Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

فریبِ تمدن: ایک پرانی کتاب، آج کے زندہ سوالات

فریب تمدن اسی سوال کے گرد گردش کرنے والی ایک ایسی کتاب ہے جو جدید مغربی تہذیب کے اس چہرے کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہے جو اشتہارات، نمائش، مشینی ترقی اور ظاہری چمک دمک کے پیچھے کہیں چھپ جاتا ہے۔

نام کتاب : فریب تمدن

مصنف : اکرام اللہ ایم اے

مقدمہ : مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ

سن اشاعت : 1970ء

صفحات : 522

ناشر : اقبال پبلیکشنز، فتح گنج ،امین آباد روڈ، لکھنؤ

تبصرہ نگار:ناصرالدین مظاہری

مظاہرعلوم وقف سہارنپور

تمدن کا حسن بھی عجیب حسن ہے؛ دور سے دیکھیں تو آنکھیں چندھیا جائیں، قریب جائیں تو کبھی کبھی معلوم ہوتا ہے کہ روشنی کچھ زیادہ ہے اور حرارت کچھ کم۔ عمارتیں بلند، راستے کشادہ، کارخانے آباد، بازار جگمگاتے، مشینیں دوڑتی اور انسان بظاہر سہولتوں کے حصار میں؛ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سب کے بیچ انسان خود کہاں کھڑا ہے؟ اس کا دل کیسا ہے؟ اس کی نگاہ کتنی پاکیزہ ہے؟ اس کا ضمیر کتنا زندہ ہے؟ اس کے خیالات کتنے بلند اور اس کا ذوق کتنا لطیف ہے؟

فریب تمدن اسی سوال کے گرد گردش کرنے والی ایک ایسی کتاب ہے جو جدید مغربی تہذیب کے اس چہرے کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہے جو اشتہارات، نمائش، مشینی ترقی اور ظاہری چمک دمک کے پیچھے کہیں چھپ جاتا ہے۔

اکرام اللہ صاحب ایم اے نے مغربی تمدن کے اخلاقی اور معاشرتی پہلوؤں کا مفصل جائزہ مستند اعداد و اسناد کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض چند اعتراضات کا مجموعہ نہیں؛ مصنف نے ایک پورے تہذیبی نظام کے محرکات، اس کے مظاہر، اس کی روش اور پھر اس کے نتائج و اثرات کو سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کی فہرست ہی اس کے مزاج کا پتہ دے دیتی ہے:

حصۂ اول: محرکات

حصۂ دوم: فحش نگاری

حصۂ سوم: نتائج و اثرات

حصۂ چہارم: جدید تمدن کا جائزہ

یہ ترتیب بڑی معنی خیز ہے۔ مصنف پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ خرابی کی جڑ کہاں ہے، پھر اس کے نمایاں مظاہر میں فحش نگاری کو موضوع بناتے ہیں، اس کے بعد اس کے نتائج و اثرات کا جائزہ لیتے ہیں اور آخر میں جدید تمدن کے پورے ڈھانچے کو تنقید کی میزان پر رکھتے ہیں۔ یوں کتاب محض مغرب کیا کررہا ہے؟ کا جواب نہیں دیتی، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ وہ ایسا کیوں کررہا ہے اور اس کا انجام کیا ہورہا ہے؟

مغرب نے فطرت کے سینے میں چھپی ہوئی قوتوں کو تلاش کیا، ان کے راز کھولے، انہیں اپنے کام میں لگایا اور انسانی زندگی کو حیرت انگیز سہولتیں عطا کیں۔ مگر وہی فکر جب اخلاق کی پابندیوں سے آزاد اور خواہش کی سرکشی سے بے نیاز نہ رہے تو انسان کے لیے ایک نیا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ فطرت کی طاقتوں کو بے نقاب اور بے لگام کرنے والی عقل آخرکار انہی بے تاب قوتوں سے اپنے بنائے ہوئے آشیانے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ گویا انسان نے بجلی کو قابو کرنے کا ہنر تو سیکھ لیا، مگر یہ بھول گیا کہ بجلی ہاتھ میں ہو تو چراغ بھی جلتا ہے اور گھر بھی جل سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں فریب تمدن کا اصل سوال سامنے آتا ہے: کیا مادی قوت میں اضافہ ہی تہذیب ہے؟

اگر کسی تمدن کی چمک دمک بڑھتی جائے لیکن دل کا فساد بھی ساتھ بڑھتا جائے، اگر نگاہ کو آزادی تو ملے مگر حیا رخصت ہوجائے، اگر خواہش کو راستہ ملے مگر ضمیر کی آواز دب جائے، اگر فکر بلند پرواز ہونے کے بجائے شہوت کی غلام ہوجائے، اگر پاکیزگی، بلند خیالی اور لطیف ذوق انسانی زندگی سے رخصت ہوتے جائیں تو ایسی تہذیب کے بارے میں سوال اٹھانا عین انصاف ہے۔

انسانی تمدن کی اصل آزمائش شاید یہ نہیں کہ اس نے کتنی مشینیں ایجاد کیں، کتنے فاصلے سمیٹ لیے اور کتنی آسائشیں پیدا کردیں؛ اصل آزمائش یہ ہے کہ اس نے انسان کے اندر کیا پیدا کیا؟ اگر ہاتھ طاقت ور ہوگئے مگر دل کمزور، اگر آنکھیں دوربین ہوگئیں مگر نگاہ پاک نہ رہی، اگر عقل تیز ہوگئی مگر ضمیر سو گیا، تو یہ ترقی اپنی تعریف پر خود نظر ثانی کی محتاج ہے۔

