Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

سفر نامۂ گجرات

عید الاضحٰی کے بعد سے امتحان ششماہی اور ششماہی کے بعد سے سالانہ امتحان تک؛ مدارس کے تعلیمی نظام میں یہ دو میعاد کافی طویل ہوتی ہیں،
عید الاضحٰی کے بعد سے امتحان ششماہی اور ششماہی کے بعد سے سالانہ امتحان تک؛ مدارس کے تعلیمی نظام میں یہ دو میعاد کافی طویل ہوتی ہیں،

سفر گجرات 2026ء

(پہلی قسط)

بدر الاسلام قاسمی

استاذ جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند

عید الاضحٰی کے بعد سے امتحان ششماہی اور ششماہی کے بعد سے سالانہ امتحان تک؛ مدارس کے تعلیمی نظام میں یہ دو میعاد کافی طویل ہوتی ہیں، اول الذکر میں میں تعلیم اپنے عروج پر ہوتی ہے، جب کہ دوسرے مرحلے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے پیش نظر مقررہ نصاب کی تکمیل بھی کافی اہمیت کی حامل ہوتی ہے. ان دونوں میعادوں کے درمیان اگر ششماہی امتحان کے بعد تعطیل کے نام پر تھوڑا سا وقفہ استراحت مل جائے تو یہ طلبہ و اساتذہ؛ دونوں میں نشاط کا سبب بنتا ہے. چناں چہ راقم نے اسی وقفے کو مزید نشاط انگیز اور فرحت بخش بنانے کے لیے ششماہی امتحان کے معا بعد اپنے دو مخلص دوست مفتی مصباح الدین قاسمی اور مولانا وحید الدین قاسمی کی دعوت پر گجرات کے معروف شہر بڑودہ جانے کا ارادہ کیا. سفر کے کچھ ضمنی مقاصد بھی تھے جن کا ذکر آگے آئے گا.

اسلامی ہدایت تو پہلے سے ہے کہ تنہا سفر سے گریز کیا جائے، الصادق المصدوق رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشادات اس پر گواہ ہیں، البتہ سیاسی اعتبار سے بھی گزشتہ کچھ سالوں سے ملکی صورت حال ہماری مخصوص وضع قطع والوں کے لیے تشویش ناک رہی ہے، ایسے میں رفیق سفر منتخب کیا اپنے درسی ساتھی اور متحرک و فعال شخصیت مفتی برکت اللہ قاسمی کو جو مونگیر کے ایک ادارے جامعۃ الرشید کے بانی و روح رواں ہیں اور وہیں ایک مرکزی مسجد کے امام بھی.

دیوبند سے دس بجے دہرہ دون کوچی ولی ایکسپریس کے ذریعہ میں تقریباً ڈیڑھ بجے دہلی کے معروف ریلوے اسٹیشن حضرت نظام الدین میں تھا جہاں مفتی برکت اللہ میرے منتظر تھے، وہ آج صبح ہی مونگیر سے یہاں پہنچے ہیں.

آٹو سے ہم لوگ مشہور مسلم اکثریتی علاقے "شاہین باغ” پہنچے، یہاں مفتی برکت اللہ صاحب کے بھانجے کا فلیٹ ہے جو نوئیڈا میں ملازمت کرتے ہیں. دوپہر کا کھانا ہم نے شاہین باغ کے مشہور علاقے "40 فٹ روڈ” پر ایک ہوٹل میں کھایا، یہاں پورے علاقے میں صرف ہوٹل و ریسٹورنٹ ہیں، کھانے کی ہر قسم ویج، نان ویج، مغلئی، چائنیز، لکھنوی، مرادآبادی، ساؤتھ انڈین اور بھی بے شمار اقسام یہاں نہایت مناسب قیمت پر دستیاب ہے. کھانے کے شوقین لوگوں کے لیے یہ علاقہ کسی نعمت سے کم نہیں!

