دوسری قسط
گجرات کے مکاتب کا نظام
دینی تعلیم کی ایک مسلمان کے لیے جو اہمیت ہے اسے بیان کرنے کی چنداں حاجت نہیں، خاص طور پر جب چہار جانب کفر و شرک زدہ ماحول ہو تو ایسے میں اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، اس حوالے سے تجربہ یہی بتاتا ہے کہ نو خیز ذہنوں میں بنیادی عقائد اور اساسی ارکان کی بنیادی معلومات سلیقے سے جما دی جائے تو اس کے صراط مستقیم سے ہٹنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں. بلا شبہ دینی مدارس و جامعات کی بر صغیر میں اس حوالے سے زرین و روشن خدمات ہیں جن کا غیروں تک نے طوعا او کرھا اقرار و اعتراف کیا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مدارس کا قیام ہر بستی میں ممکن نہیں ہو سکتا، بہت سے علاقے اس حوالے سے ناگفتہ بہ حالات کے شکار ہوتے ہیں، لیکن دینی تعلیمات کو گھر گھر تک پہنچانے کے لیے مکاتب کا قیام اور اس کا منظم سلسلہ نہایت مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے، ہندوستان کے تقریباً ہر صوبے میں یہ نظام کسی نہ کسی طرح انفرادی یا اجتماعی کوششوں سے جاری و ساری ہے، ہر کوئی اپنے اپنے حلقے میں دین متین کی خدمت میں مصروف بھی، راقم نے ہندوستان کے مختلف صوبوں کا سفر کیا ہے اور واقعی مکاتب کی یہ تحریک بہت کامیاب محسوس ہوئی، لیکن اس حوالے سے سب سے زیادہ منظم، مرتب مکاتب اور اہل علم و علماء سے مربوط عوام گجرات میں نظر آئی وہ یقیناً دیگر صوبوں سے فائق ہے، ویسے اس حوالے سے ہر شخص کے اپنے اپنے تجربات ہو سکتے ہیں لیکن راقم کا یہی تجربہ ہے، چنانچہ اس سفر میں بھی مکاتب کی یہ خوبصورت لڑی بارہا دیکھنے کو ملی، بڑودہ شہر کی مسجد عمر میں عشاء کے لیے اذان سے کچھ پہلے ہی جانا ہوا تو وہاں بالائی منزل سے پیارے پیارے معصوم بچوں اور بچیوں کو نیچے اترتے دیکھا، بچوں کی آمد ہوتی رہی اور ہوتی ہی رہی، کافی دیر تک یہ سلسلہ جاری رہا، بعد میں معلوم ہوا کہ تقریباً ساڑھے تین سو بچے اس وقت مکتب میں پڑھنے آتے ہیں جن کے لیے متعدد نوجوان و تجربہ کار اساتذہ کی ایک جماعت موجود ہے.
اسی طرح شہر کی دوسری مسجدوں کا نظام پایا، یہاں بچوں کو دینی تعلیم کے لیے ترغیب و تشکیل کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ مسجد انتظامیہ اتنی چاق و چوبند ہوتی ہے کہ محلے کے ہر ہر فرد سے اس کا مضبوط رابطہ ہوتا ہے، ادھر بچے کا شعور بیدار ہوا اور اسکول میں اس کی آمد و رفت شروع ہوئی ادھر مکتب میں بھی اسی ٹائمنگ کی ترتیب سے کسی نہ کسی بیچ میں اس کا نام لکھ لیا جاتا ہے. چنانچہ مکتب میں اس کی آمد ویسے ہی لازم ہوتی ہے جیسے اسکول جانا ضروری ہوتا ہے. ان مکاتب کا بنیادی مقصد چوں کہ نونہالانِ قوم کو دین سکھانا ہوتا ہے اس لیے غیر ضروری اصول و ضابطے یہاں کم ہی نظر آتے ہیں، مثلاً اگر اسکول انتظامیہ نے بچے کی کلاس کا وقت بدلا تو خود بخود مکتب کی ٹائمنگ بھی بدل جاتی ہے. اسی طرح مکتب کی ہر جماعت میں اتنے ہی بچے رکھے جاتے ہیں جن پر استاذ مکمل توجہ دے سکے.