اور پھر جدید تہذیب کی وہ چمک ہے جو دیکھنے والے کو خیرہ کردیتی ہے۔ ہر طرف صناعی، رنگ، روشنی، آرائش اور دل فریبی؛ مگر ہر چمک سونا نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی نگاہوں کو مسحور کردینے والی یہ پوری آرائش محض مصنوعی نگینوں کی باریک ریزہ کاری ہوتی ہے؛ دیکھنے میں قیمتی، چھونے میں بے قیمت۔ فریب تمدن اسی ظاہری جلوے اور باطنی حقیقت کے درمیان موجود فاصلے کو نمایاں کرتی ہے۔

کتاب کا ایک اہم امتیاز یہ بھی ہے کہ مصنف نے محض وعظ نہیں کیا بلکہ اپنے دعووں کو اعداد و اسناد سے سہارا دیا ہے۔ یہی چیز کتاب کو جذباتی ردعمل کی سطح سے اٹھا کر مطالعہ اور غور و فکر کی سطح پر لے جاتی ہے۔ قاری چاہے مصنف کی ہر رائے سے اتفاق کرے یا بعض مقامات پر اختلاف، کتاب اسے سوچنے پر ضرور مجبور کرتی ہے، اور یہی کسی سنجیدہ کتاب کی بڑی کامیابی ہے۔

کتاب کے آغاز میں اکرام اللہ صاحب کا افتتاحیہ بھی خاص توجہ کا مستحق ہے۔ یہ محض رسمی تمہید نہیں بلکہ پوری کتاب کی وجہ ترتیب، پس منظر اور مرکزی فکر کا خلاصہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اسے پڑھ کر آگے کے صفحات کی سمت اور مصنف کے پیش نظر مقصد دونوں زیادہ واضح ہوجاتے ہیں۔

اس پر مستزاد مولانا عبدالماجد دریابادی رحمہ اللہ کا مقدمہ ہے۔ ان کا قلم محض کتاب کا تعارف نہیں کراتا بلکہ موضوع کی فکری اہمیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ یوں کتاب کے آغاز ہی میں دو مختلف مگر باہم مربوط زاویے سامنے آجاتے ہیں: مصنف کی اپنی تشویش اور ایک صاحب نظر بزرگ کی علمی بصیرت۔

فریب تمدن 1970ء میں شائع ہوئی، 522 صفحات پر مشتمل ہے اور اردو زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب سے میرا تعلق صرف مطالعے تک محدود نہیں؛ تقریباً 2000ء کے آس پاس میں نے اسے مولانا عبدالہادی مظاہری، مالک مکتبہ فیض اصغر، سہارنپور سے چھپوایا تھا۔ بعض کتابیں آدمی پڑھتا ہے اور گزر جاتا ہے، بعض کتابوں کے ساتھ زندگی کی کوئی چھوٹی سی نسبت قائم ہوجاتی ہے؛ پھر کتاب صرف کتاب نہیں رہتی، ایک یاد بھی بن جاتی ہے۔

نصف صدی سے زیادہ پرانی یہ کتاب آج بھی اس لیے قابل مطالعہ ہے کہ تہذیب کے سوالات صرف تاریخ کے سوالات نہیں ہوتے۔

مشینیں بدل جاتی ہیں، لباس بدل جاتے ہیں، ذرائع ابلاغ بدل جاتے ہیں، بازار بدل جاتے ہیں، مگر انسان کے اندر کی بھوک، خواہش، کمزوری، اخلاق اور ضمیر کے سوال اپنی جگہ باقی رہتے ہیں۔ بلکہ بعض سوال وقت گزرنے کے ساتھ اور زیادہ سنگین ہوجاتے ہیں۔

البتہ میری نظر میں یہ کتاب کم عمر اور نوعمر طلبہ کے لیے نہیں؛ یہ پختہ عمر، پختہ فکر، صاحبان قلم، اہل مطالعہ اور فاضلین کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس کے مباحث کو صرف پڑھ لینا کافی نہیں، ان پر ٹھہرنا، سوچنا اور تہذیب کے ظاہری و باطنی دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

مختصر یہ کہ فریب تمدن تمدن کے خلاف کوئی سادہ سا نعرہ نہیں، بلکہ تمدن کے نام پر پیش کی جانے والی بہت سی چیزوں کو دوبارہ پرکھنے کی دعوت ہے۔ یہ پوچھتی ہے کہ چمک کو روشنی سمجھ لینے میں کہیں ہم دھوکا تو نہیں کھا رہے؟ مادی قوت کو انسانی عظمت سمجھنے میں کہیں ہم نے اصل انسان کو تو نہیں بھلا دیا؟ اور ترقی کے شور میں کہیں دل، ضمیر، حیا اور کردار کی آواز تو دب نہیں گئی؟

یہی اس کتاب کی اصل اہمیت ہے کہ یہ قاری کو صرف مغرب دیکھنے کے لیے نہیں کہتی، اپنی آنکھ سے دیکھنے کا سلیقہ بھی دیتی ہے۔

What do you think?