مولانا فیروز قاسمی کے یہاں عشائیہ

مکتبہ النور دیوبند کی نیک نامی اور شہرت میں جن افراد کا عمل دخل ہے ان میں سے ایک نمایاں نام مولانا فیروز قاسمی صاحب کا بھی ہے، کچھ سالوں پہلے ہم سایہ ملک کے نامور عالم دین اور مستند صاحب قلم حضرت مولانا ابن الحسن عباسی صاحب علیہ الرحمہ نے اپنے ماہنامہ "النخیل” کے ایک خصوصی شمارہ کا اعلان کیا تھا جس کا عنوان تھا "یادگار زمانہ شخصیات کا احوال مطالعہ”، دنیائے اسلام کی 80 سے زیادہ مشہور زمانہ علمی شخصیات و اہل قلم کے مطالعہ اور علمی سفر کی روداد، نئی نسل کے لیے مفید کتابوں کے انتخاب اور مطالعاتی زندگی کی رہنمائی پر مشتمل ایک سوالنامے کے جواب میں لکھی کی گئی ناقابل فراموش تحریروں کا یہ سدا بہار مجموعہ شائع ہوا اور اللہ تعالی نے اسے وہ مقبولیت بخشی کہ یہ کتاب ہمارے نوخیر اشاعتی ادارے مکتبہ النور کی شناخت بن گیا، ہندوستان بھر میں جہاں جہاں یہ کتاب پہنچی نیک نامی کا سبب بنی، اس کی اشاعت پر لوگوں نے گراں قدر تاثرات تحریر کیے، اپنے اداروں اور لائبریریوں کے لیے کثرت سے خریداری کی، طلبہ کو اس کے مطالعے کی ترغیب دی. یقیناً یہ مقبولیت اس کے علمی مواد اور سنہری ہدایات پر مشتمل تحریرات کے سبب تھیں، لیکن چہار جانب اس کا چرچہ اس کے اعلیٰ معیار طباعت کے سبب بھی ہوا، نفیس کاغذ، عمدہ و مضبوط جلدیں اور بہترین پیکنگ نے لوگوں کو اس کی تعریف پر مجبور کر دیا. یہاں اس کا ذکر اس لیے ہو رہا ہے کہ طباعت سے متعلق تمام حوصلہ بخش جملوں کا کریڈٹ دراصل مولانا فیروز صاحب کو ہی جاتا ہے. آپ کا آبائی وطن ضلع چمپارن بہار ہے، دارالعلوم دیوبند سے 1997 میں فارغ ہوئے اور دہلی میں مرکزی جمعیۃ علماء سے مربوط ہو گئے، صدر تھے حضرت مولانا فضیل احمد صاحب گورکھپوری، جنھوں نے کچھ سالوں پہلے ہی جمعیت علماء ہند سے الگ ہو کر اپنی تنظیم قائم کی تھی، مولانا فیروز صاحب مرنجا مرنج طبیعت کے مالک ہیں، خنداں و فرحاں چہرہ ان کی خاصیت اور لب و لہجے میں ایک خاص قسم کی بشاشت ان کا امتیاز ہے. معاملات کے صاف ستھرے اور نہایت جفاکش و محنتی!

عشائیہ کے لیے ہم لوگ مغرب بعد رکشے سے اوکھلا، پہلوان چوک پہنچے، یہیں پر مسجد غفار میں مغرب ادا کی، وضو خانے میں ایک چھوٹے سے اسٹیکر نے توجہ حاصل کی جس پر لکھا تھا : "نماز سکون دیتی ہے اگر سکون سے پڑھو تو!”

مسجد سے متصل غفار بلڈنگ میں مولانا فیروز صاحب کا فلیٹ تھا جہاں ان سے کافی دیر تک باتیں ہوتی رہیں.