بچوں کی ترغیب اور شوق کے لیے وقتا فوقتاً مختلف عنوانات سے مسابقے بھی ہوتے رہتے ہیں جن میں عمدہ کارکردگی والوں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے.
بڑودہ کا ایک مثالی نو خیز ادارہ
ہمارے دوست اور میزبان مفتی سید مصباح الدین قاسمی صاحب آج کل بڑودہ کے ایک نوخیز ادارے میں تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دے رہے ہیں، یہ ادارہ چند سالوں پہلے جناب مولانا قاری محمد ساجد صاحب نے قائم کیا تھا، بانی ادارہ بچوں کی نفسیات کے مطابق قاعدہ اور قرآن کریم پڑھانے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں، انداز تدریس ایسا کہ غبی سے غبی بچے بھی کچھ دنوں میں فر فر پڑھتے نظر آتے ہیں، گزشتہ سفر میں بھی ان کے ادارے "جامعہ انوار القرآن” میں آنا ہوا تھا، تب سے اب تک کافی تبدیلیاں ہو چکی ہیں اس لیے اس ادارے کا ذکر لازم ہے، کرائے کے تین الگ الگ مکانات میں خدمت انجام دینے والے اس ادارے کے پاس طلبہ و طالبات کی کوئی کمی نہیں ہے، بلکہ فی الحال تو انھیں مزید داخلوں کے لیے بھی کافی غور کرنا ہوتا ہے کہ بچے کو کس جگہ بٹھایا جا سکتا ہے. باشعور طالبات کی تعلیم کا نظام بالکل الگ اور منظم ہے جنھیں پڑھانے کے لیے معلمات کا اسٹاف موجود ہے، طالبات کے لیے عربی درجات کا بھی نظم ہے، مشکاۃ تک کی جماعت قائم ہے جس میں مفتی مصباح الدین صاحب سے متعلق مشکاۃ ہی کا سبق ہے، مرد اساتذہ کے لیے پردے میں پڑھانے کا نظام ہے. ادارے کے پاس اسباب کم ہیں لیکن خدمت دین اور تعلیم قرآن کے جذبے سے سرشار بانی ادارہ اور ان کی پوری ٹیم کا حوصلہ، جدوجہد اور اسلوب تدریس دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ عنقریب اس ادارے کا شمار گجرات کے بہترین اداروں میں ہوگا. ان شاء اللہ
اللہ کے فضل و کرم نے مسلسل کوشش اور محنت کے نتیجے ادارے کے لیے تاندلجہ ہی میں اپنی زمین کا نظم کرا دیا ہے جس پر تعمیری کام جاری ہے، امید ہے کہ فضل باری تعالی کے نتیجے میں ہمارے اگلے سفر تک ادارہ اپنی عمارت میں منتقل ہو جائے گا. ان شاء اللہ
اسی ادارے کی ایک عمارت میں جانا ہوا، سہ منزلہ مکان کسی خوش نصیب بندہ خدا نے مدرسے کو عاریتاً دے رکھا ہے، اس عمارت کے تمام کمرے معصوم بچوں اور بچیوں کے شور سے معمور تھے، ایسا شور جو تعلیم و تعلم سے مربوط شخص کے کانوں میں رس گھولتا ہے، کسی درس گاہ سے حروف تہجی کی صدا بلند ہو رہی ہے، تو کسی سے حرکات کے قواعد کی آواز آ رہی ہے، کوئی درس گاہ قواعد کے اجراء سے معمور ہے تو کسی میں بچوں سے سوال و جواب ہو رہا ہے. ہر کمرہ بچوں سے بھرا ہوا، حتی کہ باورچی خانے کے لیے بنایا گیا کمرہ بھی درس گاہ بنا ہوا اور جگہ ناکافی ہونے پر کچھ بچے گیس چولہے کے سلیپ پر بیٹھے ہوئے. واضح رہے کہ یہاں قاعدے اور ناظرہ وغیرہ کا سبق اجتماعی ہوتا ہے، اس کا طریقہ کار یہ دیکھا کہ قاعدہ اور سپارہ تو ہر بچے کے سامنے ہوتا ہے لیکن سبق سامنے بورڈ پر لکھ کر پڑھایا جاتا ہے، اگر چند آیات پڑھانی ہیں تو معلم پہلے بورڈ پر آیت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لکھتے ہیں، ان کا اجراء کراتے ہیں اور اسی طرح سبق آگے