Nahda Network
یہ بھی پڑھیں

ہندوستان کس سمت جا رہا ہے؟

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، جہاں دستورِ ہند ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی شعائر ادا کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں ملک کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں ایسے واقعات اور پالیسی مباحث سامنے آئے ہیں

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، جہاں دستورِ ہند ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی شعائر ادا کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ملک کے سیاسی اور سماجی منظرنامے پر ایسے واقعات اور پالیسی مباحث سامنے آئے ہیں جنہوں نے نہ صرف مختلف مذہبی طبقات میں تشویش پیدا کی ہے بلکہ آئینی اقدار اور سیکولر جمہوری نظام پر یقین رکھنے والے شہریوں کو بھی غور و فکر پر مجبور کیا ہے۔

روز بروز سامنے آنے والے تشدد کے واقعات، آئینی اقدار سے متعلق تنازعات، عبادت گاہوں کے قریب اشتعال انگیز نعرے، سوشل میڈیا پر ہراسانی، ہجومی تشدد کے واقعات، عدم برداشت کے مظاہر اور تعلیمی و سماجی اداروں میں نظریاتی کشمکش جیسے مسائل ہندوستانی معاشرے کے لیے سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح عدلیہ، الیکشن کمیشن اور دیگر آئینی اداروں کی کارکردگی کے بارے میں اٹھنے والے سوالات بھی جمہوری نظام میں عوام کے اعتماد کے حوالے سے اہم بحث کو جنم دیتے ہیں۔

یہ مسائل صرف کسی ایک مذہبی یا سماجی طبقے تک محدود نہیں رہتے۔ جب معاشرے میں قانون کی بالادستی، مساوات، شفافیت اور ادارہ جاتی اعتماد کے بارے میں سوالات بڑھتے ہیں تو اس کے اثرات پورے ملک پر پڑتے ہیں۔ ایک مستحکم جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور ریاستی ادارے آئینی اصولوں کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

ہم مصنوعی ذہانت اور جدید اطلاعاتی ذرائع کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ آج ایک واقعہ چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے انسان کے سامنے تحقیق، طب، تعلیم، صنعت اور مواصلات کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ اطلاعات کے غلط استعمال، جھوٹی خبروں اور گمراہ کن بیانیوں کے پھیلاؤ کے خطرات بھی بڑھے ہیں۔

سوشل میڈیا نے رائے عامہ کی تشکیل کے طریقے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ کسی غلط یا غیر مصدقہ خبر کو بار بار نشر کیا جائے تو وہ بعض اوقات لوگوں کے ذہن میں حقیقت کا تاثر پیدا کر دیتی ہے۔ یہی صورت حال آگے چل کر معاشرتی کشیدگی، نفرت انگیز نعروں، ہجومی تشدد اور دوسرے منفی مظاہر کو تقویت دے سکتی ہے۔ اس لیے موجودہ دور میں میڈیا لٹریسی، ذمہ دار صحافت اور معلومات کی تصدیق پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔

ہر معاشرے کے کچھ بنیادی اصول اور سماجی حقائق ہوتے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی نظام اگر طویل عرصے تک عوامی احساسات، قانونی مساوات، ادارہ جاتی شفافیت اور جواب دہی کے سوالات کو نظر انداز کرے تو وقت کے ساتھ عوامی اعتماد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اقتدار کا استحکام صرف سیاسی طاقت سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور اداروں کی ساکھ سے بھی وابستہ ہوتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے سامنے بھی بے شمار مسائل ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے ممالک اپنی توجہ اداروں کی شفافیت، احتساب، پالیسی سازی، معاشی ترقی، تحقیق اور انسانی صلاحیتوں کے بہتر استعمال پر مرکوز کرتے ہیں۔ مذہب، زبان، برادری یا نسل کی بنیاد پر اختلافات کو سیاسی اور سماجی کشمکش کا مستقل ذریعہ بنانا کسی بھی معاشرے کے لیے دیرپا استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

جوابدہی ایک ایسا اصول ہے جو فرد اور ادارے دونوں کو اپنے فیصلوں کے نتائج پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مذہبی روایت میں بھی احتساب کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام انسان کو اس احساس کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے کہ اسے اپنے اعمال اور اپنے اختیارات کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔ اگر یہی تصور اجتماعی زندگی میں ذمہ داری، امانت اور انصاف کے اصولوں کے ساتھ نافذ ہو تو ریاستی اور سماجی نظام میں بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آج ہندوستان کے سامنے بنیادی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون سا مذہب، زبان یا برادری زیادہ طاقتور ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ملک کا نظام قانون کی حکمرانی، مساوات، شفافیت، جواب دہی اور تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے؟

اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کیے بغیر جمہوری طریقے سے برداشت کیا جا رہا ہے؟ کیا اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط ہو رہا ہے؟ کیا نوجوانوں کی صلاحیتیں مثبت قومی تعمیر میں استعمال ہو رہی ہیں؟ اور کیا جدید ٹیکنالوجی کو معاشرتی تقسیم کے بجائے تعلیم، تحقیق، ترقی اور باہمی تعاون کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے؟

دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور عالمی تجارت کے میدان میں ممالک ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ہندوستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی توانائی کو داخلی تقسیم اور باہمی کشمکش کے بجائے ترقی، تعلیم، تحقیق، روزگار، ادارہ جاتی مضبوطی اور سماجی ہم آہنگی پر مرکوز کرے۔

آخرکار کسی بھی ملک کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت، فوج یا آبادی نہیں ہوتی؛ اس کی اصل طاقت اس کے شہریوں کا اعتماد، اداروں کی ساکھ، قانون کی بالادستی اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان باہمی احترام بھی ہوتا ہے۔

اس لیے آج یہ سوال ہر ہندوستانی کے لیے غور طلب ہے: ہم کس سمت بڑھ رہے ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیسا ہندوستان چھوڑنا چاہتے ہیں؟

یہ سوال کسی ایک جماعت، مذہب یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل سے متعلق ہے۔ ایک مضبوط ہندوستان وہی ہوگا جہاں اختلاف کے باوجود مکالمہ باقی رہے، قانون سب کے لیے یکساں ہو، ادارے جواب دہ ہوں، اطلاعات ذمہ داری سے نشر ہوں اور ہر شہری کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ اس کے حقوق اور عزت کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

About the Author

H. Ahmad Haridwari

Editor

نہضہ نیٹ ورک کے ایڈیٹر، قارئین کے لیے اہم خبروں اور موضوعات کو درست، معتبر اور مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے مواد کی تدوین اور اصلاح کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔

View all stories →

What do you think?