جناب خالد اعظمی صاحب

میرے لیے بڑی مسرت کا موقع تھا کہ آج مولانا فیروز صاحب کے گھر پر والد گرامی کے خاص دوست جناب خالد اعظمی صاحب سے بھی ملاقات ہو گئی، آپ 1964 میں ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے، جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ میں تعلیم کا آغاز ہوا جو مگدھ یونیورسٹی اور پٹنہ یونیورسٹی سے ہوتے ہوئے جامعۃ الملک ریاض اور سوڈان کے معروف ادارے معھد الخرطوم میں تکمیل کو پہنچا، آپ گزشتہ تیس سالوں سے کویت میں بسلسلۂ ملازمت مقیم ہیں، یہاں ابو الفضل انکلیو میں بھی رہائش گاہ ہے، واٹس اپ اسٹیٹس پر اپنے سفر کی اپڈیٹ شیئر کرنے کا بعض مرتبہ بڑا فائدہ ہوتا ہے، آج خالد صاحب سے ملاقات بھی اسی کا نتیجہ تھی، اور یہ آپ کا بڑپن اور والد مرحوم سے مخلصانہ تعلق کی ایک علامت تھی کہ آپ راقم سے ملاقات کی خاطر مولانا فیروز صاحب کی دعوت پر یہاں پہنچے تھے. خالد صاحب نہایت تجربہ کار، ذہین اور ملکی و بیرونی معلومات رکھنے والی شخصیت ہیں، سیاسی پالیسیاں ہوں یا ملی تنظیموں اور اداروں کے نشیب و فراز، اکابر علماء ہوں یا دانشورانِ قوم، وہ اکثر کے ما لہ و ما علیہ سے واقف ہیں، ان کے یک سطری تبصرے کافی اہمیت رکھتے ہیں اور ایک خاص پس منظر بھی.

یہ عشائیہ نہیں بلکہ ایک یادگار محفل تھی جس میں کبھی حضرت مولانا فضیل صاحب کا ذکر خیر ہوا، آپ کی تنظیمی اور قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہوا، آپ کی تواضع و شفقت کو بھی یاد کیا گیا، ڈاکٹر منظور صاحب مرحوم کا بھی ذکر ہوا، حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی علیہ الرحمہ وغیرہ کو بھی یاد کیا گیا.

خالد بھائی کا ایک اشاعتی ادارہ بھی ہے "المنار پبلشنگ ہاؤس”، اس سے آپ کئی اہم علمی و تحقیقی کتابیں شائع کر چکے ہیں، کئی مطبوعات عربی کتب کے اردو ترجمہ کی شکل میں ہیں. آپ نے عشائیہ کے بعد ہمیں ایک ایک کتاب ہدیہ کی، جس کا نام ہے "سیرت رسول کے روشن پہلو”

صبح چھ بجے ہماری ٹرین حضرت نظام الدین سے تھی، راجدھانی ایکسپریس سے سفر کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ سامان سفر میں اشیائے خور و نوش رکھنے کی حاجت نہیں ہوتی.

ملٹی میڈیا موبائل کی آمد سے قبل عموماً مسافرین باہمی گفتگو، اخبار بینی اور میگزین وغیرہ پڑھنے میں وقت گزارتے تھے، بعض لوگ خصوصاً بچے کھڑکی کی نشست کے لیے جھگڑتے نظر آتے، اور مناظر قدرت سے لطف اندوز ہوتے. لیکن اب یہ سب ختم ہو چکا ہے، سب اپنی اپنی سیٹ پر چادر اوڑھے اور موبائل پر اسکرین جمائے گھنٹوں گزار دیتے ہیں، نہ انھیں مناظر قدرت سے کوئی دل چسپی ہوتی اور نہ ہی مختلف اسٹیشن پر فروخت کی جانے والی اشیاء سے کوئی رغبت. تقریباً سب کا یہی حال ہے.

بڑودہ

شام ساڑھے پانچ بجے ہم بڑودہ پہنچے، اسٹیشن پر ہمارے میزبان اور عزیز دوست مفتی سید مصباح الدین قاسمی موجود تھے، یہاں سے ان کے گھر کی مسافت بیس پچیس منٹ کی تھی، پہلے آپ کی اقامت بڑودہ کی قدیم آبادی مغلواڑہ، مانڈوی میں ہوا کرتی تھی، کچھ سال پہلے شہر کے نو آباد مسلم اکثریتی علاقے "تاندلجہ” میں منتقل ہو چکے ہیں.