بڑھتا ہے. نیز چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی معلم بنایا جاتا ہے، مثلاً حروف تہجی لکھنے کے لیے کسی بھی بچے یا بچی کو بلایا جاتا، وہ بورڈ پر مثلاً "ب” لکھتا، اور بچوں کو نقطوں کی پہچان بتاتا، نقطوں کو گھٹا کر اور بڑھا کر یا ان کی جگہ بدلنے سے جو تبدیلی آتی ہے اس کو سمجھاتا. واقعی ابتدائی بچوں کے لئے یہ طریقہ کار بہت مفید محسوس ہوا. معلمین کی ٹیم میں کچھ نوجوان دیکھے اور کچھ عمر دراز و تجربہ کار، اکثر کا کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا تجارتی مشغلہ اور شام کو کچھ ساعات اس خدمت کے لیے مخصوص. اللہ تعالی ادارے کو شاد و آباد رکھے اور بانی و اساتذہ سے یوں ہی مخلصانہ جذبے کے ساتھ خدمت لیتا رہے. آمین

ڈابھیل کی روحانی اور پر کیف فضا
جمعہ کے دن ہمارا ارادہ گجرات کی مشہور و معروف اور مستند تعلیم گاہ، بقول بعض گجرات کے دیوبند "جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل” جانے کا تھا، چنانچہ دوپہر کا کھانا کھا کر ہم تینوں مفتی برکت اللہ، مفتی مصباح الدین اور راقم ڈابھیل کی جانب رواں دواں تھے، ایکسپریس وے پر تیز رفتار سے دوڑتی گاڑیوں اور عمدہ موسم کے درمیان ہم عصر کے وقت اس تاریخی گاؤں میں تھے جہاں امام العصر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری علیہ الرحمہ نے دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ سے اختلاف اور استعفے کے بعد اپنے مایہ ناز تلامذہ کے ساتھ 1346ھ میں اپنی تمام تر علمی جلوہ سامانیوں کے ساتھ کوچ فرمایا تھا، اس تاریخی واقعے کو آپ کے جانشین فخر المحدثین حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیری علیہ الرحمہ نے "نقش دوام” میں یوں لکھا ہے :
"دارالعلوم سے ترک تعلق:- دیوبند میں حضرت شاہ صاحب کا وفور علم پورے شباب پر تھا کہ بدقسمتی سے دار العلوم دیوبند میں ایک شورش برپا ہوئی جس کی تفصیلات درد انگیز ہیں۔ اس فتنے کا اثر حضرت مرحوم کے قلب پر آخر تک رہا اور شاداب صحت کو ایک گھن لگ گیا۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ علم کے اس آفتاب منیر کو ہنگامہ دار العلوم اور فتنۂ قادیانیت نے وقت سے پہلے غروب کر دیا۔ اس دور میں آپ کو دیکھنے والے اس کی تصدیق کریں گے کہ غم و اندوہ کی ایک آگ آپ کے اندر سلگ رہی تھی جس نے صحت کے ڈھانچے کوخاکستر کر دیا۔ 1345ھ میں استعفا دے دیا اور ایک مرتبہ پھر ارادہ فرمایا کہ گوشہ نشین ہو کر امت کی خدمت دوسرے شعبوں میں کی جائے مگر جس علم کی شہرت اقصائے عالم میں پھیل چکی تھی اس سے استفادہ کی محرومی کوئی کب برداشت کر سکتا۔ چنانچہ دیوبند سے علیحدگی کے ساتھ ہی علماء اور اہل مدارس کے وفود آپ کی خدمت میں پہنچے۔ مگر "گجرات” کی زمین اس سعادت کو لے اڑی اور معمولی مشاہرہ پر ضلع سورت کی ایک بستی ڈابھیل کی دینی درسگاہ میں درس حدیث کی ذمہ داری کو قبول فرما لیا۔ اس دور میں گجرات کے بعض اکابر نے مبشرات بھی دیکھے۔ چنانچہ مولانا احمد بزرگؒ جو "جامعہ اسلامیہ” ڈابھیل کے پاک نہاد مہتمم گزرے ہیں انھوں نے 1346ھ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں خواب دیکھا کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی دہلی میں وفات ہو گئی، اس وحشت اثر خبر سے ایک پریشانی پھیلی ہوئی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جسدِ مبارک جنازہ پر ہے جسے ڈابھیل لایا گیا زندگی کے آثار جسدِ مبارک پر نمایاں ہو رہے ہیں لیکن بیماری کا غلبہ ہے، میں ارادہ کرتا ہوں کہ جسدِ اطہر کو حجرہ میں منتقل کر دیا جائے اور میں آپ کے بدنِ مبارک پر حصولِ برکت کے لئے اپنا ہاتھ پھیروں جسدِ مبارک اٹھایا جاتا ہے تو جتنا اٹھایا جاتا ہے اتنا ہی تندرست اور صحتیاب ہوتا جاتا ہے اگرچہ بعض حصوں کو اٹھانے میں بڑی دشواری پیش آئی۔ مولانا احمد بزرگؒ نے اپنا یہ خواب دیوبند حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحبؒ کو لکھ کر بھیجا اور تعبیر چاہی۔ مفتی صاحب نے تحریر فرمایا کہ ”افسوس کہ علمِ حدیث ان اطراف سے رخصت ہوا اور اس کی نشأۃِ ثانیہ ڈابھیل میں ہوگی۔“ جس وقت یہ خواب دیکھا اس وقت شاہ صاحب دیوبند سے جدا نہیں ہوئے تھے لیکن دیوبند کا قضیۂ نامرضیہ شباب پر تھا۔ جب آپ کی دیوبند سے علیحدگی کا اعلان ہوا تو مولانا احمد بزرگ گجرات کا ایک ذی اثر وفد لے کر دیوبند پہنچے اور ڈابھیل کے لئے دعوت پیش کی مولانا محمد بن موسیٰ افریقی جو شاہ صاحب کے خصوصی خادم بلکہ فدا کار عاشق تھے ڈابھیل کے لئے آمادہ کرنے میں بہت کارآمد ثابت ہوئے چنانچہ ان کے اصرار و خواہش پر ڈابھیل کا قیام منظور فرما لیا ڈابھیل کی غیر مشہور درسگاہ مرحوم کی تشریف آوری کے بعد ”جامعہ اسلامیہ“ کے نام سے مشہور ہوئی. علامہ کے دور میں طلباء کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ تھی تمام ہندوستان سے کھنچ کر طلباء حدیث ڈابھیل پہنچنے لگے اور آپ کی شہرت علمی کی وجہ سے اس درسگاہ کو وہ مرکزیت حاصل ہوئی کہ جامعہ ”منتخب“ مدارس میں شمار ہونے لگا۔ 1347ھ سے تا 1351ھ یعنی پانچ سال آپ نے مسلسل حدیث کا درس دیا۔ تدریس کے علاوہ تبلیغ کے فریضہ سے بھی غفلت نہ کی چنانچہ بہت سی بدعات و محدثات جو اہل گجرات کے رگ و ریشہ میں داخل ہو چکے تھے آپ کی جدوجہد سے ختم ہوئے، کتنے ہی لوگ تھے جن کے دلوں میں دین اور علمائے دین کی محبت پیدا ہو گئی اور کتنی وہ زندگیاں ہیں جو آپ کی پاکیزہ ہمنشینی سے صفائیِ باطن کی پیکر بنیں، کتنے ہی وہ دماغ ہیں جن میں زہد و قناعت کے اثرات جاگزیں ہوئے، تسلیم کرنا ہوگا کہ گجرات کی زمیں پر خیر وبرکت، رشد و ہدایت کی یہ ضیا پاشیاں مرحوم کی مساعی کا کرشمہ ہیں۔” (نقش دوام، ص 42-47)
یہ قافلہ ڈابھیل پہنچا اور وہاں فروکش ہو کر اس سرزمین کی قسمت میں چار چاند لگا دیے، جس کو سمجھنے کے لیے مذکورہ منقول عبارات کافی ہیں، آج بھی یہاں اس قافلے اور کارواں سے وابستگی کو فخر سمجھا جاتا ہے، سال گزشتہ اسی کاروانِ علم کی آمد کے شکرانے کے طور پر نہایت کامیاب، عظیم الشان اور منظم و مرتب صد سالہ تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں نہ صرف یہ کہ ادارے کے ابنائے قدیم مدعو تھے، ادارے کی تعلیمی، تصنیفی اور اصلاحی خدمات کا جائزہ لیا گیا وہیں قافلۂ امام العصر کی نسل در نسل میں موجود افراد کو اعزاز بخشا گیا.
