ ہو تو قاری معلومات کے ہجوم میں راستہ بھول سکتا ہے۔ شاہ مصباح الدین شکیل کا کمال یہ ہے کہ وہ واقعات کو قصہ گوئی کی طرح رواں رکھتے ہیں، مگر سیرت کی سنجیدگی اور وقار کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
سادہ لکھنا آسان نہیں ہوتا یے۔ مشکل الفاظ لکھ دینا علم کی علامت بن سکتا ہے، مگر آسان الفاظ میں بڑی بات کہہ دینا فن ہے۔ شاہ مصباح الدین شکیل اسی فن سے کام لیتے ہیں۔
ان کی تحریر میں ایک اور خوبی بے ساختگی ہے۔ ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ مصنف ہر جملے کو آئینے کے سامنے کھڑا کرکے سنوار رہا ہے۔ عبارت اپنے فطری بہاؤ کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ کہیں واقعہ ہے تو واقعہ، کہیں شخصیت ہے تو شخصیت، کہیں منظر ہے تو منظر۔ قاری کو کتاب پڑھتے ہوئے یہ احساس نہیں ہوتا کہ مصنف اس پر اپنی علمیت مسلط کر رہا ہے بلکہ یوں لگتا ہے:
مصنف پیچھے ہے، سیرت سامنے ہے۔
اور شاید یہی کسی سیرت نگار کی بڑی کامیابی ہے۔
شاہ مصباح الدین شکیل کا سیرت سے تعلق محض ایک کتاب تک محدود نہیں تھا۔ ان کی متعدد تصانیف سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس سے متعلق موضوعات پر ہیں۔ ان کی ’’سیرت النبی البم‘‘ اور بعد کی کتاب ’’نشانات ارض قرآن‘‘ بھی خاصے کی چیز اور خصوصی مطالعہ کے لائق ہے۔
کتاب کا ایک بڑا حسن یہ بھی ہے کہ مصنف واقعات کو صرف خشک تاریخی مواد کے طور پر نہیں چھوڑتے۔ قاری کو زمانے کا احساس ہوتا ہے، مقامات کا تصور بنتا ہے، واقعات ایک دوسرے سے جڑتے ہیں اور حیات طیبہ ایک مسلسل داستان کی صورت سامنے آتی ہے اور سیرت کی کتاب کے لیے اس سے بڑھ کر کیا مطلوب ہے کہ قاری صرف یہ نہ جانے کہ کیا ہوا بلکہ اسے یہ بھی محسوس ہو کہ وہ واقعہ کس ماحول میں ہوا، کن لوگوں کے درمیان ہوا اور اس واقعے کی معنویت کیا تھی۔
’’مہکتی کتابیں‘‘ میں ہم عموماً ایسی کتابوں کی بات کرتے ہیں جس نے علم بھی دیا ہو اور خوشبو بھی محسوس کرائی ہو۔
سیرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں علم کی خوشبو کے ساتھ اسلوب کی سادگی بھی ہے۔
یہ کتاب مشکل نہیں بننا چاہتی، قاری کو ڈرانا نہیں چاہتی، اپنے صفحات کی کثرت سے مرعوب نہیں کرتی۔ یہ بس چاہتی ہے کہ آپ اسے کھولیں، پڑھنا شروع کریں اور پھر داستان الف لیلہ کی طرح ایک واقعے سے دوسرے واقعے تک خود چلتے چلے جائیں۔
سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے لئے نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دل کی دنیا بدلنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے ایسی کتابیں جو سیرت کو عام قاری کے قریب لے آئیں، اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
لفظوں کی نمائش سے پاک، نہ عبارت کے تکلف سے دور، علمی رعب کے شور سے نفور ، قصہ گوئی کی بے احتیاطیوں سے مبرا، بس ایک سادہ، رواں اور بے ساختہ نثر ہے اور اس نثر کے سامنے حیات طیبہ کا وہ آفتاب ہے جس کی روشنی کے لیے کسی مصنوعی چراغ کی ضرورت نہیں۔