گھر پہنچے تو مفتی صاحب کے بچوں سے ملاقات ہوئی، کچھ دیر میں آپ کے بھائی مولانا سید وحید الدین قاسمی بھی آ گئے. دونوں بھائیوں سے ہمارے گھر کا نہایت قریبی اور مخلصانہ تعلق ہے، زمانہ طالب علمی سے اب تک یہ تعلق حسب سابق مضبوط، بے غرض اور مخلصانہ ہے.

دارالعلوم محمودیہ ویگا

مولانا مصباح الدین کے دادا حضرت مولانا سید شمس الدین صاحب علیہ الرحمہ کی صوبہ گجرات میں بڑی وسیع خدمات ہیں، آپ شیخ الاسلام حضرت مدنی کے ہم عصر اور عاشق زار تھے، ان کے تینوں فرزندان دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے اور تاحیات علم دین کی اشاعت میں درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور اصلاح و مواعظ کے ساتھ مصروف رہے. حضرت مولانا مفتی مصلح الدین صاحب، حضرت مولانا مفتی قمر الدین محمود صاحب اور حضرت مولانا محی الدین صاحب، اول الذکر کی وفات انگلینڈ میں ہوئی، جب کہ باقی دونوں بڑودہ میں مدفون ہیں.

حضرت مولانا سید شمس الدین صاحب بڑودوی نے گجرات اور قرب و جوار کے صوبوں میں علمی، اصلاحی اور رفاہی خدمات انجام دینے کی غرض سے "اصلاح المسلمين” نامی ایک تنظیم قائم کی تھی، اسی تنظیم کے زیر انتظام ان کے فرند ارجمند حضرت مولانا مفتی قمر الدین محمود صاحب قاسمی علیہ الرحمہ نے 1985 میں بڑودہ شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ویگا نامی بستی میں "دارالعلوم” قائم کیا جو آج دارالعلوم محمودیہ کے نام سے جانا جاتا ہے.

ہم لوگ دارالعلوم محمودیہ کے لیے بڑودہ سے نکلے تو رستے میں ادارے کے موجودہ مہتمم محترم جناب مفتی عبد الواحد صاحب بھی ساتھ ہو گئے، یہ آپ سے میری پہلی ملاقات تھی، اگرچہ اس سے پہلے آپ کا کافی ذکر سن چکا تھا، دارالعلوم محمودیہ اپنے بانی کی وفات کے بعد کافی نشیب و فراز سے گزرا، مجلس شوریٰ نے اہتمام مفتی صاحب کے سپرد کیا تب سے آپ نہایت محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ دارالعلوم کو ترقیاتی مدارج طے کرا رہے ہیں، متحرک و فعال ہیں اور متواضع بھی.

اس سے پہلے جب بھی یہاں آنا ہوا تھا تو مدرسے میں داخل ہوتے ہی سامنے ایک دو منزلہ عمارت پر نظر ٹک جاتی تھی جو نہایت خوبصورت و پرکشش تھی، ناظرہ و حفظ کی درسگاہوں پر مشتمل یہ بلڈنگ آج ہمارے سامنے نہیں تھی، اس کے کچھ باقیات زمین پر نظر آیے، معلوم ہوا کہ عمارت بوسیدہ ہو چکی تھی اس لیے حفاظتی نقطہ نظر سے اسے ڈھا کر نئی عمارت کا ارادہ ہے، اللہ تعالی آسانیاں پیدا فرمائے. آمین

آفس بلڈنگ میں کچھ دیر بیٹھنا ہوا جہاں سے آج سے تقریباً 17/18 سال قبل دو بزرگ شخصیات حضرت مولانا مفتی مصلح الدین قاسمی اور حضرت مولانا مفتی قمر الدین قاسمی علیھما الرحمہ کے سامنے دو زانو بیٹھنا اور ان کی مشفقانہ گفتگو ذہن میں تازہ ہو گئی، آج وہ دونوں حضرات جوار رحمت میں منتقل ہو چکے ہیں لیکن ان کا لگایا ہوا یہ علمی و اصلاحی شجر امت کو حفاظ و علماء کی شکل میں رہنما فراہم کر رہا ہے، یقیناً یہ ان کے لیے ابدی راحت اور رفع مراتب کا ایک سبب ہے.