اس ادارے میں پہنچ کر جو روحانیت، سکون اور نورانیت ہم نے محسوس کی معذرت کے ساتھ بہت سی بڑی جگہوں پر ہمیں وہ کیفیات نہ مل سکیں، مجھے اس پر تھوڑی حیرانی بھی تھی کہ آخر اس کا بنیادی سبب کیا ہو سکتا ہے؟ ادارے کے وسیع احاطے میں تفریح کرتے ہوئے کچھ طلبہ سے معلوم ہوا کہ "یہاں موبائل پر مکمل پابندی ہے، نہ صرف ملٹی میڈیا موبائل پر، بلکہ چھوٹا فون رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے”

بس یہی وہ مین پوائنٹ تھا جس کی مجھے تلاش تھی، مجھے یقین کامل ہے کہ یہاں کی روحانیت، نورانیت اور پر کیف ماحول میں اس ایک ضابطے کا بہت بڑا کردار تھا، اسی کے سبب طلبہ تفریح کر رہے تھے، اسی کے سبب کچھ طلبہ مسجد میں ذکر و اذکار میں مشغول تھے، کچھ یوں ہی چمن میں دائرہ کر کے بیٹھے ہوئے محور گفتگو تھے، کچھ طلبہ دوڑنے کی ورزش کر رہے تھے جب کہ کچھ مہمانان رسول فٹ بال کھیل رہے تھے.
ملٹی میڈیا موبائل نے ہمارا اور آئندہ نسل کا جو نقصان کیا ہے وہ نا قابل تلافی محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر طلبہ عزیز کے لیے تعلیمی دورانیہ میں اس کا استعمال زہر ہلاہل سے کم نہیں، جہاں ان کی تمام تر توجہ تکرار، مطالعہ، تحریری و تقریری صلاحیت کو پروان چڑھانے میں صرف ہونی چاہیے تھی وہ اب ویڈیو گرافی، ریل سازی، یوٹیوب اور فیس بک کے مونیٹائزیشن میں لگتی دکھائی دیتی ہے، کچھ دنوں پہلے کسی نامعلوم شخص کی یہ تحریر پڑھی تو لگا کہ کسی نے دل کی بات لکھ دی ہے:
"بعض دینی مدارس کی پہچان مستقبل میں شاید صرف اتنی رہ جائے کہ ان سے کتنے ویلاگر، یوٹیوبر اور سوشل میڈیا ورکر نکل رہے ہیں۔ حقیقی علم اور علمی گہرائی کے لیے کوشاں لوگ ایسے اداروں سے تیار نہیں ہو سکتے جن کے طلبہ دوران طالب علمی ہی ویلاگز اور حشویات میں سرتاپا مصروف رہیں۔ یہ ایک ایسا نشہ ہے کہ سبق کے اوقات میں بھی طالب علم کے ذہن پر سوار رہتا ہے، اور دوسرے طلبہ کو بھی متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔
هدانا الله !