آفس میں چہار جانب دیواروں پر کچھ قیمتی عربیو اردو اشعار اور نصیحتیں چسپاں تھیں، جسے دفتر اہتمام میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، چند ملاحظہ فرمائیں :

1. رَحِمَ اللهُ امْرَءًا أَهْدَىٰ إِلَيَّ عُيُوبِي

(ترجمہ: اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے مجھے میرے عیبوں سے آگاہ کیا۔)

2.نَزَلْنَا هٰهُنَا ثُمَّ ارْتَحَلْنَا ❊ هَكٰذَا الدُّنْيَا نُزُوْلٌ وَّارْتِحَالٌ

يَظُنُّ الْمَرْءُ فِي الدُّنْيَا خُلُوْدًا ❊ خُلُوْدُ الْمَرْءِ فِي الدُّنْيَا مُحَالٌ

(ترجمہ: ہم یہاں آئے اور پھر کوچ کر گئے، دنیا یوں ہی آنے جانے کا نام ہے۔ انسان دنیا میں ہمیشہ رہنے کا گمان کرتا ہے، جبکہ انسان کا دنیا میں ہمیشہ رہنا ناممکن ہے۔)

.جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

آفس سے ہم لوگ مدرسے کی مسجد گئے جہاں ناظرہ، حفظ اور عربی کی جماعتوں کے متعدد حلقے تعلیم و تعلم میں مصروف تھے. وہیں پر چند طلبہ کا قرآن کریم سنا، جو نہایت شاندار انداز میں تلاوت کر رہے تھے. ایک طالب علم نے بہت ہی عمدہ لہجے میں اذان بھی سنائی، معلوم ہوا کہ یہاں طلبہ کو باقاعدہ اذان کی بھی مشق کرائی جاتی ہے. یہ میرے لیے تو ایک نیا تجربہ تھا.

ایک اور بات جس نے بہت متاثر کیا کہ اللہ کے فضل و کرم، مہتمم صاحب کی جدوجہد اور ذاتی تشکیل سے مطبخ کا پورا نظام "للہ” یعنی امداد کی رقم سے چل رہا ہے، زکاۃ و صدقات واجبہ کی رقم سے پاک یہ خوراکی نظام کئی اصحاب خیر کے خصوصی ماہانہ تعاون سے پورا ہوتا ہے. ان لوگوں کے لیے دل سے دعا ہے کہ اللہ ان کے رزق میں خوب برکتیں عطا فرمائے. آمین

کاش جس طرح مفتی صاحب نے یہ کوشش کی دیگر مدارس کے ذمہ داران بھی اس جانب توجہ فرمائیں تو واقعی اس کے اچھے نتایج سامنے آئیں گے، نیز آسمان چھوتی مہنگائی کے اس دور میں یہ ذاتی تشکیل اور محنت اگر اساتذہ و ملازمین کی قلیل تنخواہوں کو دوگنا یا سہ گنا کرنے کیلئے بھی ہو جائے تو شاید ہمارے فضلاء کا سب سے ذہین و فطین طبقے کا رجحان دوبارہ مدارس و مساجد کی جانب ہو جائے، ورنہ اس حوالے سے حالات اچھے نہیں ہیں اور ان سے آنکھیں موندنا بھی مسئلے کا حل نہیں ہے.

بس اب اتنا ہی، اگلی قسط میں ان امور پر کچھ تحریر کروں گا. ان شاء اللہ

گجرات کے مکاتب کا نظام

بڑودہ کا ایک مثالی نو خیز ادارہ

ڈابھیل کی روحانی اور پرکیف فضا

مدرسہ اصلاح البنات سملک وغیرہ

What do you think?