ڈابھیل کی عالی شان مسجد، پر فضا ماحول، بلند و بالا عمارتوں پر مشتمل دارالاقامہ و دارالحدیث، قدیم و جدید کتابوں کے ذخیرے پر مشتمل لائبریری کے علاوہ یہاں” کاشانۂ انور” نامی ایک تاریخی عمارت ہے جس کے نام سے ہی اس کی اہمیت کا علم ہو جاتا ہے، یہاں کی دیواروں پر لگے ہوئے کچھ تاریخی کتبوں وغیرہ سے معلوم ہوا کہ یہ قیام گاہِ اکابر ہے، جسے زمانہ قدیم میں "بنگلہ” کہا جاتا تھا، یہ عمارت 1929ء میں حضرت مولانا احمد بزرگ سملکی (اول) کے دور اہتمام میں تعمیر ہوئی تھی جس کا صرفہ اس زمانے میں 9 ہزار روپے آیا تھا، شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی علیہ الرحمہ کی معروف تفسیر اور فتح الملہم شرح مسلم کا اکثرتحریری کام یہیں پر ہوا تھا۔
اسی طرح معلوم ہوا کہ یہاں امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیری، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، حضرت مولانا سعید احمد اکبرآبادی، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی، حضرت علامہ یوسف بنوری، حضرت مولانا شریف حسن دیوبندی، حضرت مولانا واجد حسین دیوبندی وغیرہ جیسے کئی اکابر نے قیام کیا ہے.
ایک کتبے پر ماہنامہ برہان کے حوالے سے حضرت مولانا سعید احمد اکبرآبادی علیہ الرحمہ کا یہ اقتباس بھی درج تھا:
"دو تین برس میں نے شیخ العرب والعجم حضرت الاستاذ مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری رح اور اُن کی جماعت کے ساتھ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل ضلع سورت، گجرات میں گزارے ہیں، اُن کو میں تعلیم و تربیت کے لحاظ سے اپنی زندگی کے بہترین سال شمار کرتا ہوں؛ کیوں کہ اگرچہ دیوبند کے شش سالہ قیام میں بھی درس و تدریس کے علاوہ اکابر اساتذہ کی معیت و صحبت کے فیض وشرف سے بار یاب رہا لیکن ڈابھیل کی بات ہی اور تھی۔ یہاں ایک عالیشان کوٹھی تھی ، جس کے مختلف کمروں میں حضرت شاہ صاحب رح ، مولانا شبیر احمد عثمانی رح، حضرت مفتی عزیز الرحمن عثمانی رح، مولانا سراج احمد رشیدی رح ، مولانا بدر عالم میرٹھی رح، مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی رح ، مولانا مفتی عتیق الرحمن صاحب عثمانی رح اور یہ خاکسار ؛ ہم سب ایک جگہ رہتے تھے۔
چوبیس گھنٹے کا ساتھ، کھانا، پینا، نشست و برخاست ، سب یکجا ؛ اس لیے ان بزرگوں کو خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی، ہر رنگ اور ہر شکل میں دیکھا اور ان سے مستفید ہوا ۔ اللہ اکبر علم و عمل ، صلاح و تقوی اور امانت و دیانت کے کیسے پیکر تھے یہ لوگ ! بعض اوقات خیال ہوتا تھا کہ صدیاں بیچ میں حائل ہو گئی ہیں، ورنہ یہی حضرات اگر عہد نبوت میں ہوتے تو ان میں کوئی عبد اللہ بن عمر ہوتا ، کوئی عبد اللہ بن عباس اور کوئی عبد اللہ بن مسعود ۔
( نظرات ، ماہنامہ برہان دہلی ؛ شعبان 1400ھ)
ایک عمارت "دارِ انور” کے نام سے تھی جس کا سنگ بنیاد علامہ کشمیری نے 1931ء میں رکھا تھا، ان کے علاوہ دارالحدیث کا نام "دارِ اشرف” تھا جس کا سنگ بنیاد حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ نے 1919ء میں رکھا تھا.
